aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "bhej"
رخصت ہوا وہ باپ سے لے کر خدا کا نامراہ وفا کی منزل اول ہوئی تماممنظور تھا جو ماں کی زیارت کا انتظامدامن سے اشک پونچھ کے دل سے کیا کلاماظہار بے کسی سے ستم ہوگا اور بھیدیکھا ہمیں اداس تو غم ہوگا اور بھیدل کو سنبھالتا ہوا آخر وہ نونہالخاموش ماں کے پاس گیا صورت خیالدیکھا تو ایک در میں ہے بیٹھی وہ خستہ حالسکتا سا ہو گیا ہے یہ ہے شدت ملالتن میں لہو کا نام نہیں زرد رنگ ہےگویا بشر نہیں کوئی تصویر سنگ ہےکیا جانے کس خیال میں گم تھی وہ بے گناہنور نظر یہ دیدۂ حسرت سے کی نگاہجنبش ہوئی لبوں کو بھری ایک سرد آہلی گوشہ ہائے چشم سے اشکوں نے رخ کی راہچہرہ کا رنگ حالت دل کھولنے لگاہر موئے تن زباں کی طرح بولنے لگاآخر اسیر یاس کا قفل دہن کھلاافسانۂ شدائد رنج و محن کھلااک دفتر مظالم چرخ کہن کھلاوا تھا دہان زخم کہ باب سخن کھلادرد دل غریب جو صرف بیاں ہواخون جگر کا رنگ سخن سے عیاں ہوارو کر کہا خموش کھڑے کیوں ہو میری جاںمیں جانتی ہوں جس لیے آئے ہو تم یہاںسب کی خوشی یہی ہے تو صحرا کو ہو رواںلیکن میں اپنے منہ سے نہ ہرگز کہوں گی ہاںکس طرح بن میں آنکھوں کے تارے کو بھیج دوںجوگی بنا کے راج دلارے کو بھیج دوںدنیا کا ہو گیا ہے یہ کیسا لہو سپیداندھا کیے ہوئے ہے زر و مال کی امیدانجام کیا ہو کوئی نہیں جانتا یہ بھیدسوچے بشر تو جسم ہو لرزاں مثال بیدلکھی ہے کیا حیات ابد ان کے واسطےپھیلا رہے ہیں جال یہ کس دن کے واسطےلیتی کسی فقیر کے گھر میں اگر جنمہوتے نہ میری جان کو سامان یہ بہمڈستا نہ سانپ بن کے مجھے شوکت و حشمتم میرے لال تھے مجھے کس سلطنت سے کممیں خوش ہوں پھونک دے کوئی اس تخت و تاج کوتم ہی نہیں تو آگ لگا دوں گی راج کوکن کن ریاضتوں سے گزارے ہیں ماہ و سالدیکھی تمہاری شکل جب اے میرے نونہالپورا ہوا جو بیاہ کا ارمان تھا کمالآفت یہ آئی مجھ پہ ہوئے جب سفید بالچھٹتی ہوں ان سے جوگ لیا جن کے واسطےکیا سب کیا تھا میں نے اسی دن کے واسطےایسے بھی نامراد بہت آئیں گے نظرگھر جن کے بے چراغ رہے آہ عمر بھررہتا مرا بھی نخل تمنا جو بے ثمریہ جائے صبر تھی کہ دعا میں نہیں اثرلیکن یہاں تو بن کے مقدر بگڑ گیاپھل پھول لا کے باغ تمنا اجڑ گیاسرزد ہوئے تھے مجھ سے خدا جانے کیا گناہمنجدھار میں جو یوں مری کشتی ہوئی تباہآتی نظر نہیں کوئی امن و اماں کی راہاب یاں سے کوچ ہو تو عدم میں ملے پناہتقصیر میری خالق عالم بہل کرےآسان مجھ غریب کی مشکل اجل کرےسن کر زباں سے ماں کی یہ فریاد درد خیزاس خستہ جاں کے دل پہ چلی غم کی تیغ تیزعالم یہ تھا قریب کہ آنکھیں ہوں اشک ریزلیکن ہزار ضبط سے رونے سے کی گریزسوچا یہی کہ جان سے بیکس گزر نہ جائےناشاد ہم کو دیکھ کے ماں اور مر نہ جائےپھر عرض کی یہ مادر ناشاد کے حضورمایوس کیوں ہیں آپ الم کا ہے کیوں وفورصدمہ یہ شاق عالم پیری میں ہے ضرورلیکن نہ دل سے کیجیے صبر و قرار دورشاید خزاں سے شکل عیاں ہو بہار کیکچھ مصلحت اسی میں ہو پروردگار کییہ جعل یہ فریب یہ سازش یہ شور و شرہونا جو ہے سب اس کے بہانے ہیں سر بسراسباب ظاہری میں نہ ان پر کرو نظرکیا جانے کیا ہے پردۂ قدرت میں جلوہ گرخاص اس کی مصلحت کوئی پہچانتا نہیںمنظور کیا اسے ہے کوئی جانتا نہیںراحت ہو یا کہ رنج خوشی ہو کہ انتشارواجب ہر ایک رنگ میں ہے شکر کرد گارتم ہی نہیں ہو کشتہ نیرنگ روزگارماتم کدے میں دہر کے لاکھوں ہیں سوگوارسختی سہی نہیں کہ اٹھائی کڑی نہیںدنیا میں کیا کسی پہ مصیبت پڑی نہیں
وہ نوخیز نورا وہ اک بنت مریموہ مخمور آنکھیں وہ گیسوئے پر خموہ ارض کلیسا کی اک ماہ پارہوہ دیر و حرم کے لیے اک شرارہوہ فردوس مریم کا اک غنچۂ تروہ تثلیث کی دختر نیک اختروہ اک نرس تھی چارہ گر جس کو کہیےمداوائے درد جگر جس کو کہیےجوانی سے طفلی گلے مل رہی تھیہوا چل رہی تھی کلی کھل رہی تھیوہ پر رعب تیور وہ شاداب چہرہمتاع جوانی پہ فطرت کا پہرہمری حکمرانی ہے اہل زمیں پریہ تحریر تھا صاف اس کی جبیں پرسفید اور شفاف کپڑے پہن کرمرے پاس آتی تھی اک حور بن کروہ اک آسمانی فرشتہ تھی گویاکہ انداز تھا اس میں جبریل کا ساوہ اک مرمریں حور خلد بریں کیوہ تعبیر آذر کے خواب حسیں کیوہ تسکین دل تھی سکون نظر تھینگار شفق تھی جمال نظر تھیوہ شعلہ وہ بجلی وہ جلوہ وہ پرتوسلیماں کی وہ اک کنیز سبک روکبھی اس کی شوخی میں سنجیدگی تھیکبھی اس کی سنجیدگی میں بھی شوخیگھڑی چپ گھڑی کرنے لگتی تھی باتیںسرہانے مرے کاٹ دیتی تھی راتیںعجب چیز تھی وہ عجب راز تھی وہکبھی سوز تھی وہ کبھی ساز تھی وہنقاہت کے عالم میں جب آنکھ اٹھتینظر مجھ کو آتی محبت کی دیویوہ اس وقت اک پیکر نور ہوتیتخیل کی پرواز سے دور ہوتیہنساتی تھی مجھ کو سلاتی تھی مجھ کودوا اپنے ہاتھوں سے مجھ کو پلاتیاب اچھے ہو ہر روز مژدہ سناتیسرہانے مرے ایک دن سر جھکائےوہ بیٹھی تھی تکیے پہ کہنی ٹکائےخیالات پیہم میں کھوئی ہوئی سینہ جاگی ہوئی سی نہ سوئی ہوئی سیجھپکتی ہوئی بار بار اس کی پلکیںجبیں پر شکن بے قرار اس کی پلکیںوہ آنکھوں کے ساغر چھلکتے ہوئے سےوہ عارض کے شعلے بھڑکتے ہوئے سےلبوں میں تھا لعل و گہر کا خزانہنظر عارفانہ ادا راہبانہمہک گیسوؤں سے چلی آ رہی تھیمرے ہر نفس میں بسی جا رہی تھیمجھے لیٹے لیٹے شرارت کی سوجھیجو سوجھی بھی تو کس قیامت کی سوجھیذرا بڑھ کے کچھ اور گردن جھکا لیلب لعل افشاں سے اک شے چرا لیوہ شے جس کو اب کیا کہوں کیا سمجھیےبہشت جوانی کا تحفہ سمجھیےشراب محبت کا اک جام رنگیںسبو زار فطرت کا اک جام رنگیںمیں سمجھا تھا شاید بگڑ جائے گی وہہواؤں سے لڑتی ہے لڑ جائے گی وہمیں دیکھوں گا اس کے بپھرنے کا عالمجوانی کا غصہ بکھرنے کا عالمادھر دل میں اک شور محشر بپا تھامگر اس طرف رنگ ہی دوسرا تھاہنسی اور ہنسی اس طرح کھلکھلا کرکہ شمع حیا رہ گئی جھلملا کرنہیں جانتی ہے مرا نام تک وہمگر بھیج دیتی ہے پیغام تک وہیہ پیغام آتے ہی رہتے ہیں اکثرکہ کس روز آؤ گے بیمار ہو کر
اگر شیر باہر نہ آیا کرےتو ہر روز پرچی نکالا کریںکہ ہر روز بس ایک ہی جانورخود ہی شیر کے غار میں بھیج کرچین سے جی سکیں
چلو اک دوسرے کی خواہشوں کی دھوپ میںجلتے ہوئے آنگن کی ویرانی میں آنکھیں بند کر لیں اور برس جائیںیہاں تک ٹوٹ کر برسیں کہ پانیوصل کی مٹی میں خوشبو گوندھ لے اور پھر سروں تک سے گزر جائےزمین سے آسماں تک ایک ہی منظر سنور جائےہمارے راستوں پر آسماں اپنی گواہی بھیج دےخوشبو بکھر جائےزمیں پاؤں کو چھو لےچاندنی دل میں اتر جائے
جب آدمی کے دل کو چراتا ہے آدمیسینے سے اپنے اس کو لگاتا ہے آدمیاور اس طرح سے عمر بڑھاتا ہے آدمیمشکل سے اس جہان سے جاتا ہے آدمیجاتا کہاں ہے خود وہ پکڑوایا جاتا ہےیعنی فرشتہ بھیج کے بلوایا جاتا ہے
اظہار محبت کے لیے تم اپنے بوسےکاغذ میں لپیٹ کر بھیج سکتی ہوجس طرح میں نے اپنے جذبےتمہیں پوسٹ کر دیے ہیں
ترا ایک خط مرے پاس ہے وہ محبتوں سے لکھا ہواتھی وہ فاصلوں کی تپش عجب مرے حوصلے بھی پگھل گئےجہاں سوز ہجر کا ذکر ہے وہیں کوئی آنسو گرا ہواوہی ایک تشنہ سی آرزو کبھی قرض جس کا ادا نہ ہوپس حرف شکوے ہزار ہوں سر لفظ کوئی گلہ نہ ہوتری آرزو تری خواہشوں کا کوئی حساب نہ لکھ سکامیں سراپا خود ہی سوال تھا سو کوئی جواب نہ لکھ سکاکوئی ایسا خط مجھے بھیج پھرجو سمجھ سکے مرے رت جگوں کی زبان کومری لغزشوں کی تکان کومری بے بسی کے بیان کوتجھے کیا پتہ تجھے کیا خبرمرے ہم سفرکبھی روشنائی میں ڈھل گیا کبھی بہہ گیا مری آنکھ سےوہی ایک درد جسے کبھی مرے لب بیان نہ کر سکے
قادر مطلق ہے تو ان کو دوبارہ ایج دےان شہیدوں کو تو دنیا ہی میں واپس بھیج دے
جوں ہی بول دوں اک دو تین میںپھر سے بھیج دوں تم کو چین میںجو بجاؤں میں اپنی بین کوچاکلیٹ کر دوں زمین کواو بچو سن لو بات
سردی گزری گرمی آئیساتھ میں اپنے ہلچل لائیگرم ہوا ہر سو چلتی ہےسورج سے دھرتی جلتی ہےانسانوں کا حال برا ہےحیوانوں میں حشر بپا ہےجھلس رہے ہیں پیڑ اور پودےپگھل رہے ہیں برف کے تودےسوکھ گئے ہیں ندی نالےپڑ گئے سب کی جان کے لالےاترا ہوا ہے سب کا چہرہگھر کے باہر لو کا خطرہڈھونڈ رہا ہے ہر اک سایاگرمی نے اتنا گرمایاٹھنڈا پانی لسی شربتبڑھ گئی ان سے سب کی چاہتلیموں کا رس آم کا پتاکھاتے ہیں سب شوق سے گناپنکھا تیزی سے چلتا ہےجسم مگر پھر بھی جلتا ہےسب کی زباں پر پانی پانیبھیج دے مولیٰ برکھا رانی
جنگل میں ون ڈے کرکٹ کا ہوا انوکھا میچبندر نے کی خوب فیلڈنگ پکڑے چھ چھ کیچزیرو پر لنگور گیا تو ہرن تین پر آؤٹایل بی ڈبلیو گینڈا بھاگا نہیں تھا کوئی ڈاؤٹگیدڑ نے آتے ہی جیسے لی اپنی پوزیشنکنگارو کی گیند تھی اسپن بدل گئی سچویشنوکٹ بچا نہ پایا گیدڑ بلا عجب گھمایابندر کے ہاتھوں میں سیدھے اپنا کیچ تھمایاسینگ ہلاتے بارہ سنگھا نے اب بیٹ سنبھالاکنگارو کی سیکنڈ بال تھی چوک گیا بیچارہگیند گھسی اسٹمپ بکھیرا گلی چھٹکی دورایک بڑا اسکور کا سپنا ہو گیا آخر چورلوٹ چلا جب بارہ سنگھا بھالو چاچا آئےگیند تیسری کنگارو کی وہ بھی جھیل نہ پائےلگاتار تینوں گیندوں پر وکٹ گرے تھے تینکنگارو کے اس اوور نے بدل دیا تھا سینجلدی جلدی وکٹ گنوائے بگڑ گئی تھی حالتجمے جمائے ہاتھی دادا بھیج رہے تھے لعنتبھالو گیا زیبرا آیا اب کے بلا تھامےنوے پر ہاتھی پہنچا تھا لگا اسے سمجھانےبلا چمکا گیند اڑی امپائر بولا سکسہاتھی نے پھر فوراً ٹوکا پہلے ہولو فکسچوکے اور چھکے کی بارش تھوڑا رک کر کرنامیچ اگر ہے ہمیں جیتنا وکٹ بچائے رکھنااوور نیا لیے چیتا اب بالنگ کرنے آیادو گیندوں پر لگاتار ہاتھی نے سکس جمایابنا سینچری ہاتھی نے ارمان نئے کچھ باندھےچیتے کی اک تیز گیند نے توڑے سبھی ارادےہاتھی کے آؤٹ ہوتے ہی جو آیا وہ بے بسناٹ آؤٹ کا تمغہ لے کر ہوا زیبرا واپسکپتانی تھی شیر کے ذمے جیت لیا تھا میچبندر نے کی خوب فیلڈنگ پکڑے چھ چھ کیچ
ہے، مگر پھر بھی نہ جانے کیوںبہانے ڈھونڈھتا ہوں میںانہیں کچھ عرصہ کو میں بھیج دوں باہرکہاں لیکننہیں معلوم کچھ مجھ کوتو پھر کیا میری شاموں میںتعلق کی ہنسی اور چاپ شامل ہےنہیں توپھر مجھے کیا کھائے جاتا ہےکہ میں بندھ کر کہیں بھی رہ نہیں سکتابہانے ڈھونڈھتا ہوںتوڑنے کو کون سا بندھن
ابتدا ہو گئی موت کے گیت کیہے ہواؤں میں دھن دکھ کے سنگیت کیشہر دکھنے لگا ہے بیابان سارات سنسان سی دن پریشان ساساری مانوس گلیاں ہیں انجان سیزندگی چند لمحوں کی مہمان سیمیرے معبود سانسیں بدن کے لیےایک زنجیر من کے ہرن کے لیےدے چھناکا کوئی خامشی کے لیےکوئی جملہ کسی کی ہنسی کے لیےزرد ہونٹوں پے کوئی دعا بھیج دےدوستوں کے لیے قہقہہ بھیج دےبھیج دے ادھ جگی آنکھوں میں خواب کولمحے بھر کا سکوں میرے احباب کوتھوڑا نان و نمک ہر شکم کے لیےتھوڑی مسکان ہر چشم نم کے لیےاے خدا میری سن لے خدا کے لیےکوئی تعویذ دے اس بلا کے لیے
اور ایسے میںانہوں نے اسے بھیج دیا ہےجان بوجھ کرمیری تنہائی میں خلل ڈالنے کے لیےتاکہ مل جائے مجھے پھر کوئینفرت کرنے کے لیے
وقت اور نا وقت کے مابینکتنا فاصلہکتنا خلاکتنی گھنیری خامشی ہےجاننے کی کوششوں میںآنکھ کی اور دل کی اجلی آنکھ کیبینائیاں کم پڑ گئی ہیںسوچتا ہوںسوچ کا کوئی پرندہ بھیج کراس حد لا حد کاکوئی اندازہ کر لوں
جب مسجدوں اور امام بارگاہوں میںنقب لگائی جاتی تھیتو کئی بے رنگ دائرے سوالیہ نشان لئےہمارے راستے میں آ کھڑے ہوتےکہ کلیساؤں اور مندروں کا نظام کون سے خدا کے پاس ہےجو امن کی فاختاؤں کوعبادت گاہ کے روشن دانوں میں بھیج دیتا ہےاسی سوال میں جوابی رنگ بھرنے کے لئےہم نے لہو کو بارود میں گھول کر انسانیت کا بھرم گنوا لیا
کن حرفوں کی تفہیم کروںکن رنگوں کی تجسیم کروںکس راہ چلوں اور چلتا جاؤں کھلا نہیںابھی دروازہ تو کھلا نہیںکس پھول کی مدح لکھوںاے حرف سحر آثار اے یوم آزادیمیں نے تو نہیں دیکھاترے لمس سے کون سا سنگ گلاب ہوا آئنہ آب ہوااس باغ میں کون سی مشت خاک کھلی خوشبو آزاد ہوئیبے بس اور سات بہاریں اور خزائیںایک ہی موسم کی اجرک میں دیکھ چکا ہوںلیکن میں نے وہ دن کس دن دیکھا ہےجب آنکھیں روزن چھوڑ کے پھولوں کی کیاری میں بس جاتی ہیں کوئل گاتی ہےکوئل گاتی ہےجھولے پڑتے ہیں باغوں میںحسن سے ریزہ ریزہ وصل ٹپکتا ہےمیں نے کب دیکھا ہےابھی دروازہ تو کھلا نہیںابھی دروازہ تو کھلا نہیںدروازہ کھلے تو میں بھی قلم میں تازہ ہوا کی سیاہی بھر لوں اور اک خط لکھوںمیں تیرے پتے پر خط لکھوںتو اپنا تعارف بھیج میں تجھ پر اک پیاری سی نظم لکھوںکہ سنا ہے تو بھی پیارا سا اک لمس ہےاک لمحہ ہےلیکن میں نے تجھے کب چکھا سونگھا دیکھا سنا محسوس کیا ہےجب سے میں جاگا ہوںتو تو جنتریوں میں مورچہ بند ہے سویا ہوا ہےجاگ اے نادیدہ ساعتاے صدیوں کا اندوہ لیے لمحے اب مجھ پر بھی مٹھی بھر سحر چھڑکبس ایک جھلک دکھلاتیری ایک جھلکمرے پانچ حواس کی بخیہ بخیہ ادھڑی جھولی سی بھی دے گی بھر بھی دے گیپھر میں تجھ پر اک لا فانی نظم لکھوں گاتجھے سنانے آؤں گا
شریر میں کوئی تڑپ سی ہوگییا کوئی عادت سی پڑی ہوگیکئی دنو کی کئی چیزو کی بھوک تو ہوگیکوئی مقصد ہوگا یا یوں ہیزندگی ننگے پاؤں کی دوڑ ہوگیدھوپ کو پردوں سے واپس بھیج دیا امیروں نےوو جا کر کئی آنکھوں میں اندھیرے بھر رہی ہوگیکچھ ہے نہیں ٹکرانے کو کیا اسی کارنمایوسی میں لپٹی نیندیں پھیل کے سو رہی ہوگیخوابوں میں پریاں کھینچ کے لائی جاتی ہوں گیبے بسی چند نوالوں سے گلے اتاری ہوگیمحفلوں میں کون سی خاصیت بٹتی ہوگیکتنی اونچائی پہ سپنے رکھے جاتے ہوں گےکیا خوابوں کی پریبھاشا بھی پڑھائی جاتی ہوگیآنکھوں سے بہتی ضد سے حاصل کیا ہوتا ہوگاکیا ٹوٹنے پہ پھوٹ پھوٹ کے روتی ہوں گیکون سے قصے ہوں گے جو خالی پیٹ ہنسی نکلتی ہوگیبخار میں آرام کے لیے کون سے بہانے دھرتے ہوں گےگاڑیوں کے ٹائر کے نشان سینے پہ پڑتے ہوں گےسڑکوں پہ کئی بچپن بھوک میں دب کے مرتے ہوں گے
خلا کی مشکلات اپنی جگہ قائم تھیں اور دنیااجڑتی بھربھری بنجر زمینوں کی نشانی تھیستارے سرخ تھے اور چاند سورج پر اندھیروں کا بسیرا تھادرختوں پر پرندوں کی جگہ ویرانیوں کے گھونسلے ہوتےزمیں کی کوکھ میں بس تھور تھا اور خار اگتے تھےہوا کو سانس لینے میں بہت دشواریاں ہوتیںتو پھر اس نور والے نے کوئی لوح انارہ بھیج دی شایداندھیرے روشنی پہ کس طرح ایمان لے آئےبلائیں کس طرح پریوں کی صورت میں چلی آئیںیہ کس نورل ثویبا کی خدا تخلیق کر بیٹھایہ نرمی دلبری شرم و حیا تخلیق کر بیٹھاوہ نورل وہ ثویبا جس کی خاطر آسماں سے رنگ اترے تھےوہ جس کے دم سے دنیا پر نزاکت کا وجود آیاخدائے خلق نے نورل سے پہلے ہی ہوس تخلیق کر دی تھینزاکت تک ہوس کی دسترس تخلیق کر دی تھیہزاروں سال گزرے ہیں مگر فطرت نہیں بدلینگاہیں اب بھی بھوکی ہیں کہ جیسے کھا ہی جائیں گیہوس زادوں نے کیسے نور سے منہ پر ملی کالکہر اک رشتہ ضرورت کے مطابق کس لئے بدلاہوس زادو بدن خورو ذرا سی شرم فرماؤوہ نورل وہ ثویبا روشنی کا استعارہ تھیکبھی حوا کبھی مریم کبھی لوح انارہ تھیوہ عورت تھی
اے مرے شہر کے شاعرومت لکھواب قصیدہ کوئی حسن محبوب پرفاتحہ بھیج دو ایسے مکتوب پرایسی نظموں کا کیا فائدہ جس میں مظلوم دل کی صدائیں نہ ہوںایسے شعروں میں کیا سوز ہو جس میں مقتول لوگوں کی آہیں نہ ہوں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books