aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "mane"
تم نے لوٹا ہے صدیوں ہمارا سکوںاب نہ ہم پر چلے گا تمہارا فسوںچارہ گر دردمندوں کے بنتے ہو کیوںتم نہیں چارہ گر کوئی مانے مگرمیں نہیں مانتا میں نہیں جانتا
تم مرے پاس رہومرے قاتل، مرے دل دار مرے پاس رہوجس گھڑی رات چلے،آسمانوں کا لہو پی کے سیہ رات چلےمرہم مشک لیے، نشتر الماس لیےبین کرتی ہوئی ہنستی ہوئی، گاتی نکلےدرد کے کاسنی پازیب بجاتی نکلےجس گھڑی سینوں میں ڈوبے ہوئے دلآستینوں میں نہاں ہاتھوں کی رہ تکنے لگےآس لیےاور بچوں کے بلکنے کی طرح قلقل مےبہر نا سودگی مچلے تو منائے نہ منےجب کوئی بات بنائے نہ بنےجب نہ کوئی بات چلےجس گھڑی رات چلےجس گھڑی ماتمی سنسان سیہ رات چلےپاس رہومرے قاتل، مرے دل دار مرے پاس رہو
سچ کہہ دوں اے برہمن گر تو برا نہ مانےتیرے صنم کدوں کے بت ہو گئے پرانےاپنوں سے بیر رکھنا تو نے بتوں سے سیکھاجنگ و جدل سکھایا واعظ کو بھی خدا نےتنگ آ کے میں نے آخر دیر و حرم کو چھوڑاواعظ کا وعظ چھوڑا چھوڑے ترے فسانےپتھر کی مورتوں میں سمجھا ہے تو خدا ہےخاک وطن کا مجھ کو ہر ذرہ دیوتا ہے
میں سوچتا ہوں اک نظم لکھوںلیکن اس میں کیا بات کہوںاک بات میں بھی سو باتیں ہیںکہیں جیتیں ہیں کہیں ماتیں ہیںدل کہتا ہے میں سنتا ہوںمن مانے پھول یوں چنتا ہوںجب مات ہو مجھ کو چپ نہ رہوںاور جیت جو ہو درانہ کہوںپل کے پل میں اک نظم لکھوںلیکن اس میں کیا بات کہوںجب یوں الجھن بڑھ جاتی ہےتب دھیان کی دیوی آتی ہےاکثر تو وہ چپ ہی رہتی ہےکہتی ہے تو اتنا کہتی ہےکیوں سوچتے ہو اک نظم لکھوکیوں اپنے دل کی بات کہوبہتر تو یہی ہے چپ ہی رہو
ایک کا حصہ من و سلویٰایک کا حصہ تھوڑا حلواایک کا حصہ بھیڑ اور بلوامیرا حصہ دور کا جلوا
کوئی مانے نہ مانے مگر جان منکچھ تمہیں چاہیے کچھ ہمیں چاہیے
فضاؤں میں ہے صبح کا رنگ طاریگئی ہے ابھی گرلز کالج کی لاریگئی ہے ابھی گونجتی گنگناتیزمانے کی رفتار کا راگ گاتیلچکتی ہوئی سی چھلکتی ہوئی سیبہکتی ہوئی سی مہکتی ہوئی سیوہ سڑکوں پہ پھولوں کی دھاری سی بنتیادھر سے ادھر سے حسینوں کو چنتیجھلکتے وہ شیشوں میں شاداب چہرےوہ کلیاں سی کھلتی ہوئی منہ اندھیرےوہ ماتھے پہ ساڑی کے رنگیں کنارےسحر سے نکلتی شفق کے اشارےکسی کی ادا سے عیاں خوش مذاقیکسی کی نگاہوں میں کچھ نیند باقیکسی کی نظر میں محبت کے دوہےسکھی ری یہ جیون پیا بن نہ سوہےیہ کھڑکی کا رنگین شیشہ گرائےوہ شیشے سے رنگین چہرا ملائےیہ چلتی زمیں پہ نگاہیں جماتیوہ ہونٹوں میں اپنے قلم کو دباتییہ کھڑکی سے اک ہاتھ باہر نکالےوہ زانو پہ گرتی کتابیں سنبھالےکسی کو وہ ہر بار تیوری سی چڑھتیدکانوں کے تختے ادھورے سے پڑھتیکوئی اک طرف کو سمٹتی ہوئی سیکنارے کو ساڑی کے بٹتی ہوئی سیوہ لاری میں گونجے ہوئے زمزمے سےدبی مسکراہٹ سبک قہقہے سےوہ لہجوں میں چاندی کھنکتی ہوئی سیوہ نظروں سے کلیاں چٹکتی ہوئی سیسروں سے وہ آنچل ڈھلکتے ہوئے سےوہ شانوں سے ساغر چھلکتے ہوئے سےجوانی نگاہوں میں بہکی ہوئی سیمحبت تخیل میں بہکی ہوئی سیوہ آپس کی چھیڑیں وہ جھوٹے فسانےکوئی ان کی باتوں کو کیسے نہ مانےفسانہ بھی ان کا ترانہ بھی ان کاجوانی بھی ان کی زمانہ بھی ان کا
کل راتبارش سے جسماور آنسوؤں سےچہرہ بھیگ رہا تھااس کے غم کی پردہ داریشاید خدا بھی کرنا چاہتا تھالیکن دھوپ نکلنے کے بعدجسم تو سوکھ گیالیکن آنکھوں نےقدرت کا کہنا ماننے سےبھیانکار کر دیااس کے اداسہونٹ پتھر کے ہو گئے تھےاور پتھر مسکرا نہیں سکتے
لکھنؤ میرے وطن میرے چمن زار وطنتیرے گہوارۂ آغوش میں اے جان بہاراپنی دنیائے حسیں دفن کیے جاتا ہوںتو نے جس دل کو دھڑکنے کی ادا بخشی تھیآج وہ دل بھی یہیں دفن کیے جاتا ہوںدفن ہے دیکھ مرا عہد بہاراں تجھ میںدفن ہے دیکھ مری روح گلستاں تجھ میںمیری گل پوش جواں سال امنگوں کا سہاگمیری شاداب تمنا کے مہکتے ہوئے خوابمیری بیدار جوانی کے فروزاں مہ و سالمیری شاموں کی ملاحت مری صبحوں کا جمالمیری محفل کا فسانہ مری خلوت کا فسوںمیری دیوانگئ شوق مرا ناز جنوںمیرے مرنے کا سلیقہ مرے جینے کا شعورمیرا ناموس وفا میری محبت کا غرورمیری نبضوں کا ترنم مرے نغموں کی پکارمیرے شعروں کی سجاوٹ مرے گیتوں کا سنگارلکھنؤ اپنا جہاں سونپ چلا ہوں تجھ کواپنا ہر خواب جواں سونپ چلا ہوں تجھ کواپنا سرمایۂ جاں سونپ چلا ہوں تجھ کولکھنؤ میرے وطن میرے چمن زار وطنیہ مرے پیار کا مدفن ہی نہیں ہے تنہادفن ہیں اس میں محبت کے خزانے کتنےایک عنوان میں مضمر ہیں فسانے کتنےاک بہن اپنی رفاقت کی قسم کھائے ہوئےایک ماں مر کے بھی سینے میں لیے ماں کا گدازاپنے بچوں کے لڑکپن کو کلیجے سے لگائےاپنے کھلتے ہوئے معصوم شگوفوں کے لیےبند آنکھوں میں بہاروں کے جواں خواب بسائےیہ مرے پیار کا مدفن ہی نہیں ہے تنہاایک ساتھی بھی تہ خاک یہاں سوتی ہےعرصۂ دہر کی بے رحم کشاکش کا شکارجان دے کر بھی زمانے سے نہ مانے ہوئے ہاراپنے تیور میں وہی عزم جواں سال لیےیہ مرے پیار کا مدفن ہی نہیں ہے تنہادیکھ اک شمع سر راہ گزر چلتی ہےجگمگاتا ہے اگر کوئی نشان منزلزندگی اور بھی کچھ تیز قدم چلتی ہےلکھنؤ میرے وطن مرے چمن زار وطندیکھ اس خواب گہ ناز پہ کل موج صبالے کے نو روز بہاراں کی خبر آئے گیسرخ پھولوں کا بڑے ناز سے گوندھے ہوئے ہارکل اسی خاک پہ گل رنگ سحر آئے گیکل اسی خاک کے ذروں میں سما جائے گا رنگکل مرے پیار کی تصویر ابھر آئے گیاے مری روح چمن خاک لحد سے تیریآج بھی مجھ کو ترے پیار کی بو آتی ہےزخم سینے کے مہکتے ہیں تری خوشبو سےوہ مہک ہے کہ مری سانس گھٹی جاتی ہےمجھ سے کیا بات بنائے گی زمانے کی جفاموت خود آنکھ ملاتے ہوئے شرماتی ہےمیں اور ان آنکھوں سے دیکھوں تجھے پیوند زمیںاس قدر ظلم نہیں ہائے نہیں ہائے نہیںکوئی اے کاش بجھا دے مری آنکھوں کے دیےچھین لے مجھ سے کوئی کاش نگاہیں میریاے مری شمع وفا اے مری منزل کے چراغآج تاریک ہوئی جاتی ہیں راہیں میریتجھ کو روؤں بھی تو کیا روؤں کہ ان آنکھوں میںاشک پتھر کی طرح جم سے گئے ہیں میرےزندگی عرصہ گہ جہد مسلسل ہی سہیایک لمحے کو قدم تھم سے گئے ہیں میرےپھر بھی اس عرصہ گہ جہد مسلسل سے مجھےکوئی آواز پہ آواز دئیے جاتا ہےآج سوتا ہی تجھے چھوڑ کے جانا ہوگاناز یہ بھی غم دوراں کا اٹھانا ہوگازندگی دیکھ مجھے حکم سفر دیتی ہےاک دل شعلہ بجاں ساتھ لیے جاتا ہوںہر قدم تو نے کبھی عزم جواں بخشا تھا!میں وہی عزم جواں ساتھ لیے جاتا ہوںچوم کر آج تری خاک لحد کے ذرےان گنت پھول محبت کے چڑھاتا جاؤںجانے اس سمت کبھی میرا گزر ہو کہ نہ ہوآخری بار گلے تجھ کو لگاتا جاؤںلکھنؤ میرے وطن میرے چمن زار وطندیکھ اس خاک کو آنکھوں میں بسا کر رکھنااس امانت کو کلیجے سے لگا کر رکھنا
عشق آوارہ مزاجوہ مسافر تو گیانہ کوئی اس کی مہک ہے کہ جو دے اس کا پتہنہ کوئی نقش کف پانہ کوئی اس کا نشاںکوئی تلخی بھی تہہ جام نہ چھوڑی اس نےزندگی باقی ہےایک سنجیدہ ہنسیسوچ سی دل میں بسیتیز آئی ہوئی سانسذہن میں تھوڑے سے وقفے سے کھٹکتی ہوئی پھانساور دکھتا ہوا دلچوٹ تھی جس پہ لگیچوٹ ویسی تو نہیںدرد باقی تو نہیںلاکھ مانے نہ مگرکچھ پشیمان سا دلیوں بدل جانے پرآپ حیران سا دلاس کو کیا اپنا پتہیہ ہے انسان کا دلکوئی پتھر تو نہیںجس پہ مٹتی نہیں پڑ جائے جو اک بار لکیر
اے مجاز اے ترانہ بار مجاززندہ پیغمبر بہار مجازاے بروۓ سمن وشاں گل پوشاے بہ کوۓ مغاں تمام خروشاے پرستار مہ رخان جہاںاے کماں دار شاعران جواںتجھ سے تاباں جبین مستقبلاے مرے سینۂ امید کے دلاے مجاز اے مبصر خد و خالاے شعور جمال و شمع خیالاے ثریا فریب و زہرہ نوازشاعر مست و رند شاہد بازناقد عشوۂ شباب ہے توصبح فردا کا آفتاب ہے توتجھ کو آیا ہوں آج سمجھانےحیف ہے تو اگر برا مانےخود کو غرق شراب ناب نہ کردیکھ اپنے کو یوں خراب نہ کرشاعری کو تری ضرورت ہےدور فردا کی تو امانت ہےصرف تیری بھلائی کو اے جاںبن کے آیا ہوں ناصح ناداںایک ٹھہراؤ اک تکان ہے تودیکھ کس درجہ دھان پان ہے توننگ ہے محض استخواں ہوناسخت اہانت ہے ناتواں ہونااستخوانی بدن دخانی پوستایک سنگین جرم ہے اے دوستشرم کی بات ہے وجود سقیمناتوانی ہے اک گناہ عظیمجسم اور علم طرفہ طاقت ہےیہی انسان کی نبوت ہےجو ضعیف و علیل ہوتا ہےعشق میں بھی ذلیل ہوتا ہےہر ہنر کو جو ایک دولت ہےعلم اور جسم کی ضرورت ہےکثرت بادہ رنگ لاتی ہےآدمی کو لہو رلاتی ہےخوش دلوں کو رلا کے ہنستی ہےشمع اختر بجھا کے ہنستی ہےاور جب آفت جگر پہ لاتی ہےرند کو مولوی بناتی ہےمے سے ہوتا ہے مقصد دل فوتمے ہے بنیاد مولویت و موتکان میں سن یہ بات ہے نشترمولویت ہے موت سے بد تراس سے ہوتا ہے کار عمر تماماس سے ہوتا ہے عقل کو سرساماس میں انساں کی جان جاتی ہےاس میں شاعر کی آن جاتی ہےیہ زمین آسمان کیا شے ہےآن جائے تو جان کیا شے ہےگوہر شاہ وار چن پیارےمجھ سے اک گر کی بات سن پیارےغم تو بنتا ہے چار دن میں نشاطشادمانی سے رہ بہت محتاطغم کے مارے تو جی رہے ہیں ہزارنہیں بچتے ہیں عیش کے بیمارآن میں دل کے پار ہوتی ہےپنکھڑی میں وہ دھار ہوتی ہےجوئے عشرت میں غم کے دھارے ہیںیخ و شبنم میں بھی شرارے ہیںہاں سنبھل کر لطافتوں کو برتٹوٹ جائے کہیں نہ کوئی پرتدیکھ کر شیشۂ نشاط اٹھایہ ورق ہے ورق ہے سونے کاکاغذ باد یہ نگینہ ہےبلکہ اے دوست آبگینہ ہےساغر شبنم خوش آب ہے یہآبگینہ نہیں حباب ہے یہروک لے سانس جو قریب آئےٹھیس اس کو کہیں نہ لگ جائےتیغ مستی کو احتیاط سے چھوورنہ ٹپکے گا انگلیوں سے لہومستیوں میں ہے تاب جلوۂ ماہاور سیہ مستیاں خدا کی پناہخوب ہے ایک حد پہ قائم نشہہلکا پھلکا سبک ملائم نشہہاں ادب سے اٹھا ادب سے جامتاکہ آب حلال ہو نہ حرامجام پر جام جو چڑھاتے ہیںاونٹ کی طرح بلبلاتے ہیںزندگی کی ہوس میں مرتے ہیںمے کو رسوائے دہر کرتے ہیںیاد ہے جب جگرؔ چڑھاتے تھےکیا الف ہو کے ہن ہناتے تھےمیری گردن میں بھر کے چند آہیںپاؤں سے ڈالتے تھے وہ بانہیںعقل کی موت علم کی پستیالاماں لعنت سیہ مستیاف گھٹا ٹوپ نشے کا طوفانبھوت عفریت دیو جن شیطانلات گھونسہ چھڑی چھری چاقولب لباہٹ لعاب کف بدبوطنز آوازہ برہمی افسادطعن تشنیع مضحکہ ایرادشور ہو حق ابے تبے ہے ہےاوکھیاں گالیاں دھماکے قےمس مساہٹ غشی تپش چکرسوز سیلاب سنسنی صرصرچل چخے چیخ چناں چنیں چنگھاڑچخ چخے چاؤں چاؤں چیل چلھاڑلپا ڈکی لتام لام لڑائیہول ہیجان ہانک ہاتھا پائیکھلبلی کاؤں کاؤں کھٹ منڈلہونک ہنگامہ ہمہمہ ہلچلالجھن آوارگی ادھم اینٹھنبھونک بھوں بھوں بھنن بھنن بھن بھندھول دھپا دھکڑ پکڑ دھتکارتہلکہ تو تڑاق تف تکراربو بھبھک بھیے بکس برر بھونچالدبدبے دندناہٹیں دھمالگاہ نرمی و لطف و مہر و سلامگاہ تلخی و ترشی و دشنامعقل کی موت علم کی پستیالاماں لعنت سیہ مستیصرف نشے کی بھیگنے دے مسیںان کو بننے نہ دے کبھی مونچھیںالاماں خوفناک کالا نشہاوہ ریش و بروت والا نشہاژدر مرگ او دیو خوں خواریالاماں نشۂ ''جٹادھاری''نشے کا جھٹ پٹا ہے نور حیاتجھٹپٹے کو بنا نہ کالی راتنشے کی تیز روشنی بھی غلطچودھویں کی سی چاندنی بھی غلطذہن انساں کو بخشتا ہے جمالنشہ ہو جب یہ قدر نور ہلالغرفۂ عقل بھیڑ تو اکثرپر اسے کچ کچا کے بند نہ کررات کو لطف جام ہے پیارےدن کا پینا حرام ہے پیارےدن ہے عفریت آز کی کھنکارات پازیب نازکی جھنکاردن ہے خاشاک خاک دھول دھواںرات آئینہ انجمن افشاںدن مسلح دواں کمر بستہرات طاق و رواق و گلدستہدن ہے فولاد سنگ تیغ علمرات کمخواب پنکھڑی شبنمدن ہے شیون دہائیاں دکھڑےرات مست انکھڑیاں جواں مکھڑےدن کڑی دھوپ کی بد آہنگیرات پچھلے پہر کی سارنگیدن بہادر کا بان بیر کی رتھرات چمپاکلی انگوٹھی نتھدن ہے طوفان جنبش و رفتاررات میزان کاکل و رخسارآفتاب و شراب ہیں بیریبوتلیں دن کو ہیں پچھل پیریکر نہ پامال حرمت اوقاترات کو دن بنا نہ دن کو راتپی مگر صرف شام کے ہنگاماور وہ بھی بہ قدر یک دو جاموہی انساں ہے خرم و خورسندجو ہے مقدار و وقت کا پابندمیرے پینے ہی پر نہ جا مری جاںمجھ سے جینا بھی سیکھ ہیں قرباںاس کے پینے میں رنگ آتا ہےجس کو جینے کا ڈھنگ آتا ہےیہ نصائح بہت ہیں بیش بہاجلد سو جلد جاگ جلد نہاباغ میں جا طلوع سے پہلےتا نگار سحر سے دل بہلےسرو و شمشاد کو گلے سے لگاہر چمن زاد کو گلے سے لگامنہ اندھیرے فضائے گلشن دیکھساحل و سبزہ زار و سوسن دیکھگاہ آوارہ ابر پارے دیکھان کی رفتار میں ستارے دیکھجیسے کہرے میں تاب روئے نکوجیسے جنگل میں رات کو جگنوگل کا منہ چوم اک ترنم سےنہر کو گدگدا تبسم سےجسم کو کر عرق سے نم آلودتاکہ شبنم پڑھے لہک کے درودپھینک سنجیدگی کا سر سے بارناچ اچھل دندنا چھلانگیں ماردیکھ آب رواں کا آئینہدوڑ ساحل پہ تان کر سینہمست چڑیوں کا چہچہانا سنموج نو مشق کا ترانہ سنبوستاں میں صبا کا چلنا دیکھسبزہ و سرو کا مچلنا دیکھشبنم آلود کر سخن کا لباسچکھ دھندلکے میں بوئے گل کی مٹھاسشاعری کو کھلا ہوائے سحراس کا نفقہ ہے تیری گردن پررقص کی لہر میں ہو گم لب نہریوں ادا کر عروس شعر کا مہرجذب کر بوستاں کے نقش و نگارذہن میں کھول مصر کا بازارنرم جھونکوں کا آب حیواں پیبوئے گل رنگ شبنمستاں پیگن گنا کر نظر اٹھا کر پیصبح کا شیر دغدغہ کر پیتاکہ مجرے کو آئیں کل برکاتدولت جسم و علم و عقل و حیاتیہ نہ طعنہ نہ یہ الہنا ہےایک نکتہ بس اور کہنا ہےغیبت نور ہو کہ کثرت نورظلمت تام ہو کہ شعلۂ طورایک سا ہے وبال دونوں کاتیرگی ہے مآل دونوں کادرخور صاحب مآل نہیںہر وہ شے جس میں اعتدال نہیںشادمانی سے پی نہیں سکتاجس کو ہوکا ہو جی نہیں سکتااے پسر اے برادر اے ہم رازبن نہ اس طرح دور کی آوازکوئی بیمار تن نہیں سکتاخادم خلق بن نہیں سکتاخدمت خلق فرض ہے تجھ پردور ماضی کا قرض ہے تجھ پرعصر حاضر کے شاعر خوددارقرض داری کی موت سے ہشیارذہن انسانیت ابھار کے جازندگانی کا قرض اتار کے جاتجھ پہ ہندوستان ناز کرےعمر تیری خدا دراز کرے
ہم جنگل جنگل پھرتے تھے اس کے لیے دیوانےرشی بنے، مجنوں کہلائے، لیکن ہار نہ مانے
سو اب یہ شرط حیات ٹھہریکہ شہر کے سب نجیب افراداپنے اپنے لہو کی حرمت سے منحرف ہو کے جینا سیکھیںوہ سب عقیدے کہ ان گھرانوں میںان کی آنکھوں کے رنگتوں کی طرح تسلسل سے چل رہے تھےسنا ہے باطل قرار پائےوہ سب وفاداریاں کہ جن پر لہو کے وعدے حلف ہوئے تھےوہ آج سے مصلحت کی گھڑیاں شمار ہوں گیبدن کی وابستگی کا کیا ذکرروح کے عہد نامے تک فسخ مانے جائیںخموشی و مصلحت پسندی میں خیریت ہےمگر مرے شہر منحرف میںابھی کچھ ایسے غیور و صادق بقید جاں ہیںکہ حرف انکار جن کی قسمت نہیں بنا ہےسو حاکم شہر جب بھی اپنے غلام زادےانہیں گرفتار کرنے بھیجےتو ساتھ میں ایک ایک کا شجرۂ نسب بھی روانہ کرنااور ان کے ہم راہ سرد پتھر میں چننے دیناکہ آج سے جبہزارہا سال بعد ہم بھیکسی زمانے کے ٹیکسلایا ھڑپہ بن کر تلاشے جائیںتو اس زمانے کے لوگہم کوکہیں بہت کم نسب نہ جانیں
الف جو آلو کھائے گاوہ موٹا ہو جائے گاب بارش جب آتی ہےکوئل شور مچاتی ہےپ پالی میں نے بلیچل دی چھوڑ کے وہ دلیت تتلی ہے زندہ پھولجو نہ مانے نامعقولٹ ٹٹو پر چڑھ بھیاڈر مت آگے بڑھ بھیاث ثابت ہے یہ لٹوچنو جا لے آ پٹوج میں جوتے کھاؤں گارو کر چپ ہو جاؤں گاچ چنو ہے اک لڑکاننھا منا چھوٹا ساح وہ حا تو آیا ہےہینگ اور پٹو لایا ہےخ خچر میں لاؤں گااپنے گھر میں نچاؤں گاد نہ دال پکا امیبرفی مجھے کھلا امیڈ ڈروں میں بھالو سےمیں نہیں ڈرتا خالو سےر رونا مجھے آتا ہےجب مرا بھیا گاتا ہےس سروتا لا امیمجھ کو پان کھلا امیبس بھائی آگے مت جااتی بس نظم نہ ہوگا
بس اک اپنے تحفظ کے لیےدنیا کو کتنا بے تحفظ کر دیا تم نےیہ دنیا وہ نہیںجو آج سے پہلے تھییہ فرمان جاری کر دیا تم نےمگر تم کون سی دنیا میں رہتے ہویہ دنیا تو وہی ہےجس میں جب چاہوتم اپنے حکم منواتے ہوطاقت کی زباں میں بات کرتے ہوتمہارے حکم کو جو ماننے میں دیر کرتے ہیںتم ان کو اپنی دہشت سے ڈراتے ہوشکستہ ہڈیوں کو آتشیں تنور کا ایندھن بناتے ہوجو مفلس ہیں انہیں تم اور بھی مفلس بناتے ہو
کیا پیروں کی تھکن اس سفر کو روک سکتی ہےکیا راستے کے روڑے میرے ارادے کو توڑ سکتے ہیںکیا میں یہاں سے واپس لوٹ جاؤں گاکیا میں اور آگے چل نہیں پاؤں گانہیں نہیںشاید مجھے جانا ہے بہت دورگو ہوں میں تھکن سے چوراور بے زار ہر منظر سےجو بار بار لوٹ کر نظر کی اکتاہٹ بن جاتا ہےوہی آسمانوہی زمینوہی چاند وہی ستارےچاندنی میں چمکتے اور مہکتے وہی پھولہاتھوں میں چبھتے وہی ببولوہی میرے من کو سلاخوں میں لہو کرنے والے اقواللیکن شاید اکتاہٹ بھی مانع نہ ہوقدموں کیشاید زندگی قیدی نہ بنے لمحوں کییہ تو ہوائے برگ و بار کی طرح ہےجو کبھی نہ کبھی گزر جائے گیمیرے ذہن کے خزانے کی اوپری سطح کو بھیکبھی نہ چھو پائے گیشاید ابھی آگے بہت دور جانا ہےاور ان بار بار آتے لمحوںہر بار آنکھ کے سامنے ابھرتے منظروںدریاؤں صحراؤں جنگلوںگاؤں اور شہروںکے بھیڑ سے مجھے کوئی نیا رنگنکالنا ہوگااپنے پراگندہ ذہن کو قبر میں دفن کر کےنیا بت نیا مندر بنانا ہوگاپرانے لفظوں سے نیا لفظپرانے معانی سے نئے معانیخلق کرنے ہوں گےیہی نہیںمجھے پارینہ کانوں میںسماعتوں کے نئے پیمانےآنکھوں کے لیےنئے منظر نامے سے ترتیب دینے ہوں گےچلتے چلتے میرے جوتے بھی گھس گئے ہیںمجھے اف جوتوں کو ہی بدلنا ہوگااور آنکھوں پر نئی عینک لگانی ہوگیتاکہ پرانے شیشے میں نئے رنگپرانے نہ دکھائی دیںشاید یہ تھکن مجھے روک نہ پائےشاید میں ان روڈوں کو پھلانگ دوںشاید اپنے ہاتھوں سے ببولوں کو نوچپھینکوںشاید میں سن کی سلاخوں کو توڑ کرباہر آ جاؤںاور ملگجی چاندنی کے عکس گھراپنے لہو سے سرخ رو کر دوںاور قدم بڑھاتے آگے نگل جاؤںشاید مجھے ابھی بہت دور جانا ہے
کون گستاخ ہے کیا نام ہے کیوں آیا ہےپہرے والو اسے خنجر کی انی سے روکواپنی بندوقوں کی نالی سے ڈراؤ اس کواور اس پر جو نہ مانے اسے توپوں کی سلامی دے دوجشن کا دن ہے مری سالگرہ کا دن ہےآج محلوں میں جلیں گے مہ و انجم کے چراغآج بجھتے ہوئے چہروں کی ضرورت کیا ہےآج مایوس نگاہوں کی ضرورت کیا ہےکون بے باک ہے بڑھتا ہی چلا آتا ہےپہرے والو اسے خنجر کی انی سے روکوآدمی ہے کہ مرا وہم ہے آسیب ہے یہاس کے چہرے پہ تو زخموں کے نشاں تک بھی نہیںگولیاں اس کے سیہ سینے سے ٹکرا کے چلی آتی ہیںاس کے ہونٹوں پہ تبسم ہے کہ منہ کھولے ہوئےاژدہا تخت نگلنے کو چلا آتا ہےموت کس بھیس میں آئی ہے مجھے لینے کوآج کیوں آئی ہے کیوں آئی ہے کیوں آئی ہےمیں تجھے گوہر و الماس دئے دیتا ہوںتیرے ٹھٹھرے ہوئے ہاتھوں کو حرارت دوں گاجشن کا دن ہے مری سالگرہ کا دن ہےکون ہو کون ہو تماے غریبوں کے خداوند امیروں کے رفیقمیں سمجھتا تھا مجھے آپ نہ پہچانیں گےمیں نے انگریز کی جیلوں میں جوانی کاٹیمیں نے ٹھٹھرے ہوئے ہاتھوں سے جلائے ہیں دئےجن کی لو آج بھی طوفانوں سے ٹکراتی ہےجن کو انگریز کی پھونکوں نے بجھانا چاہااور خود ان کی زباں جل کے سیہ فام ہوئیوہ دیے آج بھی برلاؤں کی چیخوں سے لڑے جاتے ہیںآپ کو یاد نہ ہوگا شایدکون ہو کون ہو تممیں نے تاریخ کی لہروں میں روانی دے دیمیں نے بوڑھوں کی رگ و پے میں جوانی دے دیمیں نے جھکتے ہوئے شانوں کو توانائی دیکارخانے مری آواز سے بیدار ہوئےاور اک میری ہی آواز نہیں گونجی تھیسیکڑوں وقت سے ہارے ہوئے انسان اٹھےکہرۂ وقت پہ چھانے کے لئےکون ہو کون ہو تماوراق میں ہی نہیں آیا ہوںسیکڑوں وقت کے مارے ہوئے انسان بھی ہیںسیکڑوں وقت پہ چھائے ہوئے انسان بھی ہیںکون ہو کون ہو تمآج بھی کھیتیوں میں بھوک اگا کرتی ہےکارخانوں میں دھوئیں کے بادلطوق اور آہنی زنجیروں میں ڈھل جاتے ہیںکون ہو کون ہو تمآپ انسان کی عظمت پہ یقیں رکھتے ہیںآپ کے حکم نے کتنوں کی زبانیں سی دیںآپ کی مملکت عدل میں کتنے بیمارقید تنہائی میں دم توڑ چکےکون ہو کون ہو تمآپ کی بیڑیاں افراد کو پابند بنا سکتی ہیںآپ کی بیڑیاں انسان کو پابند نہیں کر سکتیںکل یہی شمع جو سینے میں فروزاں ہے آجآپ کے سارے طلسمات جلا ڈالے گیکل انہیں کھیتوں میں اجڑے ہوئے کھلیانوں میںسالہا سال کی پامال زمیںاپنے سینے کے خزانوں کو لٹاتی ہوگیکارخانے بھی سیہ کار خداؤں سے رہائی پا کرلاکھوں انسانوں کی تسکین کا ساماں ہوں گےاک نئے عہد نئی زیست کا عنواں ہوں گےاور پھر وقت کا بے باک مورخ آ کرسرخ پرچم کو سلامی دے گاکون ہو کون ہو تمبھاردواج
مری آنکھوں میں مگر چھایا ہے بادل بن کرایک دیوار کا روزن اسی روزن سے نکل کر کرنیںمری آنکھوں سے لپٹتی ہیں مچل اٹھتی ہیںآرزوئیں دل غم دیدہ کے آسودہ نہاں خانے سےاور میں سوچتا ہوں نور کے اس پردے میںکون بے باک ہے اور بھولی سی محبوبہ کونسوچ کو روک ہے دیوار کی وہ کیسے چلےکیسے جا پہنچے کسی خلوت محجوب کے مخمور صنم خانے میںوہ صنم خانہ جہاں بیٹھے ہیں دو بت خاموشاور نگاہوں سے ہر اک بات کہے جاتے ہیںذہن کو ان کے دھندلکے نے بنایا ہے اک ایسا عکاسجو فقط اپنے ہی من مانے مناظر کو گرفتار کرےمیں کھڑا دیکھتا ہوں سوچتا ہوں جب دونوںچھوڑ کر دل کے صنم خانے کو گھر جائیں گےصحن میں تلخ حقیقت کو کھڑا پائیں گےایک سوچے گا مری جیب یہ دنیا یہ سماجایک دیکھے گا وہاں اور ہی تیاری ہےمجھ کو الجھن ہے یہ کیوں میں تو نہیں ہوں موجودرات کی خلوت محجوب کے مخمور صنم خانے میںمری آنکھوں کو نظر آتا ہے روزن کا دھواںاور دل کہتا ہے یہ دود دل سوختہ ہےایک گھنگھور سکوں ایک کڑی تنہائیمیرا اندوختہ ہےمجھ کو کچھ فکر نہیں آج یہ دنیا مٹ جائےمجھ کو کچھ فکر نہیں آج یہ بیکار سماجاپنی پابندی سے دم گھٹ کے فسانہ بن جائےمری آنکھوں میں تو مرکوز ہے روزن کا سماںاپنی ہستی کو تباہی سے بچانے کے لیےمیں اسی روزن بے رنگ میں گھس جاؤں گالیکن ایسے تو وہی بت نہ کہیں بن جاؤںجو نگاہوں سے ہر اک بات کہے جاتا ہےچھوڑ کر جس کو صنم خانے کی محجوب فضاگھر کے بیباک المناک سیہ خانے میںآرزوؤں پہ ستم دیکھنا ہے گھلنا ہےمیں تو روزن میں نہیں جاؤں گا دنیا مٹ جائےاور دم گھٹ کے فسانہ بن جائےسنگ دل خون سکھاتی ہوئی بیکار سماجمیں تو اک دھیان کی کروٹ لے کرعشق کے طائر آوارہ کا بہروپ بھروں گا پل میںاور چلا جاؤں گا اس جنگل میںجس میں تو چھوڑ کے اک قلب فسردہ کو اکیلے چل دیراستہ مجھ کو نظر آئے نہ آئے پھر کیاان گنت پیڑوں کے میناروں کومیں تو چھوتا ہی چلا جاؤں گااور پھر ختم نہ ہوگی یہ تلاشجستجو روزن دیوار کی مرہون نہیں ہو سکتیمیں ہوں آزاد مجھے فکر نہیں ہے کوئیایک گھنگھور سکوں ایک کڑی تنہائیمرا اندوختہ ہے
شراب خانہ ہے بزم ہستیہر ایک ہے محو عیش و مستیمآل بینی و مے پرستیارے یہ ذلت ارے یہ پستیشعار رندانہ کر پئے جااگر کوئی تجھ کو ٹوکتا ہےشراب پینے سے روکتا ہےسمجھ اسے ہوش میں نہیں ہےخرد کے آغوش میں نہیں ہےتو اس سے جھگڑا نہ کر پئے جاخیال روز حساب کیساثواب کیسا عذاب کیسابہشت و دوزخ کے یہ فسانےخدا کی باتیں خدا ہی جانےفضول سوچا نہ کر پئے جانہیں جہاں میں مدام رہناتو کس لیے تشنہ کام رہنااٹھا اٹھا ہاں اٹھا سبو کوتمام دنیا کی ہاؤ ہو کوغریق پیمانہ کر پئے جاکسی سے تکرار کیا ضرورتفضول اصرار کیا ضرورتکوئی پئے تو اسے پلا دےاگر نہ مانے تو مسکرا دےملال اصلا نہ کر پئے جاتجھے سمجھتے ہیں اہل دنیاخراب خستہ ذلیل رسوانہیں عیاں ان پہ حال تیراکوئی نہیں ہم خیال تیراکسی کی پروا نہ کر پئے جایہ تجھ پر آوازے کسنے والےتمام ہیں میرے دیکھے بھالےنہیں مذاق ان کو مے کشی کایہ خون پیتے ہیں آدمی کاتو ان کا شکوا نہ کر پئے جا
تھی مہ نو رفتہ رفتہ ماہ کامل بن گئیشاعرانہ محفلوں میں شمع محفل بن گئیحسن فطرت کی ادا فہمی کے قابل بن گئیجب زباں کی تیز نشتر سے رگ دل بن گئیکیا قیامت ہے کہ دل پر کچھ اثر لیتے نہیںہو رہا ہے خون اس کا تم خبر لیتے نہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books