aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "supurd-e-faraaz-e-daar"
مکتبۂ دار العلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ
ناشر
مطبوعۂ دارالطبع سرکار عالی
مطبوعات دارالہدیٰ، حیدرآباد
مکتبۂ دارالفرقان، دہلی
بی اے ڈار
مصنف
صوبیدار نرائن سنگھ
مدیر
مکتبۂ دارالعلوم، دیوبند
بانگ درا پبلیکیشنز، حیدرآباد
سرور ادب، لکھنؤ
ندائے فاران اکیڈمی، ممبئی
شاہ فضل رسول قادری بدایونی
born.1799
ادارۂ درس قرآن، دیوبند
حلقہ درس قرآن، علی گڑھ
دارالاشاعت خانقاہ امجدیہ، سیوان
شعبۂ تنظیم ابنائے قدیم دارالعلوم دیوبند، سہارنپور
ہر جنم پر بیاد سرو قداںجاں سپرد فراز دار کرو
نکل کر تیرے کوچے سے فراز دار تک پہنچےترے عاشق وفا کے آخری معیار تک پہنچے
فراز دار پہ اک دن سجا کے دیکھ ہمیںہمیں ہیں اہل وفا آزما کے دیکھ ہمیں
فراز دار کو ذوق جنوں تلاش کرےیہ دل کہ تیری نظر کا فسوں تلاش کرے
فراز دار پہ بھی میں نے تیرے گیت گائے ہیںبتا اے زندگی تو لے گی کب تک امتحاں میرا
عشق اور رومان پر یہ شاعری آپ کے لیے ایک سبق کی طرح ہے، آپ اس سے محبت میں جینے کے آداب بھی سیکھیں گے اور ہجر و وصال کو گزارنے کے طریقے بھی۔ یہ پہلا ایسا خوبصورت مجموعہ ہے جس میں محبت کے ہر رنگ، ہر کیفیت اور ہر احساس کو قید کرنے والے اشعار کو اکٹھا کر دیا گیا ہے۔ آپ انہیں پڑھیے اور عشق کرنے والوں کے درمیان شئیر کیجیے۔
ماں سے محبت کا جذبہ جتنے پر اثر طریقے سے غزلوں میں برتا گیا ہے، اتنا کسی اور صنف میں نہیں۔ ہم ایسے کچھ منتخب اشعار آپ تک پہنچا رہے ہیں، جو ماں کو موضوع بناتے ہیں۔ ماں کے پیار، اس کی محبت ، شفقت اور اپنے بچوں کے لئے اس کی جاں نثاری کو واضح کرتے ہوئے یہ اشعار جذبے کی جس شدت اور احساس کی جس گہرائی سے کہے گئے ہیں، اس سے متاثر ہوئے بغیر آپ نہیں رہ سکتے۔ ان اشعار کو پڑھئے اور ماں سے محبت کرنے والوں کے درمیان شئیر کیجئے ۔
فراز دار
کلام حیدری
فراز خودی
افتخار احمد صدیقی
نشیب وفراز
امیر چند بہار
روزن و در
ساحل احمد
حرف سر دار
حبیب جالب
نشیب و فراز
سید اختر حسین
خود نوشت
ترجمان دارالعلوم
افضال الحق جوہر قاسمی
فراز سخن
نیر قریشی گنگوہی
مجموعہ
تاریخ دارالعلوم دیوبند
سید محبوب رضوی
زنجیر در
سیدہ شانِ معراج
راشدالخیری
فراز نظر
رشید شہیدی
فراز نو
عقیل ہاشمی
Oct 1986
مضامین ڈار
محمد ابراہیم ڈار
مضامین
تجویز دار العلوم ندوۃ العلما
نامعلوم مصنف
اسلامیات
گزشتہ شب جو ہستی بر فراز دار تھی میں تھاپھر اگلے دن جو سرخی شوکت اخبار تھی میں تھا
الجھے تو سب نشیب و فراز حیات میںہم تھے کہ ان کی زلفوں کے خم دیکھتے رہے
جو چل سکو تو چلو کہ راہ وفا بہت مختصر ہوئی ہےمقام ہے اب کوئی نہ منزل فراز دار و رسن سے پہلے
نہ جانے کس لیے قاتل کے اشک بھر آئےفراز دار پہ جب سامنا ہوا میرا
پست رکھو اپنی آوازوں کو ورنہ دور تکبات گھر کی رخنۂ دیوار و در لے جائے گا
تو سہی اک عکس لیکن یہ حصار آئنہلوگ تجھ کو دیکھنا چاہیں برون در تو آ
روح اور بدن دونوں داغ داغ ہیں یاروپھر بھی اپنے بام و در بے چراغ ہیں یارو
اپنے منصوروں کو اس دور نے پوچھا بھی نہیںپڑ گیا رخنہ صف دار و رسن میں ایسا
منکشف تھے ہم پہ اسرار جمالراز دار جلوۂ جاناں تھے ہم
کبھی تو ساتھ یہ آسیب وقت چھوڑے گاخود اپنے سائے کو بھی دیکھنا تو ڈر جانا
مانگتا کس سے مجھے سنگ سرافرازی دےکوئی دروازہ تو ہوتا ترے در سے اونچا
تم اسے کہہ لو حساب دوستاں در دل فضاؔہم نے اپنا نفع بھی لوح زیاں پر لکھ دیا
ہے در و بست معانی ان سےملکہ لفظوں کی پہچان میں رکھ
بارش سنگ الم اپنا مقدر ٹھہریراحت درد ملی لطف و کرم کے بدلے
اتنا ہے فرازؔ دل مضطر کا فسانہمیرے لئے رو کر وہ دعا مانگ رہے ہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books