aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "sua.itar"
ساغر صدیقی
1928 - 1974
شاعر
عرفان ستار
born.1968
ساغر خیامی
1936 - 2008
ساغر نظامی
1905 - 1984
ساغرؔ اعظمی
1944 - 2004
سعدیہ صفدر سعدی
born.1986
امتیاز ساغر
ساغر مہدی
1936 - 1980
سفر نقوی
born.1998
قاضی عبد الستار
1933 - 2018
مصنف
صفدر مرزا پوری
1870 - 1930
عمران ساغر
صفدر سلیم سیال
1936 - 2018
عبد المجید ساغر
born.1984
ساغر سیالکوٹی
born.1951
ویراں ہے مے کدہ خم و ساغر اداس ہیںتم کیا گئے کہ روٹھ گئے دن بہار کے
مژدۂ عشرت انجام نہیں پا سکتازندگی میں کبھی آرام نہیں پا سکتا
عشق نازک مزاج ہے بے حدعقل کا بوجھ اٹھا نہیں سکتا
تری نازکی سے جانا کہ بندھا تھا عہد بوداکبھی تو نہ توڑ سکتا اگر استوار ہوتا
تمہارا دل مرے دل کے برابر ہو نہیں سکتاوہ شیشہ ہو نہیں سکتا یہ پتھر ہو نہیں سکتا
سفر شاعری میں ایک عام سفربھی ہے اورحرکت کا استعارہ بھی ۔ منزل کو پالینے کیلئے سفرہی بنیادی شرط ہے ۔ شاعروں نے سفرکی مشکلوں اوران کے نتیجےمیں حاصل ہونے والی خوشیوں کا الگ الگ ڈھنگ سے اظہارکیا ہے ۔ یہ شاعری زندگی کےمشکل لمحوں میں حوصلے کا ذریعہ بھی ہے۔
کشتی ،ساحل ، سمندر ، ناخدا ، تند موجیں اور اس طرح کی دوسری لفظیات کو شاعری میں زندگی کی وسیع تر صورتوں کے استعارے کے طور پر برتا گیا ہے ۔ کشتی دریا کی طغیانی اور موجوں کی شدید مار سے بچ نکلنے اور ساحل پر پہنچنے کا ایک ذریعہ ہے ۔ کشتی کی اس صفت کو بنیاد بنا کر بہت سے مضامین پیدا کئے گئے ہیں ۔ کشتی کے حوالے سے اور بھی کئی دلچسپ جہتیں ہیں ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے ۔
دیوان ساغر صدیقی
دیوان
شعور
ذیشان الحسن عثمانی
افسانہ
جستجو کا سفر
ناول
لوح جنوں
مجموعہ
اردو سفر نامے کی مختصر تاریخ
مرزا حامد بیگ
سفر نامہ
امرت ساگر اردو
طب
سفر نامہ ابن بطوطہ
ابن بطوطہ
اردو غزل کا تکنیکی، ہیئتی اور عروضی سفر
ارشد محمود ناشاد
غزل تنقید
ترقی پسند تحریک
علی احمد فاطمی
ادبی تحریکیں
برنیئر کا سفر نامہ ہند
فرانسس برنیر
غالب
ٹی این راز
شرح
مسالک السالکین فی تذکرۃ الواصلین
مرزا عبد الستار بیگ سہسرامی
قادریہ
رب سے جڑنے کا سفر
نامعلوم مصنف
نئی نظم کا سفر
خلیل الرحمن اعظمی
انتخاب
سفر نصیب
مختار مسعود
سفر میں دھوپ تو ہوگی جو چل سکو تو چلوسبھی ہیں بھیڑ میں تم بھی نکل سکو تو چلو
میں ترے ساتھ ستاروں سے گزر سکتا ہوںکتنا آسان محبت کا سفر لگتا ہے
وہ ہم سفر تھا مگر اس سے ہم نوائی نہ تھیکہ دھوپ چھاؤں کا عالم رہا جدائی نہ تھی
گو ہاتھ کو جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہےرہنے دو ابھی ساغر و مینا مرے آگے
اب جدائی کے سفر کو مرے آسان کروتم مجھے خواب میں آ کر نہ پریشان کرو
کیا بھلا ساغر سفال کہ ہمناف پیالے کو جام کر رہے ہیں
وہ کہ خوشبو کی طرح پھیلا تھا میرے چار سومیں اسے محسوس کر سکتا تھا چھو سکتا نہ تھا
ابھی اس طرف نہ نگاہ کر میں غزل کی پلکیں سنوار لوںمرا لفظ لفظ ہو آئینہ تجھے آئنے میں اتار لوں
نہ ہم سفر نہ کسی ہم نشیں سے نکلے گاہمارے پاؤں کا کانٹا ہمیں سے نکلے گا
کیا دکھ ہے سمندر کو بتا بھی نہیں سکتاآنسو کی طرح آنکھ تک آ بھی نہیں سکتا
کسی طرح تو جمے بزم مے کدے والونہیں جو بادہ و ساغر تو ہاؤ ہو ہی سہی
ہر کوئی دل کی ہتھیلی پہ ہے صحرا رکھےکس کو سیراب کرے وہ کسے پیاسا رکھے
ویسے تو اک آنسو ہی بہا کر مجھے لے جائےایسے کوئی طوفان ہلا بھی نہیں سکتا
کوئی اتنا پیارا کیسے ہو سکتا ہےپھر سارے کا سارا کیسے ہو سکتا ہے
ساگر سے ابھری لہر ہوں میں ساگر میں پھر کھو جاؤں گامٹی کی روح کا سپنا ہوں مٹی میں پھر سو جاؤں گا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books