aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "gard-e-malaal"
کبھی گر اس رخ تابندہ پر ہو گرد ملالتو اپنی جاں سے نہیں دو جہاں سے بیزاری
لبوں پہ موج تبسم ہے دل میں گرد ملالمیں خوش تو ہوں مگر آنکھوں سے اشک بہتے ہیںمری اداس جوانی نے مجھ سے پوچھا ہےسہاگ رات اسی بے بسی کو کہتے ہیں
وقت کی گرد چھٹے گی تو بعنوان سحرمنزل شوق کی راہوں کا تعین ہوگااک نئے دور کی تعمیر کریں گے ہم سبچاند تاروں سے سجا اپنا نشیمن ہوگا
یہ ترے سر کی سفیدی اور یہ گرد ملالمیں تو کیا شرما رہا ہے خود خدائے ذو الجلال
آہ! گنگا یہ حسیں پیکر بلور تراتیری ہر موج رواں جلوۂ مغرور تراجور مغرب سے مگر دل ہے بہت چور تراجھانکتا ہے ترے گرداب سے ناسور تراظلم ڈھائے ہیں سفینوں نے ستم گاروں کےزخم اب تک ترے سینے پہ ہیں پتواروں کےمحو رہتے تھے ستارے تری مے پینے میںچاند منہ دیکھتا تھا تیرے ہی آئینے میںخلوت مہر درخشاں تھی ترے سینے میںتیری تابانیاں آتی نہ تھیں تخمینے میںآج روتی ہے مگر تیری جوانی تجھ کوکھا گیا آ کے یہاں 'ٹیمز' کا پانی تجھ کوآہ اے کوہ ہمالہ کے غرور سیالتیرے دامن پہ کبھی بیٹھی نہ تھی گرد ملالمنہ ترا پونچھتا تھا چاند کا سیمیں رومالزخم سینے پہ لیے آج ہیں دھارے تیرےاف کہاں ڈوب گئے چاند ستارے تیرےریگ دوزخ کو چھپائے ہے قبا کے اندرہولناک آج ہے کتنا یہ دہکتا منظرشام ہی شام نظر آتی ہے کیوں ساحل پر؟کیوں تری موجوں سے چھنتے نہیں انوار سحر؟روشنی کیوں ہوئی جاتی ہے گریزاں تجھ سےکیوں اندھیروں کے ہیں لپٹے ہوئے طوفاں تجھ سےآج ساحل پہ نظر آتی ہے جلتی ہوئی آگآدمیت کا سلگتا ہے ہواؤں میں سہاگآج ہے ساز سیاست کا بھیانک سا راگپھن اٹھائے ہوئے بل کھاتے ہیں شعلوں کے ناگآج انسان کو ڈستی ہیں ہوائیں تیریزہر سے کتنی ہیں لبریز فضائیں تیریآئی ہے ٹیمس سے اک موج رواں گاتی ہوئیتجھ کو آزادی کے پیغام سے بہلاتی ہوئیروح مے خانہ لیے شوق کو بہکاتی ہوئیناز کرتی ہوئی ہنستی ہوئی اٹھلاتی ہوئیلاکھ الجھا کریں زلفوں میں الجھنے والےاس کے عشوؤں کو سمجھتے ہیں سمجھنے والےلیکن اے بنت ہمالہ تری عظمت کی قسمسیل کے سانچے میں ڈھالی ہوئی رفعت کی قسمتیرے جلووں کی قسم، تیری لطافت کی قسمتیری موجوں سے ابھرتی ہوئی ہمت کی قسماب تری آنکھوں کو نمناک نہ ہونے دیں گےدامن ناز ترا چاک نہ ہونے دیں گے
لاہور میں دیکھا اسے مدفوں تہ مرقدگرد کف پا جس کی کبھی کاہکشاں تھی
گرد و غبار خواب سےدھند کا ننھا نقطہ پھیل رہا ہےاور افق اس کی زد میں ہے
جلتی بجھتی ہوئی آنکھوں میںیہ گرد مہ و سالماضی ہے نہ حالذہن کرتا ہے سوالدل ہے خاموش کہ ابروح اور جسم کا رشتہ ٹوٹا
بڑھی وہ سائے کی طرح رواں دواں رواں دواںمیں اس کے پیچھے ہو لیا مثال گرد کارواں
ہوائے انتشار اک پل میں ترتیبیں زمانوں کیالٹ دیتی ہے کیسے اور قضا و قدر کے ہاتھوںیقیں کے جگمگاتے مسکراتے سورجوں سے پرافق گرد و غبار راہ بن کر ڈوب جاتے ہیں
مٹ مٹ کے گرد راہ وطن بن رہا ہوں میںپیسے ہزار گردش چرخ کہن مجھے
آج اک اور ہی عالم ہے مری نظروں میںجس کا ہر ذرہ ہے واماندگیٔ غم سے نڈھالجس کے تاریک خرابوں میں ہیں برباد وہ لوگجن کو الفت کا ہے یارا نہ مسرت کی مجالجن کی آنکھوں میں فقط ظلمت فردا کے ہیں خوابجن کے چہروں پہ فقط سایۂ اندوہ و ملال
مرے لئے یہ اداسی یہ سوگ کیوں آخرملیح چہرے پہ گرد فسردگی کیسی
گئی رتوں کے حسیں خواب ساتھ ساتھ چلےڈگر ڈگر پہ تمہارا ہی نام لکھتے چلےجو لوح سادہ پر اک بار تیرا نام لکھاغبار گرد زمانہ اسے مٹا نہ سکا
ذرا سی بات لیکن آبگینے ٹوٹ جاتے ہیںذرا سی بات پہروں دل دکھاتی ہے ستاتی ہےتغافل گو بھلا لگتا ہے پھر بھی جی تو جلتا ہےہوائے انتشار اک پل میں ترتیبیں زمانوں کیالٹ دیتی ہے کیسے اور قضا و قدر کے ہاتھوںیقیں کے جگمگاتے مسکراتے سورجوں سے پرافق گرد و غبار راہ بن کر ڈوب جاتے ہیں
اے عشق ازل گیر و ابد تاب میرے بھی ہیں کچھ خوابمیرے بھی ہیں کچھ خواباس دور سے اس دور کے سوکھے ہوئے دریاؤں سےپھیلے ہوئے صحراؤں سے اور شہروں کے ویرانوں سےویرانہ گروں سے میں حزیں اور اداس!اے عشق ازل گیر و ابد تابمیرے بھی ہیں کچھ خواب!اے عشق ازل گیر و ابد تاب میرے بھی ہیں کچھ خوابمیرے بھی ہیں کچھ خوابوہ خواب کہ اسرار نہیں جن کے ہمیں آج بھی معلوموہ خواب جو آسودگیٔ مرتبہ و جاہ سےآلودگیٔ گرد سر راہ سے معصوم!جو زیست کی بے ہودہ کشاکش سے بھی ہوتے نہیں معدومخود زیست کا مفہوم!
گرد و غبار یاں کا خلعت ہے اپنے تن کومر کر بھی چاہتے ہیں خاک وطن کفن کو
سوختہ جاں سوختہ دلسوختہ روحوں کے گھر میںراکھ گرد آتشیں شعلوں کے سائےنقش ہیں دیواروں پر مفروق چہرےلوٹ چلیے اپنے سب ارمان لے کر
ہم نہ ہوں گے تم نہ ہو گے یاد اک تڑپائے گیراستے میں صرف گرد کارواں رہ جائے گی
سوختہ جاں سوختہ دلسوختہ روحوں کے گھر میںراکھ گرد آتشیں شعلوں کے سائےنقش ہیں دیواروں پر مفروق چہرےلوٹ چلئے اپنے سب ارمان لے کر
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books