aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "taba.o.n"
تاباں عبد الحی
1715 - 1749
شاعر
غلام ربانی تاباں
1914 - 1993
مہتاب رائے تاباں
انور تاباں
1944 - 2016
رہبر تابانی دریاآبادی
died.2023
مصنف
ابو جعفر محمد بن جریر الطبری
839 - 923
نہال تاباں
راغب الطباخ
مطبوعۂ دارالطبع سرکار عالی
ناشر
تاباں نقوی امروہوی
ظفر تاباں
مدیر
قمر تاباں
born.1975
شمس الدین تاباں
1922 - 1985
ظفر تاباں ایچ۔ پی۔
حبیبہ تاباں
پختہ طبعوں پر حوادث کا نہیں ہوتا اثرکوہساروں میں نشان نقش پا ملتا نہیں
کرے ہے کچھ سے کچھ تاثیر صحبت صاف طبعوں کیہوئی آتش سے گل کی بیٹھتے رشک شرر شبنم
تنگ آ کر جسم کو اے روح چھوڑا چاہئےطفل طبعوں کے لیے مٹی کا گھوڑا چاہئے
میں بھی بہت عجیب ہوں اتنا عجیب ہوں کہ بسخود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں
اگرچہ دیکھنے والے ترے ہزاروں تھےتباہ حال بہت زیر بام کس کا تھا
तारों تاروں
تارا (رک) کی جمع ، تراکیب میں مستعمل .
काओं کاؤں
crowing of crow
तानों تانوْں
رک : تان، نیزے کا وار، دان٘و
टाएँ ٹائیں
کسی کے بولنے یا چیز گرنے کی جرخت آواز عموماً تکرار کے ساتھ، تراکیب میں مستعمل.
تاریخ افکار و علوم اسلامی
1983مذہبیات
تبیین الکلام فی تفسیر التوراۃ و الانجیل علی ملۃ الاسلام
سر سید احمد خاں
2004مذہبیات
تفسیر ابن جریر
اسلامیات
ترجمۂ تاریخ طبری
1923تاریخ
دیوان تاباں
1935شاعری
میخانہ تہ حرف
1996تحقیق و تنقید
دہلی کے مشہور طبیبوں کا مطب
ڈاکٹر فضل الرحمٰن
تاریخ طبری (حصہ۔001)
1926تاریخ
سرورالہدیٰ
2006
تابعین
شاہ معین الدین احمد ندوی
1937
تاریخ طبری (حصہ-003،004)
1940تاریخ
انتخاب سراج اورنگ آبادی
1969شاعری
جدوجہد آزادی
1972دیگر
غلام ربانی تاباں شخصیت اور ادبی خدمات
اجمل علی اجملی
1993تحقیق و تنقید
مری دل کی تباہی کی شکایت پر کہا اس نےتم اپنے گھر کی چیزوں کی حفاظت کیوں نہیں کرتے
شعلہ بھڑک اٹھا مرے اس دل کے داغ سےآخر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے
ایک ہی تو ہوس رہی ہے ہمیںاپنی حالت تباہ کی جائے
اور تو کچھ نہیں کیا میں نےاپنی حالت تباہ کر لی ہے
رکھتی ہے جو کہ مجھ کو تباہ کرنے کےسارے منصوبے
ہوا کا ہاتھ بٹاؤں گا ہر تباہی میںہرے شجر سے پرندے میں خود اڑا دوں گا
سارے رشتے تباہ کر آیادل برباد اپنے گھر آیا
بکھری ہوئی وہ زلف اشاروں میں کہہ گئیمیں بھی شریک ہوں ترے حال تباہ میں
زندگی اپنے روگ سے ہے تباہاور درماں کی کچھ سبیل نہیں
پڑھنے والوں کے ناموہ جو اصحاب طبل و علم
دنیائے دل تباہ کئے جا رہا ہوں میںصرف نگاہ و آہ کئے جا رہا ہوں میں
ہمیں ہماری انائیں تباہ کر دیں گیمکالمے کا اگر سلسلہ نہیں کرتے
ہے آب نہر صورت آئینہ جلوہ گرتاباں ہے مثل چشمۂ خورشید ہر بھنور
دل کا تھا ایک مدعا جس نے تباہ کر دیادل میں تھی ایک ہی تو بات وہ جو فقط سہی گئی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books