aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "saraape"
صغری صدف
شاعر
ڈاکٹر مبشرہ صدف 'غزل'
born.1986
انودل شمس
born.2000
سوربھ شرما صدف
born.1990
صبیحہ صدف
born.1972
مصنف
سیدہ صدف اکبر
سنجیو صراف
born.1958
مترجم
صدف جعفری
صدف لکھنوی
1913 - 1983
مشتاق صدف
born.1969
بزم صدف انٹرنیشنل
عطیہ کار
صدف معصوم
born.1978
صدف فاطمہ
سجاد سخن
ملک راج صراف
1894 - 1989
بوڑھے سراپے ہیابھرتے ڈوبتے اور جھلملاتے ہیں
اپنی ہر بات میں وہ بھی ہے حسینوں جیسااس سراپے میں مگر نوک پلک ہے کتنی
نظر اس سراپے میں سو جا سے پلٹیزلیخائی یوسفستان کر کے
ملاحت میں اس کی چمک ہے غضب کیسراپے میں اس کے لچک ہے غضب کی
وہ پودے جن کے سراپے بڑے ملائم تھےہمارے دیکھتے لمحوں میں خار دار ہوئے
منتخب اشعار از ہزار داستان عشق - سنجیو صراف کا مرتبہ مترجمہ خوبصورت اردو اشعار کا مجموعہ سلیس انگریزی ترجمے کے ساتھ
सरापा سَراپا
قد و قامت
فارسی
scrape scrape
چِھیلْنا
सराए سَرَائے
مُسافر خانہ، قدیم زمانے میں آتے جاتے مسافروں کے سستانے اور ٹھہرنے کی جگہ
सर्राफ़ صَرّاف
۱. کھرا ، معاملے کا صاف.
عربی
اردو شاعری میں صنائع و بدائع
رحمت یوسف زئی
شاعری تنقید
تاریخ سادات امروہہ
جمال احمد نقوی
تذکرہ
فلسفۂ عشق
تنقید
اقبال کے صنائع بدائع
پروفیسر نذیر احمد
اقبالیات تنقید
سادات جاجنیری
سید عبدالقیوم چواروی
تحقیق / تنقید
سخن سرائے
منور رانا
غزل
سالار حجاز
نسیم حجازی
سلام عظیم
عظیم امروہوی
سلام
سلک سلام دبیر (دبیر کے سلاموں کا مجموعہ)
تقی عابدی
اردو صحافت، زبان، تکنیک، تناظر
صحافت
اخلاق سلف
محمد احمد پرتاپ گڑھی
اسلامیات
تذکرہ سادات عشری
سید معصوم رضا
سفر نامہ حج
غلام حسنین پانی پتی
سفر نامہ
انجیکشن بک باتصویر
رگھبیر سہائے بھارگو
طب
سوچتا ہوں کہ اس سراپے میںکس قدر سادگی رکھی گئی ہے
ایک بلور سی مورت تھی سراپے میں سحرؔچھن سے ٹوٹی ہے مگر ایک چھناکے میں سحرؔ
براجے دیوتاؤں کے سراپے سانولے تھےمگر اس وقت بھی کچھ حسن کا معیار اونچا تھا
چٹکیاں میرے سراپے میں نہ لوجامۂ ہستی چنا جاتا نہیں
داغ چھلے کا سراپے میں کدورت زا ہواگل رخوں نخل بدن میں گل ہے گل میں خاک ہے
یاد اس کے وہ گلنار سراپے نہیں آتےاس زخم سے اس زخم کو بھرتے ہوئے دیکھا
ادنیٰ ہے یہ اے جان سراپے کی لطافتپرچھائیں تری حور مجسم نظر آئی
وجود خاک سے باہر نکال دے گا وہمجھے بھی اپنے سراپے میں ڈھال دے گا وہ
رخصت کے بعد تیرے سراپے سے ماورایہ کون سی ادا ہے جو اب یاد آئی ہے
حسن پہ تیرے یہ رعنائی تری شان جو ہےیہ تری زلفوں میں خم جو ہے سراپے کی شبیہ
یہ آبلے نہیں نکلی ہے آنکھ ہر مو پرترا تو میرے سراپے نے انتظار کیا
سراپے کو ان کے نہ بیکار کہنایہ ہیں زندگی کا حسیں ایک گہنا
جو بجلیوں سی اتر کر ترے سراپے میںتجھے ہجوم دلآرام سے سوا کرتی
اس ایک لمحے خرد کی فرہنگ میں لکھے سب حروف رنگین ہو رہے تھےترے سراپے کو دیکھتے ہی حروف سارے قلم سے قرطاس پر اترنے کو ہاتھ باندھے کھڑے ہوئے تھے
حال اس نگہ کا اس کے سراپے میں کیا کہوںمور ضعیف پھنس گئی جا شہد ناب میں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books