aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "phatnaa"
فنا بلند شہری
died.1986
شاعر
فنا نظامی کانپوری
1922 - 1988
پروین فنا سید
1936 - 2010
خدا بخش لائبریری، پٹنہ
عطیہ کار
سلیمان شکوہ گارڈئر فنا
1831 - 1902
گورنمنٹ اردو لائبریری، پٹنہ
خانقاہ منعمیہ قمریہ، پٹنہ
ناشر
دارالاشاعت خانقاہ مجیبیہ، پٹنہ
تبسم فاطمہ
1972 - 2021
مصنف
فاخرہ نورین
بہار اردو اکیڈمی، پٹنہ
فدویٰ طوقان
1917 - 2003
فیاض الحق
فاطمہ انیس
فائزہ حمزہ
جسے تھا پھول کر پھٹنا ہی لازمسکڑ کر وہ غبارہ مر رہا ہے
حسن و شباب یار کا پھٹنا ہوا شروعگویاں غضب کہ ہو گیا فتنہ نیا شروع
پو پھاٹنا نہیں یہ مجھ سینہ چاک کے ہےہر صبح بار غم سے چھاتی فلک کی پھٹنی
دل پھٹنا آشا سے سینا
پرتو خور سے ہے شبنم کو فنا کی تعلیممیں بھی ہوں ایک عنایت کی نظر ہوتے تک
फटना پَھْٹنا
جو پھوٹ جائے ، ٹکڑے ٹکڑے ہونے والا ، نیز ٹوٹا ہوا .
سنسکرت
फाटना پھاٹْنا
رک، پھٹنا
पतना پَتْنا
وہ کپڑا جس سے پُچارا پھیرتے ہیں
पटना پَٹْنا
بھرنا ، پر ہونا.
دیوان فنا
دیوان
شعور فردا
محمد سعید اسعد
خطوط
ترجمہ کاری
تنقید
فنا نظامی
انتخاب
قرۃ العین حیدر کے افسانے:ایک تنقیدی وتجزیاتی مطالعہ
رئیس فاطمہ
خواتین کی تحریریں
رد فتنۂ مودودیت
سید انور علی
مقالات/مضامین
دیوان بتول در نعت رسول
بتول فاطمہ
خلیل خاں فاختہ
میر باقر علی
داستان
ادبی ترجمہ کے مباحث
ترجمہ
ترجمہ آئینۂ فردا میں
ایم۔ علی
آدھا آسمان
کہانیاں/ افسانے
لیکن جزیرہ نہیں
نسائیت
غالب شاعر امروزوفردا
فرمان فتح پوری
پٹنہ یونیور سٹی کے اردو تھیسس کا جائزہ
احمد یوسف
میرے خوابوں کی سرزمین
سفرنامہ
کیا بتاؤں کہ مر نہیں پاتاجیتے جی جب سے مر گیا ہوں میں
فاختہ کی مجبوری یہ بھی کہہ نہیں سکتیکون سانپ رکھتا ہے اس کے آشیانے میں
عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانادرد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا
کھلنے لگے قفلوں کے دہانےپھیلا ہر اک زنجیر کا دامن
بہت بے باک آنکھوں میں تعلق ٹک نہیں پاتامحبت میں کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے
وہ کہ خوشبو کی طرح پھیلا تھا میرے چار سومیں اسے محسوس کر سکتا تھا چھو سکتا نہ تھا
اک بار کہو تم میری ہوہاں دل کا دامن پھیلا ہے
بڑا احسان ہم فرما رہے ہیںکہ ان کے خط انہیں لوٹا رہے ہیں
اک درد کا پھیلا ہوا صحرا ہے کہ میں ہوںاک موج میں آیا ہوا دریا ہے کہ تم ہو
میں تجھے بھولنے کی کوشش میںآج کتنے قریب پاتا ہوں
کوئی مجھ تک پہنچ نہیں پاتااتنا آسان ہے پتا میرا
زہر ہی زہر ہے دنیا کی ہوا تیرے لیےرت بدل ڈال اگر پھولنا پھلنا ہے تجھے
ترے وعدوں پہ کہاں تک مرا دل فریب کھائےکوئی ایسا کر بہانہ مری آس ٹوٹ جائے
ہے آخر زندگی خون از بن ناخن بر آور ترقیامت سانحہ مطلب قیامت فاجعہ پرور
تھی جو اک فاختہ اداس اداسصبح وہ شاخ سے اڑی ہی نہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books