aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "uqda"
ادا جعفری
1924 - 2015
شاعر
اقصیٰ فیض
born.1995
بیگم سلطانہ ذاکر ادا
born.1929
مصنف
اقرا عافیہ
born.1994
رضوانہ بانو اقرا
born.1988
اقرا عنبر
born.1983
اقصی لیاقت
آقا بیدار بخت خاں
قدیر احمد شاه اداء الآمری
مدیر
عائدہ راغبہ الجراح
سید حسین آقا
اقرا
ناشر
آقا حسین قلی خاں عظیم آبادی
اقراء نیاز احمد
عبدہ اعظمی
اے آہ میری خاطر وابستہ کے سوادنیا میں کوئی عقدۂ مشکل نہیں رہا
لکھا تھا ایک تختی پر کوئی بھی پھول مت توڑے مگر آندھی تو ان پڑھ تھیسو جب وہ باغ سے گزری کوئی اکھڑا کوئی ٹوٹا خزاں کے آخری دن تھے
شکست ذات کا اقرار اور کیا ہوگاکہ ادعائے وفا بھی نہیں رہا اب تو
بادل گرج رہا تھا ادھر محتسب ادھرپھر جب تلک یہ عقدہ نہ سلجھا شراب پی
کہانی آپ الجھی ہے کہ الجھائی گئی ہےیہ عقدہ تب کھلے گا جب تماشا ختم ہوگا
حسن کی ساری نزاکت اداؤں سے ہی ہے اور یہی ادائیں عاشق کیلئے جان لیوا ہوتی ہیں ۔ محبوب کے دیکھنے ،مسکرانے ، چلنے ، بات کرنے ، اورخاموش رہنے کی اداؤں کا بیان شاعری کا ایک اہم باب ہے ۔ ہم اچھے شعروں کا ایک انتخاب پیش کر رہے ہیں ۔
'उक़्दा عُقْدَہ
۳. (i) (مجازاً) راز، بھید ، پوشیدہ بات.
عربی
अखड़ा اُکْھڑا
: منتشر شدہ .
अकड़ा اَکْڑا
اکڑا کا حالیۂ تمام، اکڑا تکڑ، زورآوری اور کس بل دکھانے کی عادت
سنسکرت
अख़दा' اَخْدَع
بہت مکار، بہت جھوٹا
حل العقیدہ للقصیدۃ البردہ
قصیدہ
امراؤ جان ادا: ایک خصوصی مطالعہ
شاہد جمیل
فکشن تنقید
امراؤجان ادا
مرزا ہادی رسوا
ناول
امراؤ جان ادا
ابواللیث صدیقی
انڈا کیسے پھوٹا
محسن خاں
ڈراما
امراؤ طارق
مقالات/مضامین
جو رہی سو بے خبری رہی
خود نوشت
غزالاں تم تو واقف ہو
نظم
معاشرتی
اردو شاعری میں تصوف اور روحانی اقدار
سید رضا حیدر
شاعری تنقید
اکبر الہ آبادی
شمس الرحمن فاروقی
زاد العقبیٰ
میر سید علی ہمدانی
غزل نما
خواتین کی تحریریں
میرا عقیدہ
ابوالکلام آزاد
اخلاقیات
واللہ بے نشہ نہ رہی میری کوئی شاماکھڑا ہوا نشہ ہے مجھے مار دیجیے
افسوس یہ ہے کہ وہ مجھ سےکچھ اکھڑا اکھڑا رہتا ہے
وہ تو کہ عقدہ کشا و مسبب الاسبابیہ میں کہ آپ معمہ ہوں آپ اپنا ہی حل
رونے سے اے ندیم ملامت نہ کر مجھےآخر کبھی تو عقدۂ دل وا کرے کوئی
ہیں عقدہ کشا یہ خار صحراکم کر گلۂ برہنہ پائی
بستن عہد محبت ہمہ نادانی تھاچشم نکشودہ رہا عقدۂ پیماں مجھ سے
جنبش دل سے ہوئے ہیں عقدہ ہائے کار واکمتریں مزدور سنگیں دست ہے فرہاد یاں
وفور تلخ کامی سے یہ عقدہ کھل گیا آخرجو ہوتی ہے تو غم میں زندگی محسوس ہوتی ہے
گر کھلے دل کی گرہ تجھ سے تو ہم جانیں تجھےاے صبا غنچے کا عقدہ کھول دینا سہل ہے
یاں رہ گئے ہیں ناخن تدبیر ٹوٹ کرجوہر طلسم عقدۂ مشکل ہے آئنہ
برائے حل مشکل ہوں ز پا افتادۂ حسرتبندھا ہے عقدۂ خاطر سے پیماں خاکساری کا
عقدۂ عشق عجب عقدۂ مہمل ہے فراقؔکبھی لاحل کبھی مشکل کبھی آساں ہو جائے
سحر ہوئی تو یہ عقدہ بھی طائروں پہ کھلاکہ آشیاں ہی نہیں اب کے بال و پر بھی گئے
اپنے وجود کا ابھی عقدہ کھلا نہیںمصروف حل و عقد میں ارض و سما کے ہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books