aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "siyahkaar"
سپہ دار خان
مصنف
مکتبہ طبی شاہکار، لاہور
ناشر
شاہکار بک فاؤنڈیشن، کراچی
شاہکار
شاہکار بک ڈیپو، گورکھپور
مکتبہ شاہکار، الہ آباد
دفتر شاہکار، لکھنؤ
اردو شاہکار پبلی کیشنز، گجرانوالہ
شاہکار پبلی کیشنز، دہلی
مکتبہ شاہکار، کراچی
مکتبہ شاہکار، لاہور
دفتر شاہکار، ورانسی
شاہکار پبلیکیشنز، ڈھاکہ
ترکان سیہ کار اب کہ نہیںاو دیس سے آنے والے بتا
سحر و شام سر انجمن ناز نہ ہوجلوۂ حسن تو ہے عشق سیہ کار تو ہے
ہوں خطا کار سیاہ کار گنہ گار مگرکس کو بخشے تری رحمت جو گنہ گار نہ ہو
آفریں اشک ندامت کی درخشانی کواک سیہ کار کے چہرے پہ نکھار آ ہی گیا
سیہ کار تھے باصفا ہو گئے ہمترے عشق میں کیا سے کیا ہو گئے ہم
सियाहकार سِیاہ کار
عاصی، گنہ گار، فاسق، فاجر، ظالم، سن٘گدل
فارسی
سیہ کار
آشا رانی لکھوٹیا
معاشرتی
سیاہ کارعورتیں
مرزا حسین احمد بیگ
اخلاقیات
م۔ غوری
رومانی
شہکار عروض و بلاغت
انور مینائی
علم عروض / عروض
شاہکار اسلامی انسائیکلوپیڈیا
سید قاسم محمود
انسائیکلوپیڈیا
پریم چند کے شاہکار افسانے
پریم چند
افسانہ
انتون چیخوف کے شاہکار ڈرامے
آنتون چخوف
خواتین کے تراجم
شاہکار بیت بازی
محمد عاصم کاکوروی ندوی
بیت بازی
عرب و دیار ہند
مولانا بہاء الدین
تاریخ اسلام
گلزار انیس
میر انیس
مرثیہ
مکاشفة القلوب اردو
امام محمد غزالی
ترجمہ
اردو کی شاہکار غزلیں
خالد شریف
غزل
مختصر تاریخ مرثیہ گوئی مع شاہکار انیس
حامد حسن قادری
سیاحت سلطانی
شاہ بانو
سفرنامہ
سیاحت ہند
حافظ عبدالرحمٰن امرتسری
چلا ہے ہجرؔ سیہ کار بزم جاناں کوذلیل ہو کے یہ خانہ خراب آئے گا
اپنے سینے کے خزانوں کو لٹاتی ہوگیکارخانے بھی سیہ کار خداؤں سے رہائی پا کر
کس زلف کو سلجھائیں رقیبان سیہ کارچھوتا نہیں اس زلف کو پھر شانہ ہمارا
سیہ کار شب میںکوئی خون آلودہ باب عدالت
ترے در پہ آ گیا ہے یہ سیاہ کار شاطرؔمری بخش دے خطائیں کہ عطا شعار تو ہے
قہر خدا کی زد پہ کیوں آ نہ سکے سیاہ کارکس کی سپردگی میں تھے کس کی پناہ میں رہے
ہو مبارک سیاہ کار ریاضؔنور کی شکل نور کی صورت
سیاہ کار سیہ رو خطا شعار آیاتری جناب میں تیرا گناہ گار آیا
تری بندگی اور سیہ کار مجھ سایہ سر اور ترے آستانے کے قابل
ہم جفاکار وفا ہیں ہمیں مطلوب نہیںحاصل زلف سیاہ کار سزا ہو کہ نہ ہو
گر پڑے دانت ہوئے موئے سر اے یار سفیدکیوں نہ ہو خوف اجل سے یہ سیہ کار سفید
دلا بجے کہیں گھڑیال تا میں گھڑیوں کاحساب اس شب ہجر سیاہ کار سے لوں
بستۂ انتشار ہیں طالب زلف یار ہیںاس کے سیاہ کار ہیں رنج طلب بلا طلب
حشر میں فضل سے اپنے مجھے حق نے بخشاگو کہ دنیا میں کوئی مجھ سا سیہ کار نہ تھا
دکھائے گا کسے محشر میں اپنا منہ انجمؔسیاہ کار بھی ہے اور رو سیاہ بھی ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books