aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "dasta"
رخصت ہوا وہ باپ سے لے کر خدا کا نامراہ وفا کی منزل اول ہوئی تماممنظور تھا جو ماں کی زیارت کا انتظامدامن سے اشک پونچھ کے دل سے کیا کلاماظہار بے کسی سے ستم ہوگا اور بھیدیکھا ہمیں اداس تو غم ہوگا اور بھیدل کو سنبھالتا ہوا آخر وہ نونہالخاموش ماں کے پاس گیا صورت خیالدیکھا تو ایک در میں ہے بیٹھی وہ خستہ حالسکتا سا ہو گیا ہے یہ ہے شدت ملالتن میں لہو کا نام نہیں زرد رنگ ہےگویا بشر نہیں کوئی تصویر سنگ ہےکیا جانے کس خیال میں گم تھی وہ بے گناہنور نظر یہ دیدۂ حسرت سے کی نگاہجنبش ہوئی لبوں کو بھری ایک سرد آہلی گوشہ ہائے چشم سے اشکوں نے رخ کی راہچہرہ کا رنگ حالت دل کھولنے لگاہر موئے تن زباں کی طرح بولنے لگاآخر اسیر یاس کا قفل دہن کھلاافسانۂ شدائد رنج و محن کھلااک دفتر مظالم چرخ کہن کھلاوا تھا دہان زخم کہ باب سخن کھلادرد دل غریب جو صرف بیاں ہواخون جگر کا رنگ سخن سے عیاں ہوارو کر کہا خموش کھڑے کیوں ہو میری جاںمیں جانتی ہوں جس لیے آئے ہو تم یہاںسب کی خوشی یہی ہے تو صحرا کو ہو رواںلیکن میں اپنے منہ سے نہ ہرگز کہوں گی ہاںکس طرح بن میں آنکھوں کے تارے کو بھیج دوںجوگی بنا کے راج دلارے کو بھیج دوںدنیا کا ہو گیا ہے یہ کیسا لہو سپیداندھا کیے ہوئے ہے زر و مال کی امیدانجام کیا ہو کوئی نہیں جانتا یہ بھیدسوچے بشر تو جسم ہو لرزاں مثال بیدلکھی ہے کیا حیات ابد ان کے واسطےپھیلا رہے ہیں جال یہ کس دن کے واسطےلیتی کسی فقیر کے گھر میں اگر جنمہوتے نہ میری جان کو سامان یہ بہمڈستا نہ سانپ بن کے مجھے شوکت و حشمتم میرے لال تھے مجھے کس سلطنت سے کممیں خوش ہوں پھونک دے کوئی اس تخت و تاج کوتم ہی نہیں تو آگ لگا دوں گی راج کوکن کن ریاضتوں سے گزارے ہیں ماہ و سالدیکھی تمہاری شکل جب اے میرے نونہالپورا ہوا جو بیاہ کا ارمان تھا کمالآفت یہ آئی مجھ پہ ہوئے جب سفید بالچھٹتی ہوں ان سے جوگ لیا جن کے واسطےکیا سب کیا تھا میں نے اسی دن کے واسطےایسے بھی نامراد بہت آئیں گے نظرگھر جن کے بے چراغ رہے آہ عمر بھررہتا مرا بھی نخل تمنا جو بے ثمریہ جائے صبر تھی کہ دعا میں نہیں اثرلیکن یہاں تو بن کے مقدر بگڑ گیاپھل پھول لا کے باغ تمنا اجڑ گیاسرزد ہوئے تھے مجھ سے خدا جانے کیا گناہمنجدھار میں جو یوں مری کشتی ہوئی تباہآتی نظر نہیں کوئی امن و اماں کی راہاب یاں سے کوچ ہو تو عدم میں ملے پناہتقصیر میری خالق عالم بہل کرےآسان مجھ غریب کی مشکل اجل کرےسن کر زباں سے ماں کی یہ فریاد درد خیزاس خستہ جاں کے دل پہ چلی غم کی تیغ تیزعالم یہ تھا قریب کہ آنکھیں ہوں اشک ریزلیکن ہزار ضبط سے رونے سے کی گریزسوچا یہی کہ جان سے بیکس گزر نہ جائےناشاد ہم کو دیکھ کے ماں اور مر نہ جائےپھر عرض کی یہ مادر ناشاد کے حضورمایوس کیوں ہیں آپ الم کا ہے کیوں وفورصدمہ یہ شاق عالم پیری میں ہے ضرورلیکن نہ دل سے کیجیے صبر و قرار دورشاید خزاں سے شکل عیاں ہو بہار کیکچھ مصلحت اسی میں ہو پروردگار کییہ جعل یہ فریب یہ سازش یہ شور و شرہونا جو ہے سب اس کے بہانے ہیں سر بسراسباب ظاہری میں نہ ان پر کرو نظرکیا جانے کیا ہے پردۂ قدرت میں جلوہ گرخاص اس کی مصلحت کوئی پہچانتا نہیںمنظور کیا اسے ہے کوئی جانتا نہیںراحت ہو یا کہ رنج خوشی ہو کہ انتشارواجب ہر ایک رنگ میں ہے شکر کرد گارتم ہی نہیں ہو کشتہ نیرنگ روزگارماتم کدے میں دہر کے لاکھوں ہیں سوگوارسختی سہی نہیں کہ اٹھائی کڑی نہیںدنیا میں کیا کسی پہ مصیبت پڑی نہیں
چھوٹی سی بلوچھوٹا سا بستہٹھونسا ہے جس میںکاغذ کا دستہلکڑی کا گھوڑاروئی کا بھالوچورن کی شیشیآلو کچالوبلو کا بستہجن کی پٹاریجب اس کو دیکھوپہلے سے بھاریلٹو بھی اس میںرسی بھی اس میںڈنڈا بھی اس میںگلی بھی اس میںاے پیاری بلویہ تو بتاؤکیا کام کرنےاسکول جاؤاردو نہ جانوانگلش نہ جانوکہتی ہو خود کوبلقیس بانوعمر کی اتنیکچی نہیں ہوچھ سال کی ہوبچی نہیں ہوباہر نکالولکڑی کا گھوڑایہ لٹو رسییہ گلی ڈنڈاگڑیا کے جوتےجمپر جرابیںبستے میں رکھواپنی کتابیںمنہ نہ بناؤاسکول جاؤاے پیاری بلواے پیاری بلو
گلدستۂ رنگیں کف ساحل پہ دھرا ہےبلور کا ساغر ہے کہ صہبا سے بھرا ہے
اے مجاز اے ترانہ بار مجاززندہ پیغمبر بہار مجازاے بروۓ سمن وشاں گل پوشاے بہ کوۓ مغاں تمام خروشاے پرستار مہ رخان جہاںاے کماں دار شاعران جواںتجھ سے تاباں جبین مستقبلاے مرے سینۂ امید کے دلاے مجاز اے مبصر خد و خالاے شعور جمال و شمع خیالاے ثریا فریب و زہرہ نوازشاعر مست و رند شاہد بازناقد عشوۂ شباب ہے توصبح فردا کا آفتاب ہے توتجھ کو آیا ہوں آج سمجھانےحیف ہے تو اگر برا مانےخود کو غرق شراب ناب نہ کردیکھ اپنے کو یوں خراب نہ کرشاعری کو تری ضرورت ہےدور فردا کی تو امانت ہےصرف تیری بھلائی کو اے جاںبن کے آیا ہوں ناصح ناداںایک ٹھہراؤ اک تکان ہے تودیکھ کس درجہ دھان پان ہے توننگ ہے محض استخواں ہوناسخت اہانت ہے ناتواں ہونااستخوانی بدن دخانی پوستایک سنگین جرم ہے اے دوستشرم کی بات ہے وجود سقیمناتوانی ہے اک گناہ عظیمجسم اور علم طرفہ طاقت ہےیہی انسان کی نبوت ہےجو ضعیف و علیل ہوتا ہےعشق میں بھی ذلیل ہوتا ہےہر ہنر کو جو ایک دولت ہےعلم اور جسم کی ضرورت ہےکثرت بادہ رنگ لاتی ہےآدمی کو لہو رلاتی ہےخوش دلوں کو رلا کے ہنستی ہےشمع اختر بجھا کے ہنستی ہےاور جب آفت جگر پہ لاتی ہےرند کو مولوی بناتی ہےمے سے ہوتا ہے مقصد دل فوتمے ہے بنیاد مولویت و موتکان میں سن یہ بات ہے نشترمولویت ہے موت سے بد تراس سے ہوتا ہے کار عمر تماماس سے ہوتا ہے عقل کو سرساماس میں انساں کی جان جاتی ہےاس میں شاعر کی آن جاتی ہےیہ زمین آسمان کیا شے ہےآن جائے تو جان کیا شے ہےگوہر شاہ وار چن پیارےمجھ سے اک گر کی بات سن پیارےغم تو بنتا ہے چار دن میں نشاطشادمانی سے رہ بہت محتاطغم کے مارے تو جی رہے ہیں ہزارنہیں بچتے ہیں عیش کے بیمارآن میں دل کے پار ہوتی ہےپنکھڑی میں وہ دھار ہوتی ہےجوئے عشرت میں غم کے دھارے ہیںیخ و شبنم میں بھی شرارے ہیںہاں سنبھل کر لطافتوں کو برتٹوٹ جائے کہیں نہ کوئی پرتدیکھ کر شیشۂ نشاط اٹھایہ ورق ہے ورق ہے سونے کاکاغذ باد یہ نگینہ ہےبلکہ اے دوست آبگینہ ہےساغر شبنم خوش آب ہے یہآبگینہ نہیں حباب ہے یہروک لے سانس جو قریب آئےٹھیس اس کو کہیں نہ لگ جائےتیغ مستی کو احتیاط سے چھوورنہ ٹپکے گا انگلیوں سے لہومستیوں میں ہے تاب جلوۂ ماہاور سیہ مستیاں خدا کی پناہخوب ہے ایک حد پہ قائم نشہہلکا پھلکا سبک ملائم نشہہاں ادب سے اٹھا ادب سے جامتاکہ آب حلال ہو نہ حرامجام پر جام جو چڑھاتے ہیںاونٹ کی طرح بلبلاتے ہیںزندگی کی ہوس میں مرتے ہیںمے کو رسوائے دہر کرتے ہیںیاد ہے جب جگرؔ چڑھاتے تھےکیا الف ہو کے ہن ہناتے تھےمیری گردن میں بھر کے چند آہیںپاؤں سے ڈالتے تھے وہ بانہیںعقل کی موت علم کی پستیالاماں لعنت سیہ مستیاف گھٹا ٹوپ نشے کا طوفانبھوت عفریت دیو جن شیطانلات گھونسہ چھڑی چھری چاقولب لباہٹ لعاب کف بدبوطنز آوازہ برہمی افسادطعن تشنیع مضحکہ ایرادشور ہو حق ابے تبے ہے ہےاوکھیاں گالیاں دھماکے قےمس مساہٹ غشی تپش چکرسوز سیلاب سنسنی صرصرچل چخے چیخ چناں چنیں چنگھاڑچخ چخے چاؤں چاؤں چیل چلھاڑلپا ڈکی لتام لام لڑائیہول ہیجان ہانک ہاتھا پائیکھلبلی کاؤں کاؤں کھٹ منڈلہونک ہنگامہ ہمہمہ ہلچلالجھن آوارگی ادھم اینٹھنبھونک بھوں بھوں بھنن بھنن بھن بھندھول دھپا دھکڑ پکڑ دھتکارتہلکہ تو تڑاق تف تکراربو بھبھک بھیے بکس برر بھونچالدبدبے دندناہٹیں دھمالگاہ نرمی و لطف و مہر و سلامگاہ تلخی و ترشی و دشنامعقل کی موت علم کی پستیالاماں لعنت سیہ مستیصرف نشے کی بھیگنے دے مسیںان کو بننے نہ دے کبھی مونچھیںالاماں خوفناک کالا نشہاوہ ریش و بروت والا نشہاژدر مرگ او دیو خوں خواریالاماں نشۂ ''جٹادھاری''نشے کا جھٹ پٹا ہے نور حیاتجھٹپٹے کو بنا نہ کالی راتنشے کی تیز روشنی بھی غلطچودھویں کی سی چاندنی بھی غلطذہن انساں کو بخشتا ہے جمالنشہ ہو جب یہ قدر نور ہلالغرفۂ عقل بھیڑ تو اکثرپر اسے کچ کچا کے بند نہ کررات کو لطف جام ہے پیارےدن کا پینا حرام ہے پیارےدن ہے عفریت آز کی کھنکارات پازیب نازکی جھنکاردن ہے خاشاک خاک دھول دھواںرات آئینہ انجمن افشاںدن مسلح دواں کمر بستہرات طاق و رواق و گلدستہدن ہے فولاد سنگ تیغ علمرات کمخواب پنکھڑی شبنمدن ہے شیون دہائیاں دکھڑےرات مست انکھڑیاں جواں مکھڑےدن کڑی دھوپ کی بد آہنگیرات پچھلے پہر کی سارنگیدن بہادر کا بان بیر کی رتھرات چمپاکلی انگوٹھی نتھدن ہے طوفان جنبش و رفتاررات میزان کاکل و رخسارآفتاب و شراب ہیں بیریبوتلیں دن کو ہیں پچھل پیریکر نہ پامال حرمت اوقاترات کو دن بنا نہ دن کو راتپی مگر صرف شام کے ہنگاماور وہ بھی بہ قدر یک دو جاموہی انساں ہے خرم و خورسندجو ہے مقدار و وقت کا پابندمیرے پینے ہی پر نہ جا مری جاںمجھ سے جینا بھی سیکھ ہیں قرباںاس کے پینے میں رنگ آتا ہےجس کو جینے کا ڈھنگ آتا ہےیہ نصائح بہت ہیں بیش بہاجلد سو جلد جاگ جلد نہاباغ میں جا طلوع سے پہلےتا نگار سحر سے دل بہلےسرو و شمشاد کو گلے سے لگاہر چمن زاد کو گلے سے لگامنہ اندھیرے فضائے گلشن دیکھساحل و سبزہ زار و سوسن دیکھگاہ آوارہ ابر پارے دیکھان کی رفتار میں ستارے دیکھجیسے کہرے میں تاب روئے نکوجیسے جنگل میں رات کو جگنوگل کا منہ چوم اک ترنم سےنہر کو گدگدا تبسم سےجسم کو کر عرق سے نم آلودتاکہ شبنم پڑھے لہک کے درودپھینک سنجیدگی کا سر سے بارناچ اچھل دندنا چھلانگیں ماردیکھ آب رواں کا آئینہدوڑ ساحل پہ تان کر سینہمست چڑیوں کا چہچہانا سنموج نو مشق کا ترانہ سنبوستاں میں صبا کا چلنا دیکھسبزہ و سرو کا مچلنا دیکھشبنم آلود کر سخن کا لباسچکھ دھندلکے میں بوئے گل کی مٹھاسشاعری کو کھلا ہوائے سحراس کا نفقہ ہے تیری گردن پررقص کی لہر میں ہو گم لب نہریوں ادا کر عروس شعر کا مہرجذب کر بوستاں کے نقش و نگارذہن میں کھول مصر کا بازارنرم جھونکوں کا آب حیواں پیبوئے گل رنگ شبنمستاں پیگن گنا کر نظر اٹھا کر پیصبح کا شیر دغدغہ کر پیتاکہ مجرے کو آئیں کل برکاتدولت جسم و علم و عقل و حیاتیہ نہ طعنہ نہ یہ الہنا ہےایک نکتہ بس اور کہنا ہےغیبت نور ہو کہ کثرت نورظلمت تام ہو کہ شعلۂ طورایک سا ہے وبال دونوں کاتیرگی ہے مآل دونوں کادرخور صاحب مآل نہیںہر وہ شے جس میں اعتدال نہیںشادمانی سے پی نہیں سکتاجس کو ہوکا ہو جی نہیں سکتااے پسر اے برادر اے ہم رازبن نہ اس طرح دور کی آوازکوئی بیمار تن نہیں سکتاخادم خلق بن نہیں سکتاخدمت خلق فرض ہے تجھ پردور ماضی کا قرض ہے تجھ پرعصر حاضر کے شاعر خوددارقرض داری کی موت سے ہشیارذہن انسانیت ابھار کے جازندگانی کا قرض اتار کے جاتجھ پہ ہندوستان ناز کرےعمر تیری خدا دراز کرے
سانپ لپیٹے گھوم رہا ہوںدنیا مجھ سے خوف زدہ ہےسب مجھ کو اچھے لگتے ہیںلیکن یوں ہےجس لڑکی کو چاہا میں نےجس لڑکے کو دوست بنایاجس گھر میں ماں باپ بنائےجس مسجد میں گھٹنے ٹیکےسب نے میرا سانپ ہی دیکھامجھ کو کوئی دیکھ نہ پایامیں سب کو کیسے سمجھاؤںیہ دنیا کا سانپ نہیں ہےمیرے ساتھ پلا پوسا ہےیہ میرا ماں جایابس مجھ کو ڈستا ہے
ابھی کچھ دن لگیں گے خواب کو تعبیر ہونے میںکسی کے دل میں اپنے نام کی شمع جلانے میںکسی کے شہر کو دریافت کرنے میںکسی انمول ساعت میں کسی ناراض ساتھی کو ذرا سا پاس لانے میںابھی کچھ دن لگیں گےدرد کا پرچم بنانے میںپرانے زخم پہ مرہم لگانے میںمحبت کی کویتا کو ہوا کے رخ پہ لانے میںپرانی نفرتوں کو بھول جانے میںابھی کچھ دن لگیں گےرات کی دیوار میں اک در بنانے میںمقدر میں لگی اک گانٹھ کو آزاد کرنے میںنئے کچھ مرحلے تسخیر کرنے میںمرے غالبؔ، مرے ٹیگورؔ کو اپنا بنانے میںابھی کچھ دن لگیں گےدشت میں پھولوں کا گلدستہ سجانے میںابھی کچھ دن لگیں گےمگر یہ دن زیادہ تو نہیں ہوں گےبس اک موسم کی دوری پرکہیں ہم تم ملیں گےبس اک ساعت کی نزدیکی میںباہم مشورے ہوں گےبس اک گزرے ہوئے کل سے پرےہم پاس بیٹھیں گےبہت سا درس سہہ لیں گےبہت سی بات کر لیں گے!
اے درختو! تمہیں جب کاٹ دیا جائے گااور تم سوکھ کے لکڑی میں بدل جاؤ گےایسے عالم میں بہت پیش کشیں ہوں گی تمہیںتم مگر اپنی روایت سے نہ پھرنا ہرگزشاہ کی کرسی میں ڈھلنے سے کہیں بہتر ہےکسی فٹپاتھ کے ہوٹل کا وہ ٹوٹا ہوا تختہ بننامیلے کپڑوں میں سہی لوگ محبت سے جہاں بیٹھتے ہیںکسی بندوق کا دستہ بھی نہیں ہونا تمہیںچاقو چھریوں کو بھی خدمات نہ اپنی دیناایسے دروازے کی چوکھٹ بھی نہ بننا ہرگزجو محبت بھری دستک پہ کبھی کھل نہ سکےاے درختو! تمہیں جب کاٹ دیا جائے گااور تم سوکھ کے لکڑی میں بدل جاؤ گےکوئی بیساکھی بنائے تو سہارا دینااور کشتی کے لیے اتنی محبت سے تم آگے بڑھناکہ سمندر کی فراخی بھی بہت کم پڑ جائےاپنے پتوار مرے بازوؤں جیسے رکھناجو کسی اور کی طاقت کے سوا زندہ ہیںمیری دنیا کہ ابھی واقف الفت ہی نہیںمیرے بازو بھی محبت کے سوا زندہ ہیں
اے شہر رسن بستہکیا یہ تری منزل ہےکیا یہ ترا حاصل ہےیہ کون سا منظر ہےکچھ بھی تو نہیں کھلتاکیا تیرا مقدر ہےتقدیر فصیل شہر کتبہ ہے کہ گلدستہاے شہر رسن بستہاب کوئی بھی خوابوں پر ایمان نہیں رکھتاکس راہ پہ جانا ہے کس راہ نہیں جانا پہچان نہیں رکھتاشاعر ہو کہ صورت گر باغوں کی چراغوں کی بستی کے سجانے کا سامان نہیں رکھتاجس سمت نظر کیجے آنکھوں میں در آتے ہیں اور خون رلاتے ہیںیادوں سے بھرے دامن لاشوں سے بھرا رستہاے شہر رسن بستہمدت ہوئی لوگوں کو چپ مار گئی جیسےٹھکرائی ہوئی خلقت جینے کی کشاکش میں جی ہار گئی جیسےہر سانس خجل ٹھہری بے کار گئی جیسےاب غم کی حکایت ہو یا لطف کی باتیں ہوں کوئی بھی نہیں روتا کوئی بھی نہیں ہنستااے شہر رسن بستہ
وقت ہے ناگ ترے جسم کو ڈستا ہوگایخ کر تجھ کو ہوائیں بھی بپھرتی ہوں گیسب ترے سائے کو آسیب سمجھتے ہوں گےتجھ سے ہم جولیاں کترا کے گزرتی ہوں گیکتنی یادیں ترے اشکوں سے ابھرتی ہوں گی
ہے کنارے یہ جمنا کے اک شاہکاردیکھنا چاندنی میں تم اس کی بہاریاد ممتاز میں یہ بنایا گیاسنگ مرمر سے اس کو تراشا گیاشاہجہاں نے بنایا بڑے شوق سےبرسوں اس کو سجایا بڑے شوق سےہاں یہ بھارت کے محلات کا تاج ہےسب کے دل پہ اسی کا سدا راج ہےاس کی کاری گری ہے بڑی بے مثالواقعی ہے زمانہ میں یہ لا زوالایک شفاف آئینہ سمجھوں نہ کیوںاس کو نرگس کا گلدستہ کیوں نہ کہوںکیا مٹائے گا نقش اس کے کیسے کوئیتاج حافظؔ جی کیوں کر بنائے کوئی
ہم دونوں جدا ہو گئےجدائی نے ہمارے خواب زہریلے کر دیےیک سانسی موت اب ہماری پہلی ترجیح ہےتنہائی کا سانپ ہمیں رات بھر ڈستا رہتا ہےاور صبح اپنا زہر چوس کراگلی رات ڈسنے کے لیےزندہ چھوڑ جاتا ہے
گندی نالی میں اسے پھینک دیا جائے گاوہ کلی جو ابھی معصوم ہے بے پروا ہےمیری بچی میری بچی بھی طوائف ہوگیسانپ کی طرح یہ احساس مجھے دستا ہے
ہوا کے پاؤں اس زینے تلک آئے تھے لگتا ہےدیئے کی لو پہ یہ بوسہ اسی کا ہےمری گردن سے سینے تکخراشوں کی لکیروں کا یہ گلدستہطلسمی قفل کھلنے کی اسی ساعت کی خاطرہجر کے موسم گزارے ہیںہوا نے مدتوں میں پاؤں پانی میں اتارے ہیںمری پسلی سے پیدا ہووہی گندم کی بو لے کرزمیں اور آسماں کی وسعتیںمجھ میں سمٹ آئیںالوہی لذت نایاب سے سرشار کر مجھ کومیں اک پیاسا سمندر ہوںتو اپنی جسم کی کشتی میں آاور پار کر مجھ کو
کراچی سے پیا کی گود میں ہندوستاں آیانئی دہلی سے کہنے کو پرانی داستاں آیاجوانی کے لیے یادیں میں سوئے گلستاں آیابرائے اہل محفل اور بہ یاد رفتگاں آیاوہ مسکن تھا وہ مدفن ہے بہت سے اہل ایماں کا''وہ اک گلدستہ ہے ہم بے خودوں کے طاق نسیاں کا''
یہ جو اک حضرت چلے آتے ہیں گورستان سےیہ نہ سمجھیں آپ ہیں بے زار اپنی جان سےآپ کو یونہی ہے آثار قدیمہ سے لگاؤجس طرح چونا ڈلی، کتھے کو نسبت پان سےآپ کو قبروں سے الفت عشق ویرانے سے ہےآپ گھبراتے ہیں جیتے جاگتے انسان سےکوئی کتنا ہی بڑا ہو فلسفی شاعر ادیبعمر بھر اس سے رہا کرتے ہیں آپ انجان سےہاں مگر جیسے ہی پا جاتا ہے بے چارہ وفاتآپ اس کو چاہنے لگتے ہیں جی سے جان سےسونگھتے ہیں دیر تک مرحوم کی خاک لحدپھر یہ فرماتے ہیں اٹھ کر عالمانہ شان سےطول و عرض قبر سے یہ صاف چلتا ہے پتاگورکن آئے تھے اطراف بلوچستان سےیہ تھا اک رخ صاحب تحقیق کی تصویر کادوسرا رخ بھی بیاں کرتا ہوں، سنیے دھیان سےہیں بزعم خود محقق آپ ہندوستان کےآپ نے نقطے گنے ہیں میرؔ کے دیوان کےکاٹتے ہیں سوت کو تحقیق کے اتنا مہینآپ کے آگے جولاہے مات ہیں ایران کےزیر تحقیق آپ کے رہتے ہیں یہ سب مسئلےکس قدر چوہے پلے تھے گھر میں مومنؔ خان کےپانچ بج کر پانچ پر یا پانچ بج کر سات پرداغؔ نے توڑا تھا دم زانو پہ منی جان کےرندؔ نے اک بے وفا کے عشق میں کھائی تھی جووہ چھری کے زخم تھے یا گھاؤ تھے کرپان کےدھن ہے یہ ثابت کریں، دلی تھا ملٹنؔ کا وطناور سوداؔ کے چچا بوچر تھے انگلستان کےالغرض رہتی ہے روز و شب یہی بس ایک فکرکوئی گلدستہ اتاریں طاق سے نسیان کے
کیا چیز لو گےچمچہ کہ تھالیتھالی بھری ہے چمچہ ہے خالیمیں لوں گا تھالیکیا چیز لو گےروٹی کہ کیلاروٹی ہے سب کی میں ہوں اکیلامیں لوں گا کیلاکیا چیز لو گےکیلا کہ بستہبستہ ہے میرا پھولوں کا دستہمیں لوں گا بستہتب تم کو مانو مل جائے سب کچھکہتے تھے تب کچھ دیتے ہو اب کچھمیں لوں گا سب کچھ
اس نے اپنے دل کی کالی دھرتی پر ایک درخت اگایا تھاپہلے اس پر امیدوں کے پھل آتے تھےاس کی شاخیں خوشبوؤں کے پتوں سے بھر جاتی تھیںیادوں کی خوشبوئیں فضا میں بکھر جاتی تھیںکبھی کبھی راتوں کی مایوسی کی شبنمسارے درخت کو دھو دیتی تھیپھولوں میں نوکیلے کانٹے بو دیتی تھیپھر بھی میں دنیا کی جلتی دھوپ سے گھبرا کراکثر اس کے سائے میں آ جاتا تھاسکھ پاتا تھالیکن اب یہ درخت تو جیسے سنگ سفید کا ہےاس کی شاخیں دودھیا دھات کی ہیںاب اس پر ٹیڑھے میڑھے مخروطی اور مربع شکلوں والےلوہے کے پھل آتے ہیںاس کا سایہ گرم دہکتے انگاروں کی آگ ہےاس کی خوشبو بہتے خون کا راگ ہےمیرے دل کی مٹی پر اب کوئی درخت نہیں ہے ناگ ہےپھن پھیلا کر بیٹھا ہے اور اپنے جسم کو ڈستا ہےجسم اب اس کا جسم نہیں ہےپیلے خون کا رستہ ہے
میں ابھی چھوٹا تھاکسی نے میرے ہاتھ میں چاقو تھما دیامیں نے اپنی عمر کی لکیر کوچھ جگہ سے کاٹ ڈالااور محبت کی لکیرچاقو کی نوک سے کھرچ دیچاقو کا دستہ مجھے کچھ بے ہنگم سا محسوس ہوااسے میں نےہتھوڑے کی ضرب سےچاقو سے علاحدہ کر دیاذرا سی دھار لگانے کے بعداب اسے دونوں طرف سے استعمال کیا جا سکتا تھامجھے یاد نہیںمیں نے اسے کتنی جگہ استعمال کیا ہوگاالبتہ اس سے میری ہتھیلیوں پرکئی بے سی لکیریں پڑ گئیںاور ایک ہاتھ کی تمام انگلیاںتلف ہو گئیںہتھیلی کی بے ضرورت لکیروں نےمیری بعد کی زندگی میںکئی مشکلات پیدا کیںسب سے بڑی مشکلتو خود یہ چاقو تھاجو اپنی دو طرفہ دھار سےمجھے زخمی کر رہا تھاایک مشکل اور ہےایسا ہی ایک چاقوایک دن آئنے میں میرے عکس کودو مساوی ٹکڑوں میں تقسیم کر گیااور میں ٹھیک سے یہ بھی نہ دیکھ سکاکہ اس کا دستہ کس کے ہاتھ میں تھا
یہ سینری ہے یہ تاج محل یہ کرشن ہیں اور یہ رادھا ہیںیہ کوچ ہے یہ پائپ ہے مرا یہ ناول ہے یہ رسالہ ہےیہ ریڈیو ہے یہ قمقمے ہیں یہ میز ہے یہ گلدستہ ہےیہ گاندھیؔ ہیں ٹیگورؔ ہیں یہ یہ شاہنشہ یہ ملکہ ہیں
بساط خونچکاں پرریت کی دیوار نکلا ہر بہادراور اب اطراف میں شہہ کےکوئی خندق ہے اورنہ کوئی دستہ ہے حفاظت کاوزیر محترم کا خانہ خالی ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books