aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "Tik"
مجھے اپنے جینے کا حق چاہیےزمیں جس پہ میرے قدم ٹک سکیںاور تاروں بھرا کچھ فلک چاہیےمجھے اپنے جینے کا حق چاہیےنعمتیں جو میرے رب نے دھرتی کو دیںصاف پانی ہوا بارشیں چاندنییہ تو ہر ابن آدم کی جاگیر ہیںیہ ہماری تمہاری کسی کی نہیںمجھ کو تعلیم صحت اور امید کیسات رنگوں بھری اک دھنک چاہیےمجھے اپنے جینے کا حق چاہیےنہ ہوا صاف ہے نہ فضا صاف ہےوہ جو آب بقا تھا وہ ناصاف ہےزمیں ہو سمندر ہو یا آسماںاک ذرا سوچیے اب کہ کیا صاف ہےموت سے پر خطر ہے یہ آلودگیدوستو دل میں تھوڑی کسک چاہیےمجھے اپنے جینے کا حق چاہیے
میرے اعضا پر اعتبار کرمیں حیرتوں کا انکار ہوںمختلف رنگ کے چراغاور پانیوں کی زبانیںآدمی انسان ہونے چلا تھا کہ کنواں سوکھ گیاکیا آدمی نے کنویں میں نفرت پھینک دی تھینہیںوہ صدا گنبد کو توڑتی ہوئیتھوڑا سا آسمان بھی توڑ لائی تھیچادر اور آواز کو تہہ کر کے رکھ دولوٹنے تک میری آواز دھرتی پہ گونجتی رہےجیسے جیسے تم جاؤ گےختم ہوتے جاؤ گےتم دو آنکھیں رکھنا مگر فاصلے کو بیدار مت کرناآنکھوں کی ٹک ٹک سارا جنگل جانتا ہے
پھر وہی ٹک ٹک گھڑی کی اور پرانے فاصلےپھر وہی آفس کی جلدی پھر وہی شکوے گلے
سگریٹ کے رقص کرتے دھوئیں سے مل کر،عجیب ماحول کر دیا ہےاور اس پہ اب یہ گھڑی کی ٹک ٹک نے،دل اداسی سے بھر دیا ہےکسی زمانے میں ہم نے،ناصرؔ، فرازؔ، محسنؔ، جمالؔ، ثروتؔ کے شعر اپنی چہکتی دیوار پر لکھے تھےاب اس میں سیلن کیوں آ گئی ہے۔۔۔۔؟ہمارا بستر کہ جس میں کوئی شکن نہیں ہے، اسی پہ کب سے،(وہ دائیں جانب، میں بائیں جانب۔۔۔۔)نہ جانے کب سے دراز ہیں ہم۔۔۔۔!!!میں اس سے شاید خفا نہیں ہوں،اسے بھی کوئی گلہ نہیں ہےمگر ہماری خمیدہ پشتیں جو پچھلی کتنی ہی ساعتوں سےبس ایک دوجے کو تک رہی ہیں۔۔۔۔وہ تھک گئی ہے
آئی وہ پنگھٹ کی دیوی، وہ پنگھٹ کی رانیدنیا ہے متوالی جس کی اور فطرت دیوانیماتھے پر سیندوری ٹیکا رنگین و نورانیسورج ہے آکاش میں جس کی ضو سے پانی پانیچھم چھم اس کے بچھوے بولیں جیسے گائے پانیآئی وہ پنگھٹ کی دیوی وہ پنگھٹ کی رانی
تم اپنے کمرے میں گہری تنہائیوں میں گم تھےگھڑی کی ٹک ٹک جو سوئی کو ٹیکتے گزرتیتمہیں یہ محسوس ہونے لگتاکہ جیسے سر پر کئی ہتھوڑے برس رہے ہیںتمہاری کرسی کی چرچراہٹتمہاری تنہائیوں پہ لگتا کہ بین کرتی کوئی ردالی
گھڑی کی ٹک ٹک بول رہی ہے رات کے شاید ایک بجے ہیںبٹلہ ہاؤس کی ایک گلی میں موٹے کتے بھونک رہے ہیںایک کھنڈر میں تیز روشنی چاروں جانب پھیل رہی ہےبغل میں لیٹا ساتھی میرا اب تک پب جی کھیل رہا ہےمیں بھی اب تک جاگ رہا ہوں آنکھیں موندے سوچ رہا ہوںنیچے جانا کیسا ہوگا باہر کتنی سردی ہوگیقطب ستارہ کدھر کو ہوگا رات کی رانی کیسی ہوگیصبح کا سورج کہاں پہ ہوگا ابھی خدا کیا کرتا ہوگاسڑک کنارے سونے والے جوڑے کیسے سوتے ہوں گےان کو مچھر کاٹتے ہوں گےنوم چومسکی لان میں بیٹھے بچے آخر کیسے ہوں گےان کو کتے چاٹتے ہوں گےکیا ان بھوک زدہ بچوں کے خواب میں پریاں آتی ہوں گیکٹے پھٹے ہاتھوں کے تکیے کے نیچے کچھ رکھتی ہوں گیکیسی باتیں کرتے ہو جی کیا پریوں کا کام یہی ہےمحل سرائے چھوڑ کے اب وہ سڑک کنارے آئیں گی کیارات کے شاید ڈیڑھ بجے ہیں بٹلہ ہاؤس کا چوک کھلا ہےرات کو جاب سے آنے والے رات میں جاب کو جانے والےایک ہاتھ میں لیے چائے کپ ایک ہاتھ میں چھوٹی سگریٹسڑک پار کیوں دیکھ رہے ہیںبریانی کو ڈھونڈھ رہے ہیںان کے پیچھے سڑک کنارے قبرستان کا گیٹ کھلا ہےاندر کتے گھوم رہے ہیں شاید کھانا ڈھونڈھ رہے ہیںباہر سگریٹ اور کافی ہے اندر کافی تاریکی ہےمیں بھی اندر جھانک رہا ہوں ہولے ہولے سوچ رہا ہوںقبرستان کے اندر میں یہ لیٹرین کس نے بنوایاکیوں بنوایاشاید مردے رات میں اٹھ کر اس کے اندر جاتے ہوں گےحاجت پوری کرتے ہوں گےیا پھر سگریٹ پینے والے لڑکے اندر جاتے ہوں گےخاکی وردی گھر والوں سے چھپ کر سگریٹ پیتے ہوں گےایک کنارے ادب کی ملکہ سب کچھ بیٹھی دیکھ رہی ہےآگ کا دریا چاندنی بیگم شیشے کا گھر لکھنے والیعینی آپا سوچ رہی ہےمیرا قاری کیوں آیا ہےشاید اس کو گوتم شنکر طلعت نے الجھایا ہوگایا پھر اس کو خیاباں کی چمپا نے پگلایا ہوگایا پھر اس پاگل لڑکے نے شعور کی رو کو چھیڑا ہوگایا پھر اس نے آگ کا دریا آدھا پڑھ کر چھوڑا ہوگافلسفیانہ باتیں سن کر سارے مردے سوچتے ہوں گےکوئی اپنی خواب گاہ کو چھوڑ کے آخر کیوں آیا ہےمیں بھی بیٹھا سوچ رہا ہوںاتنی رات کو کیوں آیا ہوں
کسی کمرے کسی ویرانے میںکسی مسجد کسی مے خانہ میںکسی پتھر کے ستوں سے ٹک کرکسی دیوار کے سینے سے لگائے ہوئے سرسو گئی رات بہت دیر ہوئیچاند بھی ڈوب گیاتارے بد خواہ پڑوسی کی طرح غور سے دیکھ رہے ہیںکہ کسی اور پڑوسی کے یہاںروشنی کیسی ہے کیا ہوتا ہےآؤایسے میں نے دیکھے دیکھے گا کوئیآؤ اور مجھ کو چرا لے جاؤ
چشم بد دور کراچی میں ٹریفک کا نظاماونٹ گاڑی کی گدھا گاڑی کی ٹک ٹک کا نظامراہگیروں سے پولس والوں کی جھک جھک کا نظامکتنا چوکس ہے یہ پسماندہ ممالک کا نظامراہ روکے ہے پولس ''کارگزاری'' دیکھوکس طرح جاتی ہے شاہوں کی سواری دیکھو
دو سمندر جہاں آپس میں ملا کرتے ہیںمیں نے کتنے سحر و شام گزارے ہیں وہاںمیں نے دیکھی ہے نکلتے ہوئے سورج کی کرناور کل ہوتے ہوئے دن کی شفق دیکھی ہےمیں نے موجوں کے تلاطم میں گہر ڈھونڈے ہیںاور پائے ہیں خزف ریزے بھیجال پانی سے جب اک بار نکالا میں نےاک گھڑا ریت بھرا ہاتھ آیاثبت تھی مہر سلیماں جس پراور کھولا تو دھوئیں کا بادلپیٹ سے اس کے نمودار ہواآدمی کے لیے یہ بہتر ہےکہ مقفل ہی رہیں کچھ چیزیںیہ فضائیں یہ ستارے یہ فلکوقت گرداں کی مسلسل ٹک ٹکجانور کیڑے مکوڑے حشراتمچھلیاں اور طیوراور انسان جو پہلے دن سےآخری روز تلکموت کی سمت چلا کرتا ہےجستجو پر مجھے اکساتے ہیںآہ لیکن یہ تلاشکر گئی اور بھی حیراں مجھ کوکیوں وہ کشتی ہوئی سوراخ زدہجس میں ہم رات کو پار اترے تھےراہ چلتے ہوئے مڈبھیڑ ہوئی تھی جس سےکس خطا پر وہ جواں قتل ہواکتنے بے بہرہ تھے تہذیب سے اس شہر کے لوگجن کو آتے نہ تھے مہمان نوازی کے طریقپھر بھلا کس لیے ان کی خاطرہم نے گرتی ہوئی دیوار کو تعمیر کیاراز پر راز چھپا رکھے ہیں اک بوڑھے نےاور ہم ہیں کہ پھرا کرتے ہیںہر لرزتے ہوئے سائے کا تعاقب کرتےشمع کی لو جسے ہر آن بدل دیتی ہے
تمہارے آنے سے پہلےکنجی تالے میںگھومتی ہےتمہارے داخل ہونے کی آواز آتی ہےتم دھماکے دار پاؤںرکھتے ہوئےآہستہ سے یا کبھی تیزی سےکمرے میں کہیں کسی طرفجاتے ہوئےپھر تھوڑی دیر تکوہیں کھڑے رہتے ہوشاید میرے ساکت جسم کودیکھتے ہوجو تمہاری حرکت کی آواز پرکان لگائے پڑا ہوتا ہےکبھی بے خبری میںکبھی آگاہپھر تم پانی پیتے ہویا نہیں پیتےتھوڑے وقفے تکخاموشی رہتی ہےگھڑی کی ٹک ٹک کے درمیانتمہارے نوالے چبانے کی آوازسنائی دیتی ہےاور کبھی یہ آواز میرے جسم کےگرد گھومنے لگتی ہےاور میں بے خبراور کبھی آگاہتمہاری نوالے چبانے کی آواز میںشامل ہو جاتی ہوں
ٹک ٹک کرتی رہتی ہےدیکھو گھڑی کیا کہتی ہےچھوٹ نہ جائے وقت کی ریلپہلے پڑھائی پیچھے کھیلدیکھو گھڑی کیا کہتی ہےٹک ٹک کرتی رہتی ہے
زندگیبس کی قطار کے عشق کی طرحسطحی سہی لیکنبے کیف نہیںزندگی دل کش ہےشہر کے ہنگاموں کی طرحمیں ہنگاموں کادل دادہ ہوںخموشی سے نفرت ہے مجھےکہ میں خاموشی میںبیتے کل کی ٹک ٹکگھڑی کی طرحسن نہیں سکتا
صبح سویرےایک لرزتی کانپتی سی آواز آتی ہےسونے والو! تم مالک کو بھول گئے ہوتم مالک کو بھول گئے ہوپھر چمکیلی مل کا سائرنایک غلیظ ڈرانے والی تند صدا کے روپ میں ڈھل کردیواروں سے ٹکراتا ہےاور گلیوں کےتنگ اندھیرے باڑے میں کہرام مچا کربھیڑوں کے گلے کو ہانک کے لے جاتا ہےپھر انجن کی برہم سیٹیمیخ سی بن کر میرے کان میں گڑ جاتی ہےاور شب بھر کی نچی ہوئی اک ریل کی بوگیاپنی کلائی انجن کے پنجے میں دے کرچل پڑتی ہےپھر اک دم اک سناٹا سا چھا جاتا ہےاور میں گھڑی کی ظالم سوئیوں کی ٹک ٹک میںدن کے زرد پہاڑ پہ چڑھنے لگتا ہوں
میں محسوس کر سکتی ہوںتمہارے درد کواپنے جسم میں اترتے ہوئےمگر یقین نہیں کر پاتیکہ یہ تمہارا ہی درد ہےگھڑی کی ٹک ٹک کے ساتھمیں سوچتی رہتی ہوںتمہارے بستر کے گرد چکر لگا کرمیں اس درد کو اپنے اوپر لینے کے لیےکیا کیا قربان کر سکتی ہوںجسمانی راحتیںسماجی مراعاتجذباتی مسرتیںذہنی لطافتیںیا پوری زندگی بھیجو بہت قیمتی ہےاور مجھے بہت پیاری
کس کے لب پہ اچانک نظر ٹک گئیٹھہرے ٹھہرے قدم کیوں لگے بھاگنے
صبح سے میں اس گھڑی کی ٹک ٹک سن رہا ہوںجو دیوار سے اچانک غائب ہو گئی ہےلیکن ہر گھنٹے کے اختتام پرالارم دینے لگتی ہےاور پھر ٹک ٹک ٹککبھی کبھی یہ ٹک ٹکمجھے اپنے سینے میں سنائی دیتی ہےکبھی کلائی کی نبض میںپھر تو جس چیز کو اٹھا کر کان سے لگاتا ہوںوہ ٹک ٹک کرنے اور الارم دینے لگتی ہےاچانک میں اپنے عقب کی دیوار کو دیکھتا ہوںوہاں مجھے یہ گھڑیدیوار پر اوندھی چپکی دکھائی دیتی ہےسامنے کی دیوار سے یہ عقب کی دیوار پر کیسے آ گئیاور اس کی سوئیاں اور ڈائل دیوار سے چپک کیسے گئےجیسے اس کا وقت دیوار کے اس پار کے لیے ہومیں برابر کے کمرے میں جاتا ہوںاب مجھے وقت دکھ رہا ہےلیکن گھڑی غائب ہےاب نہ اس کی ٹک ٹک ہے نہ الارممیں نے چاہا کہ چیزوں کو چھو کر دیکھوںٹھیک اس وقت مجھے اندازہ ہوامیں چیزوں کو دیکھ سکتا ہوںچھو نہیں سکتااس کمرے میں تو میں خود الٹی ہوئی گھڑی ہوںیہ کمرہ اور وہ کمرہدو الگ الگ اکائیاں ہیںانہیں ایک نہیں کیا جا سکتابس اس کمرے میں تھوڑی دیر کے لیے جھانکا جا سکتا ہےمیں واپس اپنے کمرے میں آ جاتا ہوںوہاںجہاں میں ہر چیز کو چھو سکتا ہوںاور ہر چیز میںوقت کی یہ ٹک ٹک سن سکتا ہوںچاہے سامنے گھڑی ہویا نہ ہو
خزاں کی دستکدھند میں لپٹے رستےسرد ہوا کے تھپیڑوں سےنبرد آزما ہیںالاؤ کے پاسشال اوڑھےکاغذ کے ٹکڑوں میںمتاع حیات جلاتی ہوئی لڑکیداستان دل سناتے ہوئےآنسوؤں کے چند قطرے گرےآگ سسک اٹھیسناٹے کی دہشتکسی طوفاں کا پیش خیمہ ہو سکتی ہےٹک ٹک ٹکگھڑی کی کوک سنتےسماعتیں ساتھ چھوڑنے لگیںمنظر دھندلا گئےوجود کے صحرا میںریت اڑنے لگیاور خامشیاس کے لبوں پہ جا کر سو گئی
سمندر خان اک پشتو کا شاعرجا رہا تھا گاؤں سے دور ایک ویرانے میںیک دم اک جھپاکا سا ہوااور ذہن کے پردے پہ اک دھندلا ہیولیٰ بننے اور مٹنے لگاپر شومیٔ قسمت قلم ہی جیب میں تھا اور نہ کاغذ کا کوئی پرزہسمندر خان رک کر اور اک پتھر پہ ٹک کر میچ کر آنکھوں کودنیا اور ما فیہا سے بیگانہ ہوا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books