aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ",qHiT"
دشت تنہائی میں دوری کے خس و خاک تلےکھل رہے ہیں ترے پہلو کے سمن اور گلاب
اسے تم فون کرتے اور خط لکھتے رہے ہو گےنہ جانے تم نے کتنی کم غلط اردو لکھی ہوگی
کھیت اپنے جلیں کہ اوروں کےزیست فاقوں سے تلملاتی ہے
رومال کئی ریشم سے کڑھےوہ خط جو کبھی میں نے نہ پڑھے
یا کوئی کھوٹ ہے تیرے دل میںیا میرا غم جھوٹا ہے
نہ کھل سکے کسی جانب محبتوں کے گلابنہ شاخ امن لئے فاختہ کوئی آئی
وہ کنول جن کو کبھی ان کے لیے کھلنا تھاان کی نظروں سے بہت دور بھی کھل سکتے ہیں
جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہیں روزیاس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو
جس کی بیٹی کو ڈاکو اٹھا لے گئےہاتھ بھر کھیت سے ایک انگشت پٹوار نے کاٹ لی ہے
کہ آرزو کے کنول کھل کے پھول ہو جائیںدل و نظر کی دعائیں قبول ہو جائیں
خط خون سے لکھنے کی رسمیںجب عام تھیں ہم دل والوں میں
وہ وقت مری جان بہت دور نہیں ہےجب درد سے رک جائیں گی سب زیست کی راہیں
میں نے جیبوں سے نکالیں سبھی سوکھی نظمیںتم نے بھی ہاتھوں سے مرجھائے ہوئے خط کھولے
جب شباب پر آ کرکھیت لہلہاتا ہے
یہ حسیں کھیت پھٹا پڑتا ہے جوبن جن کا!کس لیے ان میں فقط بھوک اگا کرتی ہے
یہ اک گلستاں ہے ہوا لہلہاتی ہے کلیاں چٹکتی ہیںغنچے مہکتے ہیں اور پھول کھلتے ہیں کھل کھل کے مرجھا کے
شہر سے دور کسی گاؤں میں رہ جانے کاکھیت کھلیانوں میں باغوں میں کہیں گانے کا
عمر بھر کی جو کمائی تھی گنوا آیا ہوںتیرے خط آج میں گنگا میں بہا آیا ہوں
سحر کا روشن افق یہیں ہےیہیں پہ غم کے شرار کھل کر
کس کو اب ہوگا وطن میں آہ میرا انتظارکون میرا خط نہ آنے سے رہے گا بے قرار
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books