aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "nasheb"
لبھاتا ہے دل کو کلام خطیبمگر لذت شوق سے بے نصیب
نشیب ارض پہ ذروں کو مشتعل پا کربلندیوں پہ سفید و سیاہ مل ہی گئے
ہے محفل وجود کا ساماں طراز تويزدان ساکنان نشيب و فراز تو
کاش میں ایسی کہانی کو سنا بھی سکتاطعنہ زن ہیں جو مرے حال پہ ارباب نشاط
وہ لوگ جو کئی صدیوں سے ہیں نشیب نشیںبلند ہوں تو مجھے بھی بلند بامی دے
اونچے در سے داخل ہو کر صاف نشیب میں بیٹھے جا کرایک مقام میں ہوئے اکٹھے رونق اور ویرانی آ کر
کہساروں کے نشیب و فراز بنا کرتے ہیںسارے گھر کو دھوتی ہے
کسی نیم تاریک نشیب میںپر کٹے پرندے کی طرح
میرا پائے شوق سزا کہیں پہ رکا نہیںیہ نشیب شام ہے اور میں ہوں رواں دواں
غبار نقش پا اٹھاتو جم گیا غلاف چشم و گوش پر
اپنی منقار میں تھام کر اڑ رہے تھےنشیب جنوں کی طرف
کھردرے جسم کے نشیب و فرازجاننے کی ہوس میں جس کی زباں
پاؤں کے نیچے ان گنت راہیںبے حساب نشیب و فراز
اس نے مجھے بہنے کے لیے نشیب میں چھوڑ دیا اور مسکرایا''دیکھا تم مایہ ہی مایہ ہو''
رات اسی طرحمیرے جسم کے نشیب و فراز سے گزرتی ہوئی
کسی نے نہیں سوچانشیب میں گھاٹیوں کے درمیان رات ٹھہرتی ہے
نشیب کو آسماں کی جانب اڑا رہا ہےجو کل کو کل سے ملا رہا ہے
کہ کوہ آتش فشاں سے لاوا نشیب کو بہہ رہا ہومیرے لہو سے سوج ابل پڑے
نشیب کوہ میں سبزے کا مخملیں بسترشفق کا سرخ لبادہ گلوں کی رعنائی
کس طرف ہے آنے والی ساعتوں کا کوہسارکتنے لمبے ہیں یہاں مار نشیب
Jashn-e-Rekhta 10th Edition | 5-6-7 December Get Tickets Here
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books