aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "bebasii"
اس جان حیا کا بس نہیں کچھ بے بس ہے پرائے بس میں ہےبے درد دلوں کو کیا ہے خبر جو پیار یہاں آپس میں ہےہے بے بسی زہر اور پیار ہے رس یہ زہر چھپا اس رس میں ہے
ہوں جو الفاظ کے ہاتھوں میں ہیں سنگ دشنامطنز چھلکائے تو چھلکایا کرے زہر کے جامتیکھی نظریں ہوں ترش ابروئے خم دار رہیںبن پڑے جیسے بھی دل سینوں میں بیدار رہیںبے بسی حرف کو زنجیر بہ پا کر نہ سکےکوئی قاتل ہو مگر قتل نوا کر نہ سکے
تتلی جگنو رنگ و خوشبوگل و بلبل جیسےاستعارے نہیں ہیں پاس مرےکیونکے میں نےسسکتی سلگتی تڑپتی ہوئیزندگی کو دیکھا ہےکھلی آنکھ سےمیں نے دیکھی ہےلہو سے تر سڑکیںمیں نے دیکھے ہیں جنرل وارڈ میںبے بسی سے ایڑیاں رگڑتے ہوئےبچے بوڑھے لاچارمیں نے دیکھی ہیںروٹی کے بدلےردا ہوتی ہوئیتار تارمرے شعور میںآج بھی تازہ ہےسارہ شگفتہؔ کے بنا کفن کےپھول جیسے بچے کی لاشمیں نے دیکھی ہےمسجد کی ٹوٹتی ہوئی محراباب مری بے نور آنکھیںکیسے دیکھے کوئی حسین خواب
ابھی اک سال گزرا ہے یہی موسم یہی دن تھےمگر میں اپنے کمرے میں بہت افسردہ بیٹھا تھانہ کوئی سانولے محبوب کی یادوں کا افسانہنہ ایوان زمستاں کی طرف جانے کی کچھ خواہشکسی نے حال پوچھا تو بہت ہی بے نیازی سےکہا جی ہاں خدا کا شکر ہے میں خیریت سے ہوںکوئی یہ پوچھتا کیوں آج کل کوئی غزل لکھینہ جانے بات کیا ہے ان دنوں کچھ ایسا لگتا ہےتمہاری ہر غزل میں میر کا انداز ملتا ہےہر اک مصرعے سے جیسے دھیمی دھیمی آنچ اٹھتی ہےتمہارے شعر پڑھ کر جانے کیوں محسوس ہوتا ہےکہ کوئی ساز پر مدھم سروں میں گنگناتا ہےمگر اک بات پوچھوں تم خفا تو ہو نہ جاؤگےیہ آخر کیا سبب ہے آج کل نظمیں نہیں لکھتےتمہاری آپ بیتی بھی ابھی تک نا مکمل ہےاسے تو ناقدان فن نے سنتے ہی سراہا ہےمیں سب سنتا مگر یہ دل ہی دل میں سوچتا رہتامرے احباب کیا جانیں کہ مجھ پر کیا گزرتی ہےمرے افکار پہ یہ کیسی ویرانی سی چھائی ہےبہت کچھ سوچتا ہوں پھر بھی اب سوچا نہیں جاتابہت کچھ چاہتا ہوں پھر بھی کوئی بس نہیں چلتامگر اس بے بسی میں بھی مرے دل کی یہ حالت تھیکبھی جب کوئی اچھی چیز پڑھنے کے لیے ملتیتو پہروں روح پر اک وجد کی سی کیفیت ہوتیرگوں میں میری جیسے خوں کی گردش تیز ہو جاتیلہو کا ایک اک قطرہ یہ کہتا میں تو زندہ ہوںمری پامالیوں میں پل رہی ہے اک توانائییہی عالم رہا تو جانے میں کس روز اٹھ بیٹھوںبسنت آیا تو یوں آیا کہ میں بھی جیسے اٹھ بیٹھاسویرا ہوتے ہی ہر سمت سے جھونکے ہواؤں کےنئی خوشبو لیے مجھ کو جگانے کے لیے آئےجدھر بھی آنکھ اٹھاتا ہوں شفق کی مسکراہٹ ہےوہی سورج ہے لیکن اور ہی کچھ جگمگاہٹ ہےنہ جانے کیسے کیسے پھول اب مجھ کو بلاتے ہیںنہ جانے کتنے کتنے رنگ سے دل کو لبھاتے ہیںفضا میں دور تک پھیلے ہوئے وہ کھیت سرسوں کےیہ کہتے ہیں کہ اب ارماں نکالو اپنے برسوں کےتمہارے سامنے پھیلا ہوا میدان سارا ہےکوئی آواز دیتا ہے کہ آؤ تم ہمارے ہومری دھرتی کے بیٹے میری دنیا کے دلارے ہوتمہاری آنکھ میں جو خواب سوئے ہیں وہ میرے ہیںتمہارے اشک نے جو بیج بوئے ہیں وہ میرے ہیںاسی وادی میں پھر سے لوٹ کر اب تم کو آنا ہےتمہاری ہی یہ بستی ہے تمہیں کو پھر بسانا ہےاب اس بستی میں رکھتے ہی قدم کچھ ایسا لگتا ہےکہ اس کا ذرہ ذرہ پتہ پتہ کچھ نیا سا ہےہر اک رستے پہ جیسے کچھ نئے چہرے سے ملتے ہیںیہی جی چاہتا ہے جو ملے اب اس سے یہ پوچھیںتمہارا نام کیا ہے؟ تم کہاں کے رہنے والے ہوکچھ ایسا جان پڑتا ہے کہ پہلے بھی ملے ہیں ہمرہے ہیں ساتھ یا اک دوسرے کو جانتے ہیں ہماگر تم ساتھ تھے تو تم بھی شاید دوست تھے میرےمجھے یاد آیا دونوں ساتھ ہی کالج میں پڑھتے تھےوہ سارے دوستوں کا جمع ہونا میرے کمرے میںوہ گپ شپ قہقہے وہ اپنے اپنے عشق کے قصےوہ میرس روڈ کی باتیں وہ چرچے خوب رویوں کےکبھی آوارہ گردی اپنی ان ویران سڑکوں کیکبھی باتوں میں راتیں کاٹنا سنسان جاڑوں کیکبھی وہ چاندنی میں اپنا یوں ہی گھومتے رہناکبھی وہ چائے کی میزوں پہ گھنٹوں بیٹھنا سب کاوہ باتیں علم و حکمت کی کبھی شکوہ شکایت کیتمہیں تو یاد ہوگا ان میں ہی اک دوست شاعر تھاذرا دیکھو تو مجھ کو غور سے شاید وہ میں ہی تھابہت دن میں ملے ہیں ہم تو آؤ آج جی بھر کرہنسیں بولیں کہیں آوارہ گردی کے لیے نکلیںچلیں اور چل کے سارے دوستوں کو پھر بلا لائیںسجائیں آج پھر محفل کہیں پینے پلانے کیمیں تم کو آج اپنی کچھ نئی باتیں بتاؤں گامیں تم کو آج اپنی کچھ نئی نظمیں سناؤں گا
وقت کے تیز گام دریا میںتو کسی موج کی طرح ابھریآنکھوں آنکھوں میں ہو گئی اوجھلاور میں ایک بلبلے کی طرحاسی دریا کے اک کنارے پرنرکلوں کے مہیب جھاوے میںایسا الجھا کہ یہ بھی بھول گیابلبلے کی بساط ہی کیا تھی
الوداعکیسے ماہ و سال گزرےاب نہ کچھ بھی یاد ہےصرف ہیں دھندلے نقوشیا بصارت کی کمی ہےکچھ نظر آتا نہیںبس کتابوں اور فلموں میں رہیاک بصیرت کی تلاشکچھ نہ کچھ روٹی کی بھی تھی جستجوجانے کس منزل کی تھی وہ آرزوبے سبب لوگوں سے یارانہ رہااور پھر تنہا رہا برسوں تلکسب تھے قیدی اپنے اپنے جال کےتمناؤں کی دلدل میں پڑےکس میں ہمت تھی کہ بدلے زندگانی کے پرانے خول کوہم سے سرکش کو دیا کرتے تھے ناماور ہنس کر خوش ہوا کرتے سارے اجنبیکون سمجھائے کہ ہم محکوم ہیں مظلوم ہیںبے بسی کیسے مقدر بن گئیبولے گا کونخوف ایسا ہے کہ کوئی شخص کچھ کہتا نہیںجانے کس طوفان کے سب منتظر ہیںبت بنےکیسے چلاؤں کہ اپنا ہم نوا کوئی نہیںالوداع خود اپنے سائے کو مگرکہنا پڑا
دن کی خشمگیں نظریںکھو گئیں سیاہی میںآہنی کڑوں کا شوربیڑیوں کی جھنکاریںقیدیوں کی سانسوں کیتند و تیز آوازیںجیلروں کی بدکاریگالیوں کی بوچھاریںبے بسی کی خاموشیخامشی کی فریادیںتہہ نشیں اندھیرے میںشب کی شوخ دوشیزہخار دار تاروں کوآہنی حصاروں کوپار کر کے آئی ہےبھر کے اپنے آنچل میںجنگلوں کی خوشبوئیںٹھنڈکیں پہاڑوں کیمیرے پاس لائی ہے
ایک بوڑھا سا تھکا ماندہ سا رہوار ہوں میںبھوک کا شاہ سوارسخت گیر اور تنومند بھی ہےمیں بھی اس شہر کے لوگوں کی طرحہر شب عیش گزر جانے پربہر جمع خس و خاشاک نکل جاتا ہوںچرخ گرداں ہے جہاںشام کو پھر اسی کاشانے میں لوٹ آتا ہوںبے بسی میری ذرا دیکھ کہ میںمسجد شہر کے میناروں کواس دریچے میں سے پھر جھانکتا ہوںجب انہیں عالم رخصت میں شفق چومتی ہے
عین ممکن ہے ڈوب جائیں ہمہم جو کچے مکاں کے باسی ہیںدشت بے آسماں کے باسی ہیںہم جو دامن میں کچھ نہیں رکھتےبے بسی اور بے کسی کے سوااپنے آنگن میں کچھ نہیں رکھتےسختیٔ عمر و مفلسی کے سواہم کہ وہ درد آشنا جن پرعمر بھر وقت مہرباں نہ ہواآج تک بخت مہرباں نہ ہواہم جنہیں زیست کے گلستاں سےراحتوں کی ہوا نہیں آئیہم جنہیں کوچہ ہائے یاراں سےہمدمی کی صدا نہیں آئیہم جنہیں الفتوں کے رستے میںاپنی ہی سادگی نے لوٹا ہےہر نئی دوستی نے لوٹا ہےہم جنہیں زندگی کا پاس تو ہےپر جنہیں زندگی سے پیار نہیںہم جو ہر لحظہ مسکراتے ہیںپر جنہیں ایک پل قرار نہیںاب ترے خواب کو وفا کرنےسوئے ساحل چلے تو ہیں لیکنعین ممکن ہے ڈوب جائیں ہم
آج پھر آ ہی گیاآج پھر روح پہ وہ چھا ہی گیادی مرے گھر پہ شکست آ کے مجھے!ہوش آیا تو میں دہلیز پہ افتادہ تھاخاک آلودہ و افسردہ و غمگین و نزارپارہ پارہ تھے مری روح کے تارآج وہ آ ہی گیاروزن در سے لرزتے ہوئے دیکھا میں نےخرم و شاد سر راہ اسے جاتے ہوئےسالہا سال سے مسدود تھا یارانہ مرااپنے ہی بادہ سے لبریز تھا پیمانہ مرااس کے لوٹ آنے کا امکان نہ تھااس کے ملنے کا بھی ارمان نہ تھاپھر بھی وہ آ ہی گیاکون جانے کہ وہ شیطان نہ تھابے بسی میرے خدا وند کی تھی!
سوچتی ہے کہ جس کے ہجر میں میںشمع سی صبح و شام جلتی ہوںموم سی رات دن پگھلتی ہوںکاش وہ میری روشنی دیکھےمیری آنکھوں کی ان کہی سمجھےمیرے تن من کی بے بسی دیکھےجتنی شدت سے خود کو دیکھتی ہوںکاش وہ بھی مجھے کبھی دیکھے
کہا تم نے مجھے تم سے محبت ہو نہیں سکتییہی کہنا تھا تو آغاز میں ہی کہہ دیا ہوتانہ یہ کہتے ہوئے آنکھیں چراتے تمنہ میرے دل میں اتنا بے تحاشا درد ہی اٹھتانہ میری بے بسی کا امتحاں ایسے لیا ہوتااگر تم کو یہی کہنا تھا پہلے کہہ دیا ہوتا
جگمگاتے ہوئے قمقمے، پارک، باغات اور میوزیمسنگ مرمر کے بت، دھات کے آدمیسرد و سنگین عظمت کے پیکرآنکھیں بے نور، لب بے صدا، ہاتھ بے جانہند کی بے بسی اور محکومی کی یادگاریںسیکڑوں سال کے گرم آتش کدےزر و صندل کی آگعود و عنبر کے شعلے
جہاں سے بے بسی جانے لگی تھیجہاں سے زندگی گانے لگی تھیجہاں سے رشک سا آنے لگا تھاجہاں سے نشہ سا چھانے لگا تھاجہاں سے رت جگے کی تھی نمائشجہاں سے دیپ راہوں میں جلے تھےچلو اک بار پھر دریا کنارےجہاں پہلے پہل ہم تم ملے تھے
پھلجھڑی سسکی کی گہری رات میں چھوٹی نہیںجوئے خوں کوہ سیہ کی آنکھ سے پھوٹی نہیںخیمۂ غم کی طناب ریشمیں ٹوٹی نہیںتیرگی کے راہزن نے دخت رز لوٹی نہیںکشتئ دل بحر غم کی موج میں کھیتے رہواپنے ہی خوں کے چراغاں کے مزے لیتے رہوعمر بھر شب کے اندھیرے کو سدا دیتے رہو
برق پا لمحوں کی اک زنجیر میں جکڑا ہواوہ شکستہ پا انہی رستوں سے گزرااور نادیدہ خداؤں کا ہجومخندہ زن آنکھوں سے اس کی نارسائی کا تماشا دیکھکر کہتا رہاتو نے چاہا تھا مگر تیرے مقدر میں نہ تھاجیسے اس کی بے بسی میں وہ کبھی شامل نہ تھے
یہ زرد موسم کے خشک پتےہوا جنہیں لے گئی اڑا کراگر کبھی ان کو دیکھ پاؤتو سوچ لیناکہ ان میں ہر برگ کی نمو میںزیاں گیا عرق شاخ گل کاکبھی یہ سرسبز کونپلیں تھےکبھی یہ شاداب بھی رہے ہیںکھلے ہوئے ہونٹ کی طرح نرم اور شگفتہبہت دنوں تکیہ سبز پتےہوا کے ریلوں میں بے بسی سے تڑپ چکے ہیںمگر یہ اب خشک ہو رہے ہیںمگر یہ اب خشک ہو چکے ہیںاگر کبھی اس طرف سے گزروتو دیکھ لینابرہنہ شاخیں ہوا کے دل میں گڑھی ہوئی ہیںیہ اب تمہارے لیے نہیں ہیںنہیں ہیں
جاگتے سوتے یہ خیال آیاتجھ کو سوچا تو یہ سوال آیاتم کہاں اور میں کہاں جاناںفاصلے کیوں ہیں درمیاں جاناںیوں ملے ہم کہ مل نہیں پائےپھول حسرت کے کھل نہیں پائےبرق پر نامہ بر سوار ہوادھوپ میں ابر سایہ دار ہواپھر تعلق کے تار ٹوٹ گئےہم پہ صدمے ہزار ٹوٹ گئےبے بسی کی عجیب شام آئیزندگی مثل انتقام آئیپھر تری دید کی سعادت ہووقت کو عید کی بشارت ہوغیر ممکن ہے اس طرح ہوناغم نہانا ہے داغ ہے دھونامسئلہ آ گیا ہے پانی کایعنی دریا کی بے زبانی کاقربت جاں کے مشک ہوتے ہیاک سمندر کے خشک ہوتے ہیدرد صحرا نصیب ہے اپناایک وحشت رقیب ہے اپناسلسلہ دور تک سراب کا ہےعشق ماہی بغیر آب کا ہے
وہ بے بسی کہ ذرا آگے بڑھ نہیں سکتےکتاب وقت کی تحریر پڑھ نہیں سکتے
خیال نظم مے کدہ نہیں ہے فکر جام ہےملا وہ اختیار جس پہ بے بسی ہے خندہ زن
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books