aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "saabir"
عاقب صابر
born.1994
شاعر
صابر ظفر
born.1949
علی جواد زیدی
1916 - 2004
صابر دت
1938 - 2000
ساحر لدھیانوی
1921 - 1980
محشر عنایتی
1909 - 1976
جاذب قریشی
1940 - 2021
سابیر ہاکا
born.1986
جوش ملیح آبادی
1898 - 1982
صابر وسیم
صابر
born.1975
صابر ابو ہری
born.1919
نوبہار صابر
1907 - 1984
فضل حسین صابر
1884 - 1962
صابر آفاق
born.1982
خوابوں سے نہ جاؤ کہ ابھی رات بہت ہےپہلو میں تم آؤ کہ ابھی رات بہت ہے
شام سے پہلے تری شام نہ ہونے دوں گازندگی میں تجھے ناکام نہ ہونے دوں گا
میں سوچتا ہوں مجھے انتظار کس کا ہےکواڑ رات کو گھر کا اگر کھلا رہ جائے
مدتوں بعد اٹھائے تھے پرانے کاغذساتھ تیرے مری تصویر نکل آئی ہے
اہم ترین ترقی پسند شاعروں میں شامل ، ممتاز فلم نغمہ نگار
شاعری میں صبر عاشق کا صبر ہے جو طویل ہجر کو وصال کی ایک موہوم سی امید پر گزار رہا ہوتا ہے اور معشوق اس کے صبر کا برابر امتحان لیتا رہتا ہے ۔ یہ اشعار عاشق اور معشوق کے کردار کی دلچسپ جہتوں کا اظہاریہ ہیں ۔
साबिरصابِر
عربی
مصیبت میں صبر کرنے والا، برداشت کرنے والا، ضبط کرنے والا
सबीسَبی
عربی, ہندی
غُلام بنانا، قید کرنا نیز جلا وطن کرنا
सबीصَبی
دودھ پیتا بچہ، نابالغ لڑکا، مجازاً: لڑکا، کمسن بیٹا، چھوکرا
सब्रصبر
کسی صدمے، حادثے یا تکلیف کا خاموشی سے برداشت کر لینا، مصیبت کے وقت شکوہ یا نالہ و فریاد کرنے سے باز رہنا، مصائب یا مشکلات میں ضبط و تحمّل سے کام لینا، برداشت، تحمل، شکیبائی
پاکستان میں اردو کے ترقیاتی ادارے
ڈاکٹر ایوب صابر
دیوان صابر
مخدوم علی احمد صابر
دیوان
تدوین متن کی روایت آزادی کے بعد
صابر علی سیوانی
زبان و ادب
یادوں کی برات کا خصوصی مطالعہ
صابر کمال
خود نوشت
مخدوم صابر کلیری
شبیر حسن چشتی نظامی
سوانح حیات
اقبال دشمنی، ایک مطالعہ
تحقیق
صابر سنبھلی
نعت
شعار زبان دانی
زبان
صابر شکوہ آبادی کے مرثیے اور سلام
عرفان ترابی
مرثیہ
تذکرہ صابر کلیریؒ
سخاوت مرزا
تذکرہ
معترضین اقبال
پاتال
غزل
تاریخ کشمیر اسلامی عہد میں
صابر آفاقی
ہندوستانی تاریخ
بلوچی زبان و ادب کی مختصر تاریخ
غوث بخش صابر
تاریخ ادب
عمر بھر لکھتے رہے پھر بھی ورق سادہ رہاجانے کیا لفظ تھے جو ہم سے نہ تحریر ہوئے
ملوں تو کیسے ملوں بے طلب کسی سے میںجسے ملوں وہ کہے مجھ سے کوئی کام تھا کیا
کچھ بے ٹھکانہ کرتی رہیں ہجرتیں مدامکچھ میری وحشتوں نے مجھے در بدر کیا
جانے کس کی آس لگی ہے جانے کس کو آنا ہےکوئی ریل کی سیٹی سن کر سوتے سے اٹھ جاتا ہے
خزاں کی رت ہے جنم دن ہے اور دھواں اور پھولہوا بکھیر گئی موم بتیاں اور پھول
لوگ کرتے ہیں خواب کی باتیںہم نے دیکھا ہے خواب آنکھوں سے
میں اکیلا ہوں تو بھی تنہا ہےہم بھی کتنے ہیں بے سہارے دیکھ
پھر وہی خواب وہی ضد نہیں عاقب صابرؔہم اصولوں سے بغاوت نہیں کرنے والے
اب اٹھاؤ نقاب آنکھوں سےہم بھی چن لیں گلاب آنکھوں سے
میں گزر کے آیا ہوں قبر سے کہ علاقہ رکھتا ہوں صبر سےمری روح میں کوئی اضطراب فنا نہ ہو کہیں یوں نہ ہو
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books