aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "supurd-e-faraaz-e-daar"
مکتبۂ دار العلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ
ناشر
مطبوعۂ دارالطبع سرکار عالی
بی اے ڈار
مصنف
مکتبۂ دارالفرقان، دہلی
مطبوعات دارالہدیٰ، حیدرآباد
صوبیدار نرائن سنگھ
مدیر
مکتبۂ دارالعلوم، دیوبند
بانگ درا پبلیکیشنز، حیدرآباد
مکتبہ فلاح دارین
ندائے فاران اکیڈمی، ممبئی
ادارہ فلاح دارین، لاہور
مکتبہ فلاح انسانیت، کراچی
انجمن فلاح و بہود، لاہور
فلاح دارین ٹرسٹ، نئی دہلی
سرور ادب، لکھنؤ
ہر جنم پر بیاد سرو قداںجاں سپرد فراز دار کرو
فراز دار پہ اک دن سجا کے دیکھ ہمیںہمیں ہیں اہل وفا آزما کے دیکھ ہمیں
فراز دار کو ذوق جنوں تلاش کرےیہ دل کہ تیری نظر کا فسوں تلاش کرے
فراز دار پہ بھی میں نے تیرے گیت گائے ہیںبتا اے زندگی تو لے گی کب تک امتحاں میرا
نکل کر تیرے کوچے سے فراز دار تک پہنچےترے عاشق وفا کے آخری معیار تک پہنچے
عشق اور رومان پر یہ شاعری آپ کے لیے ایک سبق کی طرح ہے، آپ اس سے محبت میں جینے کے آداب بھی سیکھیں گے اور ہجر و وصال کو گزارنے کے طریقے بھی۔ یہ پہلا ایسا خوبصورت مجموعہ ہے جس میں محبت کے ہر رنگ، ہر کیفیت اور ہر احساس کو قید کرنے والے اشعار کو اکٹھا کر دیا گیا ہے۔ آپ انہیں پڑھیے اور عشق کرنے والوں کے درمیان شئیر کیجیے۔
ماں سے محبت کا جذبہ جتنے پر اثر طریقے سے غزلوں میں برتا گیا ہے، اتنا کسی اور صنف میں نہیں۔ ہم ایسے کچھ منتخب اشعار آپ تک پہنچا رہے ہیں، جو ماں کو موضوع بناتے ہیں۔ ماں کے پیار، اس کی محبت ، شفقت اور اپنے بچوں کے لئے اس کی جاں نثاری کو واضح کرتے ہوئے یہ اشعار جذبے کی جس شدت اور احساس کی جس گہرائی سے کہے گئے ہیں، اس سے متاثر ہوئے بغیر آپ نہیں رہ سکتے۔ ان اشعار کو پڑھئے اور ماں سے محبت کرنے والوں کے درمیان شئیر کیجئے ۔
فراز دار
کلام حیدری
نشیب و فراز
راشدالخیری
حرف سر دار
حبیب جالب
فراز نظر
رشید شہیدی
فراز نو
عقیل ہاشمی
Oct 1986
نشیب وفراز
امیر چند بہار
فراز خودی
افتخار احمد صدیقی
ترجمان دارالعلوم
افضال الحق جوہر قاسمی
فراز ہنر
ڈاکٹر ظفر مرادآبادی
قاسم نیازی
روزن و در
ساحل احمد
عبدالمنان تاجر
ناول
ضیا زخمی
مجموعہ
حسن سوز
غزل
سروشہ نصرین قاضی
افسانہ
گزشتہ شب جو ہستی بر فراز دار تھی میں تھاپھر اگلے دن جو سرخی شوکت اخبار تھی میں تھا
الجھے تو سب نشیب و فراز حیات میںہم تھے کہ ان کی زلفوں کے خم دیکھتے رہے
نہ جانے کس لیے قاتل کے اشک بھر آئےفراز دار پہ جب سامنا ہوا میرا
اتنا ہے فرازؔ دل مضطر کا فسانہمیرے لئے رو کر وہ دعا مانگ رہے ہیں
پست رکھو اپنی آوازوں کو ورنہ دور تکبات گھر کی رخنۂ دیوار و در لے جائے گا
روح اور بدن دونوں داغ داغ ہیں یاروپھر بھی اپنے بام و در بے چراغ ہیں یارو
تو سہی اک عکس لیکن یہ حصار آئنہلوگ تجھ کو دیکھنا چاہیں برون در تو آ
اپنے منصوروں کو اس دور نے پوچھا بھی نہیںپڑ گیا رخنہ صف دار و رسن میں ایسا
اور کیا نذر کروں اے غم دل دار فرازؔزندگی جو غم دنیا سے بچائی لے لے
کبھی تو ساتھ یہ آسیب وقت چھوڑے گاخود اپنے سائے کو بھی دیکھنا تو ڈر جانا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books