aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "mushtaram"
ہم پہ مشترکہ ہیں احسان غم الفت کےاتنے احسان کہ گنواؤں تو گنوا نہ سکوں
بہ مشتاقاں حدیث خواجۂ بدرو حنین آورتصرف ہائے پنہانش بچشم آشکار آمد
اور مشتاق نگاہوں کی سنی جائے گیاور ان ہاتھوں سے مس ہوں گے یہ ترسے ہوئے ہات
اے دوستو ملیں تو بس اک پیام کہنااستاد محترم کو میرا سلام کہنا
میں بھی ناکام وفا تھا تو بھی محروم مرادہم یہ سمجھے تھے کہ درد مشترک راس آ گیا
تیری بساط خاک کےذرے ہیں مہر و مشتری
کسی علم پہ رقم ہو کے مشتہر ہوتاپکارتا رہا بے آسرا یتیم لہو
میں اک اور آندھی کا مشتاق ہوں جو مجھے اپنے پردے میں یکسر چھپا لےمجھے اب یہ محسوس ہونے لگا ہے سہانا سماں جتنا بس میں تھا میرے
جو اہل دستار محترم تھےہوس کے پر پیچ راستوں میں
یہ مہر و ماہ و مشتری سے ہر الیکٹران تکیہ جھوم جھوم گھومنے میں جس طرح کا رقص ہے
اس کے مشتاق ملاؔ اور فراقؔجن کے دل کا بیان ہے اردو
جب کسی نے اسے مسترد کر دیامیرے سینے میں یک دم گھٹن بھر گئی
چشم مشتاق کی خاموش تمناؤں کویک بہ یک مائل گفتار نہ کر دینا تھا
میں نے جو ظلم کبھی تجھ سے روا رکھا تھاآج اسی ظلم کے پھندے میں گرفتار ہوں میں
یہ شادی خانہ آبادی ہو میرے محترم بھائیمبارک کہہ نہیں سکتا مرا دل کانپ جاتا ہے
یہاں ماہ محرم کی نموداری پہ یکساں جوش سےفاروق و حیدر عائشہ و فاطمہ مل کر
وہ ہنستی ہوئیاک نئے مشتری کی طرف ملتفت ہو گئی تھی!
شعر کیا جذب دروں کا ایک نقش ناتماممشتبہ سا اک اشارہ ایک مبہم سا کلام
گڈے میاں کی شادیہر اک سمت گونجے ہوئے قہقہے
نگاہ قہر کی مشتاق ہیں دل کی تمنائیںخط چین جبیں ہی کو خط قسمت سمجھتے ہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books