aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "gardish-e-chashm-e-yaar"
چاند نکلا ہے داغوں کی مشعل لیےدور گرجا کے میناروں کی اوٹ سےآ مری جان آ ایک سے دو بھلےآج پھیرے کریں کوچۂ یار کےاور ہے کون درد آشنا باورے!ایک میں شہر میں، ایک تو شہر میں
پھیکا ہے جس کے سامنے عکس جمال یارعزم جواں کو میں نے وہ غازہ عطا کیا
ہجوم سنگ انا اور ضبط پیہم نےمثال ریگ رواں بے قرار رکھا ہےمرے وجود کی وحشت نے رات بھر مجھ کوغبار قافلۂ انتظار رکھا ہےبہ پیش خدمت چشم سراب آلودہہوا نے دست طلب بار بار رکھا ہے
ادھر شہنائی سی گونجیکسی کی مانگ میں سندورننہا سا فرشتہچشم بد دور
توڑ لینا شاخ سے تجھ کو مرا آئیں نہیںیہ نظر غیر از نگاہ چشم صورت بيں نہیںآہ یہ دست جفا جو اے گل رنگیں نہیںکس طرح تجھ کو یہ سمجھاؤں کہ میں گلچیں نہیںکام مجھ کو دیدہ حکمت کے الجھيڑوں سے کیادیدہ بلبل سے میں کرتا ہوں نظارہ تیرا
اب تو بس کر اے چشم ترکب تک ساتھ نبھائے بدرا
آہ بر لب چشم پر نم زرد روہے پریشانی قیامت مو بہ موہائے ہائے کی صدا ہے چار سوخاک میں سب کی ملی ہے آبروپا برہنہ گھر سے نکلے مرد و زنلوگ دہلی کے ہیں سارے نعرہ زن
چشم تمناجسے نیند آئی تھی صدیوں کی بیماریوں کی تھکن سےجاگ اٹھی ہے شایدبدن میں نیا دن شگوفے کی مانند ابھراشفق زار بن کردل کی آغوش میں آ بسا ہےنظارے میں مسحور رہنے کی خواہش جنم لے رہی ہےبسا کر اسے اپنی نظروں میںشاداب آنکھوں میں رہنے کو جی چاہتا ہےوہی رنگ و بو کی حرارت کی ہلکی لکیریںتمازت کے جھونکے بدن چھو رہے ہیںبہار آ گئی یاد کی وادیوں میںسفر کے ارادوں سے مایوس کشتیکنارے پہ یوں آ لگی ہےکہ ٹھہری ہوئی جھیل کی روشنی میں نیا گھر بسا ہےیہ چشم تمنا کی کشتی بنی ہے نیا آشیانہنیلگوں روشنی تیرتی ہےمگر یہ کھڑی ہےزمانے محبت کے پھر لوٹ آئے ہیں شایدوقت کے ٹھہر جانے کی شاید گھڑی ہےقیامت کڑی ہے
چشم بے خواب کو سامان بہت!رات بھر شہر کی گلیوں میں ہواہاتھ میں سنگ لیےخوف سے زرد مکانوں کے دھڑکتے دل پردستکیں دیتی چلی جاتی ہےروشنی بند کواڑوں سے نکلتے ہوئے گھبراتی ہےہر طرف چیخ سی چکراتی ہےہیں مرے دل کے لیے درد کے عنوان بہت
سزائے خویش ہے خود سطح چشم ظاہر میںجسے معانی شاعر پہ اعتبار نہیں
چشم حیرت میںزخموں اور لاشوں کا جو سمندرٹھہر ٹھہر کر ڈرا رہا ہےمیں اس کے ساحل پہ بیٹھے بیٹھے آنے والے لوگوں کی خاطردو چار نظمیں لکھ رہا ہوںاگر میں ایسا نہ کروں تومجھے بتاؤ کہ کیا کروں میںعہد حاضر کے خشک دامنسرخ لاشوں سے بھر گئے ہیںاگر کچھ اس کے سوا بچا ہے تو بس مشینوں کا شور سا ہےفضا میں دھواں گھلا ہوا ہےمیں ان فضاؤں میں گھٹ رہا ہوںدو چار نظمیں لکھ رہا ہوںاگر میں ایسا نہ کروں تومجھے بتاؤ کہ کیا کروں میںمیرے عزیزو میرے رفیقوآؤ مل کر جتن کریں یہامید کی لو بڑھائے رکھیںحسین موسموں کی آہٹوں پرکان اپنا لگائے رکھیںافق پہ نظریں جمائے رکھیںامید رکھنایہاں سے ایک دن نیا سویرانئے اجالوں کے ساتھ ہو کرنئی امنگوں کے ہاتھ تھامےموسموں کو بدل ہی دے گاکان اپنا لگائےافق پہ نظریں جمائے رکھنا
چشم بد دور کراچی میں ٹریفک کا نظاماونٹ گاڑی کی گدھا گاڑی کی ٹک ٹک کا نظامراہگیروں سے پولس والوں کی جھک جھک کا نظامکتنا چوکس ہے یہ پسماندہ ممالک کا نظامراہ روکے ہے پولس ''کارگزاری'' دیکھوکس طرح جاتی ہے شاہوں کی سواری دیکھو
بتاؤں کیا جو رنگ گردش ایام ہے ساقیجہاں کا ذرہ ذرہ کشتۂ آلام ہے ساقیمعاذ اللہ اب ہر ہر قدم پر دام ہے ساقیگلستاں میں یہ آزادی کا فیض عام ہے ساقیسمجھ سکتا ہے کون اس راز کو جز اہل مے خانہلباس صبح میں کتنی بھیانک شام ہے ساقیقفس کیسا نشیمن کیا یہ سب کہنے کی باتیں ہیںنہ جب آرام تھا ساقی نہ اب آرام ہے ساقیعجم بے بہرۂ ایماں عرب بے بہرۂ دانشبایں آغاز دونوں کا برا انجام ہے ساقیستم یہ ہے کوئی شیشہ گروں کو کچھ نہیں کہتامری خارا شگافی مورد الزام ہے ساقیحجابات تصور میں ابھی ہے ملت آدمابھی انساں شکار لعنت اقوام ہے ساقیابھی مردود درگاہ خرد ہے تابش ایماںابھی مقبول عالم ظلمت اوہام ہے ساقیابھی پیاسوں نے پائی ہی نہیں ہے راہ مے خانہخرد کی کوشش پیہم ابھی ناکام ہے ساقیالجھ کر رہ گئے ہیں مدعیان ربوبیتخیال خام بالآخر خیال خام ہے ساقیچراغ راہ بن کر رہبری کی جس صحیفے نےوہ جزدانوں کے شیشے میں چراغ بام ہے ساقیترا یہ رند سرگشتہ جسے فاروقؔ کہتے ہیںاسی تنقید کے چلتے بہت بدنام ہے ساقیخط پیمانہ عرق موج صہبا ہوتا جاتا ہےاجازت ہو کہ اب آگے خدا کا نام ہے ساقی
اے منور کن تاریکیٔ چشم عاشقاے مداوا کن آلام دل ہجر نصیباے بہ یک شعبدہ زائل کن خشم عاشقاے بظاہر تو بہت دور مگر دل سے قریب
اے مرے خواب کی دلکش پریوگنگناتی ہوئی زلفوں کی گھٹاسرخ رخساردمکتے ہوئے لبنشۂ چشم فسوں ساز لیےمرمریں جسم لیےشعلۂ آواز لیےآ سکو آج اگر آ جاؤمیری تنہائی کو چمکا جاؤسرد ہے آتش دلاپنے آنچل کی ہوا سے اسے دہکا جاؤ!
کشمکش سے مفر کب ہوا ہے جو ہوجنبش چشم ساقی کو پہچان لودل کے ہنستے لہو کی دعائیں سنوگردش چرخ کومے کے اک جام میں دیکھ لومے کشوتشنگی زندگی کی علامت ہےپیتے رہو
گلابی دور میںوہ اپنے فن کا شاہزادہ تھافضائے عارض و چشم و لب و گیسو کا شیدائیوہ عریاںنیم عریاں جسم کی قوس قزحان کا تأثران کی بجلیاپنی تصویروں میں بھرتا تھاحسینوں کے دلوں میں وہ تھاخود بھی ان پہ مرتا تھااسے اس دور میںعزت ملیدولت ملی لیکندل رومان پرور میںکوئی شعلہ سا بھی محسوس کرتا تھا!2مصور ہی کے ناطےاس کا ''شش پہلو'' تصورایک شعلہ تھاکہ جس نے فن کا وہ پچھلا تصور خاک کر ڈالاوہ تصویروں میںتجریدی تصور زندگانی کابڑی خوبی سے بھرتا تھادکھائی دینے والا اک نیا سنگیت دیتا تھا3وہ جانب دار تھااور صاف کہتا تھاکہ جب انسانیتتہذیباور عالی ترین قدریںگھری ہوں سخت خطروں میںتو اک فن کار پر بھی یہ بتانا فرض ہوتا ہےکہ وہ کس کی طرف ہےفن کا اس سے کیا تقاضا ہے4''پکاسو'' مر گیایہ سوگ ہے لیکن''پکاسو'' اب بھی زندہ ہےوہ اپنے شاہ کاروں میںاسی انداز سے کھویا ہوا ہےاور کہتا ہے:میں زندہ ہوںدلوں کے درد کوبے چینیوں کواضطرابوںاور آہوں کوکہیں اک ''منزل زندہ'' سے پہلے موت آتی ہے
اس سے پہلے کہ تیری چشم کرممعذرت کی نگاہ بن جائےاس سے پہلے کہ تیرے بام کا حسنرفعت مہر و ماہ بن جائےپیار ڈھل جائے میرے اشکوں میںآرزو ایک آہ بن جائےمجھ پہ آ جائے عشق کا الزاماور تو بے گناہ بن جائےمیں ترا شہر چھوڑ جاؤں گااس سے پہلے کہ سادگی تیریلب خاموش کو گلہ کہہ دےمیں تجھے چارہ گر خیال کروںتو مرے غم کو لا دوا کہہ دےتیری مجبوریاں نہ دیکھ سکےاور دل تجھ کو بے وفا کہہ دےجانے میں بے خودی میں کیا پوچھوںجانے تو بے رخی سے کیا کہہ دےمیں ترا شہر چھوڑ جاؤں گاچارۂ درد ہو بھی سکتا تھامجھ کو اتنی خوشی بہت کچھ ہےپیار گو جاوداں نہیں پھر بھیپیار کی یاد بھی بہت کچھ ہےآنے والے دنوں کی ظلمت میںآج کی روشنی بہت کچھ ہےاس تہی دامنی کے عالم میںجو ملا ہے وہی بہت کچھ ہےمیں ترا شہر چھوڑ جاؤں گاچھوڑ کر ساحل مراد چلااب سفینہ مرا کہیں ٹھہرےزہر پینا مرا مقدر ہےاور ترے ہونٹ انگبیں ٹھہرےکس ترا تیرے آستاں پہ رکوںجب نہ پاؤں تلے زمیں ٹھہرےاس سے بہتر ہے دل یہی سمجھےتو نے روکا تھا ہم نہیں ٹھہرےمیں ترا شہر چھوڑ جاؤں گامجھ کو اتنا ضرور کہنا ہےوقت رخصت سلام سے پہلےکوئی نامہ نہیں لکھا میں نےتیرے حرف پیام سے پہلےتوڑ لوں رشتۂ نظر میں بھیتم اتر جاؤ بام سے پہلےلے مری جان میرا وعدہ ہےکل کسی وقت شام سے پہلےمیں ترا شہر چھوڑ جاؤں گا
یہ کہہ رہی ہے اشاروں میں گردش گردوںکہ جلد ہم کوئی سخت انقلاب دیکھیں گےنظام چرخ میں دیکھیں گے اک تغیر خاصسکون دہر میں اک اضطراب دیکھیں گےخدا نے چاہا تو اب جلد ہی وطن والےوطن میں اپنا مشن کامیاب دیکھیں گےدعائیں کی ہیں جو اہل وطن نے رو رو کریقیں ہے جلد انہیں مستجاب دیکھیں گےزمانہ آنے ہی والا ہے جب ہم اے ظالمتجھے بھی خوار تجھے بھی خراب دیکھیں گےبہت ہی جلد ترے سر پہ بھی خدا کی قسمخدا کا قہر خدا کا عتاب دیکھیں گےتجھے بھی دیکھیں گے مجبور فاقہ و افلاستجھے بھی قید غم و اضطراب دیکھیں گےتجھے بھی اپنی طرح جلد ہی بفضل خدااسیر سلسلۂ پیچ و تاب دیکھیں گےتجھے بھی اپنی طرح پائے بند نالہ و آہیوں ہی مجال تباہ و خراب دیکھیں گےرواں دواں تجھے ہندوستاں سے سوئے عدمبہ قلب زار و بہ چشم پر آب دیکھیں گےیہ دیکھنا ہے جو کچھ ہم کو اس میں دیر نہیںبہت ہی جلد بہت ہی شتاب دیکھیں گے
مرحلہ گردش حالات کے روز و شب کامرحلہ الجھے خیالات کے روز و شب کامرحلہ وقت کی بے مہری و بیزاری کامرحلہ ذہنی اذیت کا دل آزاری کاجیتے جی کیا مجھے ہر روز ہی مرنا ہوگازندگی اتنا بتا دے تو مجھے تیرے لیےاور یوں کتنے مراحل سے گزرنا ہوگا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books