aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "suruur"
سمجھتے تھے کہ وفا نا شناس ہے دنیاسرورؔ ہم کو بھی اک درد آشنا تو ملا
چالوں سے چرخ کی یہ مرا عزم ہے سرورؔاس سر زمیں پہ جاؤں جہاں آسماں نہ ہو
آل احمد سرور
1911 - 2002
مصنف
سرور بارہ بنکوی
1919 - 1980
شاعر
رجب علی بیگ سرور
1786 - 1869
سرور جہاں آبادی
1873 - 1910
قمر سرور
born.1975
ستیہ پال کوشک سرور
born.1934
سرور کامران
سرور انبالوی
born.1927
سرور مرزاپوری
مدیر
آل احمد صدیقی سرور
محامد سرور
سرور احمد
سید علی سرور
ناشر
سرور میرزائی
سرور اکبرآبادی
چہرے پہ خوشی چھا جاتی ہے آنکھوں میں سرور آ جاتا ہےجب تم مجھے اپنا کہتے ہو اپنے پہ غرور آ جاتا ہے
علم میں بھی سرور ہے لیکنیہ وہ جنت ہے جس میں حور نہیں
ساحل کے سکوں سے کسے انکار ہے لیکنطوفان سے لڑنے میں مزا اور ہی کچھ ہے
ان آنگنوں میں کتنا سکون و سرور تھاآرائش نظر تری پروا کیے بغیر
ہم جس کے ہو گئے وہ ہمارا نہ ہو سکایوں بھی ہوا حساب برابر کبھی کبھی
نئی نظم کو موضوعاتی اوراسلوبیاتی لحاظ سے ثروت مند بنانے میں اہم کردار ادا کیا
सुरूर سُرُور
دل و دماغ کی شگفتگی یا سکون بخش کیفیت، خوشی، فرحت، انبساط، کیف، سرشاری
عربی
ग़ुरूर غُرُور
گھمنڈ، تکبّر، نخوت، فخر
हुज़ूर حُضُور
موجودگی، حاضر ہونے کا عمل، حاضری (خارج میں ہو یا ذہن میں)، غیبت کا مقابل
ग़ुरूब غُرُوب
چاند یا سورج کا چھپنا، ڈوبنا
فسانۂ عجائب
داستان
فسانہ عجائب
افسانوی ادب
دانشور اقبال
اقبالیات تنقید
تنقید کیا ہے اور دوسرے مضامین
تنقید
اقبال اور ان کا فلسفہ
تفہیم البلاغت
زبان
نیر مسعود
نئے اور پرانے چراغ
ادب اور نظریہ
فسانہ عجائب با تصویر
ہندوستان میں تصوف
تحقیق / تنقید
آل احمد سرور کی ادبی خدمات
اظہار احمد
تحقیق
فکر روشن
مے خانۂ یورپ کے دستور نرالے ہیںلاتے ہیں سرور اول دیتے ہیں شراب آخر
فضا نیلی نیلی ہوا میں سرورٹھہرتے نہیں آشیاں میں طیور
یا صبح دم جو دیکھیے آ کر تو بزم میںنے وہ سرور و سوز نہ جوش و خروش ہے
جو فقر میں سرور ہے شاہی میں وہ کہاںہم بھی رہے ہیں نشۂ دولت میں چار دن
قطرۂ خون جگر سل کو بناتا ہے دلخون جگر سے صدا سوز و سرور و سرود
جن سے مل کر زندگی سے عشق ہو جائے وہ لوگآپ نے شاید نہ دیکھے ہوں مگر ایسے بھی ہیں
سرور مے پہ بھی غالب رہا شعور مراکہ ہر رعایت غم ذہن میں رکھی میں نے
میرے دل میں سرور صبح بہارتیری آنکھوں میں رات پھولوں کی
تیرا امام بے حضور تیری نماز بے سرورایسی نماز سے گزر ایسے امام سے گزر
خوشا وہ دور بے خودی کہ جستجوئے یار تھیجو درد میں سرور تھا تو بے کلی قرار تھی
رچا ہوا ہے بدن میں ابھی سرور گناہابھی تو خوف نہیں آئے گا سزا سے مجھے
پی لی تو کچھ پتہ نہ چلا وہ سرور تھاوہ اس کا سایہ تھا کہ وہی رشک حور تھا
ہلکا ہلکا سرور ہے ساقیبات کوئی ضرور ہے ساقی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books