صبر پر شاعری

شاعری میں صبر عاشق کا صبر ہے جو طویل ہجر کو وصال کی ایک موہوم سی امید پر گزار رہا ہوتا ہے اور معشوق اس کے صبر کا برابر امتحان لیتا رہتا ہے ۔ یہ اشعار عاشق اور معشوق کے کردار کی دلچسپ جہتوں کا اظہاریہ ہیں ۔

رونے والے تجھے رونے کا سلیقہ ہی نہیں

اشک پینے کے لیے ہیں کہ بہانے کے لیے

آنند نرائن ملا

آگہی کرب وفا صبر تمنا احساس

میرے ہی سینے میں اترے ہیں یہ خنجر سارے

بشیر فاروقی

وہاں سے ہے مری ہمت کی ابتدا واللہ

جو انتہا ہے ترے صبر آزمانے کی

جوشؔ ملیح آبادی

بہت کم بولنا اب کر دیا ہے

کئی موقعوں پہ غصہ بھی پیا ہے

شمس تبریزی

چارۂ دل سوائے صبر نہیں

سو تمہارے سوا نہیں ہوتا

مومن خاں مومن

ایسی پیاس اور ایسا صبر

دریا پانی پانی ہے

وکاس شرما راز

صبر اے دل کہ یہ حالت نہیں دیکھی جاتی

ٹھہر اے درد کہ اب ضبط کا یارا نہ رہا

حبیب اشعر دہلوی

ہر چند تجھے صبر نہیں درد ولیکن

اتنا بھی نہ ملیو کہ وہ بدنام بہت ہو

خواجہ میر درد

صبر آ جائے اس کی کیا امید

میں وہی، دل وہی ہے تو ہے وہی

جلیل مانک پوری