aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "ta.nge"
ترغیب بلند
مدیر
بہاری لال تانگڑی
مصنف
مانگے تانگے کی قبائیں دیر تک رہتی نہیںیار لوگوں کے لقب القاب مت دیکھا کرو
تانگے والوں کا نامریل بانوں کے نام
چار کیلیں خاص کمرے میں نظر آئیں اسےتین کیلوں پر دوپٹے بھی نظر آئے ٹنگے
فلک پہ چاند ستارے ٹنگے ہیں صدیوں سےمیں چاہتا ہوں زمیں پر انہیں اتارے کوئی
چاند تاروں کی جگہ پرابر پر جگنوں ٹنگے تھے
टँगे ٹَنگے
ٹن٘گار ﴿رک﴾ سے تراکیب میں مستعمل۔
ताँगे تانگے
عاریۃً لے کر ، قرض لے کر ، اُدھار لے کر ۔
انگریزی
माँगे مانگے
مستعار یا ادھار لیا ہوا، مانگا ہوا، مانگا کی مغیرہ حالت، ترا کیب میں مستعمل
سنسکرت
रंगे رنگے
colored
کھونٹیوں پر ٹنگے لوگ
سرویشور دیال سکسینہ
شاعری
ایک ٹانگ کا آدمی
ابو ضیا اقبال
ناول
یہ تنگ زمین
ترنم ریاض
کہانیاں/ افسانے
ماؤسی تنگ
فکر تونسوی
سوانح حیات
دیوان ذوق
شیخ ابراہیم ذوقؔ
دیوان
بہادری کا تمغہ
سالک جمیل براڑ
افسانہ
ترغیب حساب
خواجہ حسن نظامی
تانیثیت
ایک ٹانگ کا بادشاہ
غلام عباس
ترغیب روزگار
محمد افضل حسین
تاریخ عرب
تاریخ
ہینگر میں ٹنگی نظمیں
فرحان حنیف وارثی
مجموعہ
طیف نثر
سید عبداللہ
تنقید
ملک خدا تنگ نیست
رفعت سعید قریشی
تنگ نائے غزل
انیس سلطانہ
غزل
شب تنہائی کا چاند
اظہار وارثی
تری چھت پر ٹنگے سب پیرہن سےتری خوشبو چرانا چاہتا ہوں
انگریزی سرکار کے چھورےتانگے والوں کو پیٹ رہے ہیں
سید غلام مرتضیٰ جیلانی میرے دوست ہیں۔ میرے ہاں اکثر آتے ہیں۔۔۔ گھنٹوں بیٹھے رہتے ہیں۔ کافی پڑھے لکھے ہیں۔۔۔ ان سے میں نے ایک روزکہا، ’’شاہ صاحب ! آپ اپنی زندگی کا کوئی دلچسپ واقعہ تو سنائیے!‘‘ شاہ صاحب نے بڑے زور کا قہقہہ لگایا، ’’منٹو صاحب ۔۔۔...
تانگے کا ایک گھوڑالنگڑا تھا تھوڑا تھوڑا
راستہ کس کے پاؤں سے الجھےکھونٹیوں پر ٹنگے ہوئے ہیں لوگ
ڈرو اس وقت سےتانگے کے آگے
شاہ محمد کے تکیے کا ایک حصّہ کاٹ کر اصطبل بنا لیا گیا تھا۔ یہ سب کچھ جبراً ہوا۔ آخر رمضان کی چھاتی بھی تو چوڑی تھی اور اس دیوہیکل جوان کو دیکھ کر سب کے حوصلے جواب دے جاتے تھے۔...
زبان حق کسی کے جبر سے بھی رک نہیں سکتیکہ نیزے کی انی پر بھی ٹنگے سر بول اٹھتے ہیں
اور دیواروں سے ٹانگے جا سکتے ہیںشاید انہیں یاد ہوتا ہے
املتاس کی سوکھی شاخوں پرٹنگے ہوئے ہیں صبر کے چیتھڑے
بھاگے ضرور عرصۂ تنگ خودی سے ہمنکلے مگر نہ دائرۂ آگہی سے ہم
چاند تارے آسمانوں میں ٹنگے ہیںرات کی تزئین ہوتی جا رہی ہے
اندھیرے میں ڈرا دیتے ہیں ہم کویہ کپڑے کھونٹیوں پر جو ٹنگے ہیں
یہ سر جو کاٹ کر ٹانگے گئے ہیں ان فصیلوں پراسی آتش بیانی سے رہیں گے بولتے برسوں
اب بھی ٹنگے ہوں گے وہاں تالے بن کرکچھ تمہارے کاندھے تک پہنچ پانے کی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books