aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "saakit"
ساقی فاروقی
1936 - 2018
شاعر
ساقی امروہوی
1925 - 2005
ثاقب لکھنوی
1869 - 1946
پنڈت جواہر ناتھ ساقی
1864 - 1916
امیر حمزہ ثاقب
born.1971
ثاقب امروہوی
مصنف
عبدالغفور ساقی
عبداللّٰہ ثاقب
born.2001
سبودھ لال ساقی
ثاقب کانپوری
1904 - 1985
ثاقب عظیم آبادی
1898 - 1974
شہاب الدین ثاقب
born.1957
ثاقب ہمراز
born.1995
نجم الثاقب
born.1960
عبدالحمید ساقی
قطار اندر قطار اپنی جگہ کھڑی ہوںیہ وقت ساکت ہو
وہ پیڑ جن کے تلے ہم پناہ لیتے تھےکھڑے ہیں آج بھی ساکت کسی امیں کی طرح
پاؤں ساکت ہو گئے ثروتؔ کسی کو دیکھ کراک کشش مہتاب جیسی چہرۂ دل بر میں تھی
کئی صدیوں سے جو ساکت پڑی ہےاب اس پر کائی جمتی جا رہی ہے
مدتوں سے ساکت و جامد ہے یہ نایاب دلکون اس دریا کی موجوں کی روانی لے گیا
ممتاز اوررجحان ساز جدید شاعر ۔ لندن مقیم تھے
آج کے شراب پینے والے ساقی کو کیا جانیں ، انہیں کیا پتا ساقی کے دم سے میخانے کی رونق کیسی ہوتی تھی اور کیوں مے خواروں کے لئے ساقی کی آنکھیں شراب سے بھرے ہوئے جاموں سے زیادہ لذت انگیزیز اور نشہ آور ہوتی تھیں ۔ اب تو ساقی بار کے بیرے میں تبدیل ہوگیا ہے ۔مگر کلاسیکی شاعری میں ساقی کا ایک وسیع پس منظر ہوتا تھا۔ ہمارا یہ شعری انتخاب آپ کو ساقی کے دلچسپ کردار سے متعارف کرائے گا ۔
सकीسکی
could
सकतीسَکْتی
دودھاری سیدھی تلوار، سیٹی
सक्तिسَکْتی
साकितساکِت
عربی
خاموش، چُپ چاپ، جو نہ بوے
ساکت کنارے
تالیف حیدر
مجموعہ
دیوان غالب
مرزا غالب
دیوان
بابائے اردو مولوی عبد الحق
تحقیق
اردو ساخت کے بنیادی عناصر
نصیر احمد خاں
زبان
مآثر عالمگیری
محمد ساقی مستعد خاں
تاریخ
انجمن ترقی اردو ہند کی علمی اور ادبی خدمات
تنقید
ہدایت نامہ شاعر
مضامین
آپ بیتی پاپ بیتی
سوانح حیات
اردو شاعری میں سانٹ
حنیف کیفی
شاعری تنقید
زمین ساکن ہے
احمد رضا خاں بریلوی
سرخ گلاب اور بدر منیر
کلیات
انجمن پنجاب کے مشاعرے
عارف ثاقب
رپورتاژ
کرفیو سخت ہے
انیس رفیع
افسانہ
ہندوستانی تاریخ
ترے اک اشارے پہ ساکت کھڑے ہیںنہیں کہہ کے سب سے گزر جانے والے
کیٹسؔ کی نظم ارسطوؔ کے حکیمانہ قولسنگ مرمر کی عمارت کی طرح ساکت ہیں
پاؤں ساکت ہیں مگر گھوم رہی ہے دنیازندگی ٹھہری ہوئی لگتی ہے رفتار کے ساتھ
ناخدا بے خود فضا خاموش ساکت موج آباور ہم ساحل سے تھوڑی دور پر ڈوبا کیے
خود تو ساکت ہے مثال تصویرجنبش غیر سے ہے رقص کناں
نگاہیں مضطرب اترا ہوا چہرہ زباں ساکتجو تھی اپنی وہی اب ان کی حالت ہوتی جاتی ہے
آج ساکت مثل حرف ناتماممرگ اسرافیل پر آنسو بہاؤ
ساکت کھڑا تھا وقت مگر تیشہ زن ہواپتھر کی تہہ سے زیبؔ نکالے گئی مجھے
میری تخئیل کی جھنکار کو ساکت پا کر!چوڑیاں تیری کلائی میں کھنک اٹھتی تھیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books