aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ".kaew"
تخت فغفور بھی ان کا تھا سریر کے بھییوں ہی باتیں ہیں کہ تم میں وہ حمیت ہے بھی
دیکھ قائم رہے اس گواہی پہ ہمہم جو تاریک راہوں پہ مارے گئے
ہمیشہ سے بپا اک جنگ ہے ہم اس میں قائم ہیںہماری جنگ خیر و شر کے بستر کی ہے زائیدہ
کتنی صدیوں سے یہ وحشت کا چلن جاری ہےکتنی صدیوں سے ہے قائم یہ گناہوں کا رواج
رات میں جن کے بچے بلکتے ہیں اورنیند کی مار کھائے ہوئے بازوؤں میں سنبھلتے نہیں
خود اپنے سائے کی جنبش سے خوف کھائے ہوئےتصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں
تیری محفل کو خدا رکھے ابد تک قائمہم تو مہماں ہیں گھڑی بھر کے ہمارا کیا ہے
کاش میں تیرے حسیں ہاتھ کا کنگن ہوتاتو بڑے پیار سے چاؤ سے بڑے مان کے ساتھ
یہ ہم گنہ گار عورتیں ہیںجو اہل جبہ کی تمکنت سے نہ رعب کھائیں
پریت دھرم کا ناچ رہا ہےقائم ہندو راج کرو گے
ستارے عشق کے تیری کشش سے ہیں قائمنظام مہر کی صورت نظام ہے تیرا
میں ہو عیاں بل کھائے ہوئےاو دیس سے آنے والے بتا
جس میں دو بولتی آنکھیںچائے کی پیالی سے جب اٹھیں
اور کہہ رہے تھے میں اس گھڑے کا بانی ہوںچائے کے ساتھ غیبت کے کیک
ماں باپ منہ ہی دیکھتے تھے جن کا ہر گھڑیقائم تھیں جن کے دم سے امیدیں بڑی بڑی
وہ چائے کی پیالی پہ یاروں کے جلسےوہ سردی کی راتیں وہ زلفوں کے قصے
لیتے ہیں اپنے دل ہی دل میں مزےگویا گونگے کا گڑ ہیں کھائے ہوئے
ہے وہ استاد برا جو کہ جمائے ڈنڈےہے وہ شاگرد بھی بدھو کہ جو کھائے ڈنڈے
شاہوں سے جو کچھ ربط نہ قائم ہوا اپناعادت کا بھی کچھ جبر تھا کچھ اپنی زباں تھی
افسردہ ہیں گر ایام ترے بدلا نہیں مسلک شام و سحرٹھہرے نہیں موسم گل کے قدم قائم ہے جمال شمس و قمر
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books