aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "nusrat"
جذبۂ نصرت جمہور کی بڑھتی رو میںملک اور قوم کی دیواریں نہیں رہ سکتیں
رباب چھیڑ غزل خواں ہو رقص فرما ہوکہ جشن نصرت محنت ہے جشن نصرت فن
گمرہی قلعوں میں محفوظ رہے گی کب تکسر اٹھائے گی ہوا بادباں کھل جائیں گےبند دروازوں پہ دستک کی صدا گونجے گیدھوپ دہلیز پہ پہنچائے گی مہمانوں کوسائباں سر پہ ابابیل لیے ساتھ چلےتلخ تہذیب کے صحرا میں اذاں لہرائےگونج اٹھے گا حرم نعرۂ لبیک، زمیںتیرے قدموں میں اگل دے گی خزانے اپنےتیری تقلید میں مغرب کی بقا پوشیدہتیری تذلیل میں جو ہاتھ اٹھے کٹ جائےتیری نصرت کے لیے آسماں کوشش مقصودسلسلے تیرے بنیں زیب جہان فانینور مجسوم ہوا گنبد خضرا مرکوزحشر کی صبح درخشاں ہو مقام محمود
تیری دعائیں فتح و نصرتتیرے پاؤں کے نیچے جنت
جن لفظوں میں ہمارے دلوں کی بیعتیں ہیں کیا صرف وہ لفظ ہمارے کچھ بھی نہ کرنےکا کفارہ بن سکتے ہیںکیا کچھ چیختے معنوں والی سطریں سہارا بن سکتی ہیں ان کاجن کی آنکھوں میں اس دیس کی حد ان ویراں صحنوں تک ہےکیسے یہ شعر اور کیا ان کی حقیقتنا صاحب اس اپنے لفظوں بھرے کنستر سے چلو بھر کر بھیک کسی کو دے کرہم سے اپنے قرض نہیں اتریں گےاور یہ قرض اب تک کس سے اور کب اترے ہیںلاکھوں نصرت مند ہجوموں کی خنداں خنداں خونیں آنکھوں سے بھرے ہوئےتاریخ کے چوراہوں پرصاحب تخت خداوندوں کی کٹتی گردنیں بھی حل کر نہ سکیں یہ مسائلاک سائل کے مسائلاپنے اپنے عروجوں کی افتادگیوں میں ڈوب گئیں سب تہذیبیں سب فلسفے۔۔۔
فتح نصرت کی دعاؤں سے ہوا معمور ہےنعرۂ جے ہند سے ساری فضا معمور ہے
اپنی پر پیچ بلنداور دھیمی کشیدہ سروں سے اونچےفتح نصیب ہو تمخوش نصیب ہو تمکہ اپنی زندگی میںسب ملا تم کوسب سے بڑھ کر یہکہ ہم نے عزت دی تمہیںورنہ ہمخیر چھوڑواب جہاں ہوآزادی سے آزاد سر لگانااسے کہناہم صرف اس کی آس پر زندہ ہیںاس کے بنائے گیتفقط اس کے لیے گاتے ہیںکہ شاید ہمیں بھیخوش نصیب کر دے وہفتح نصیب کر دے وہورنہ ہمخیر چھوڑو
ہر طرف مہکی ہوئی میرے چمن کی خوشبوہے فضاؤ میں اذانوں کی بھجن کی خوشبومجھ کو ورثے میں ملی گنگ و جمن کی خوشبومیری ہر سانس میں بستی ہے وطن کی خوشبو
پہلے فن دست و گریباں ہیں کراں تا بہ کراںسرنگوں بیٹھی ہوئی ہے خاک پر اردو زباں
بات ہماری غور سے سنناسن کر جگ سے کہہ دینااس دھرتی سے امبر تکجھرنے جھیل سے ساگر تکمیدانوں کے دامن سےاونچے پربت کے سر تکبھوت ہے کیا جنات ہے کیاظالم کالی رات ہے کیاہم ہیں آدم کی اولادشیطاں کی اوقات ہے کیابستی بستی جنگل ہےاور جنگل میں جنگل ہےخطروں سے گھبرانا کیاجیون خود اک دنگل ہےگھر سے باہر ڈر کو کروسکھ سے جیو اور سکھ سے مروبول ہمارے ہیں اچھے نانظم کا مطلب سمجھے نا
مجھے رانی کی شرطوں پر بڑا ہی پیار آیا ہےکھلاڑی تو نہیں رانی مگر رانی تو ہے آخرہما فتح و نصرت کااور اکثر کامرانی کااسی کے سر پہ جاتا ہےکہ جس کے پاس رانی ہے
ہے دسہرا یادگا عظمت ہندوستاںہندوؤں کی اک قدیمی فتح و نصرت کا نشاںاک مٹی سی یہ نشانی دولت و اقبال کییاد دلواتی ہے ان ایام فرخ فال کیجب کہ تھی ہم میں بھی ایسے زور و طاقت کی نمودہیچ تھی دیوان روئیں تن کی جس سے ہست و بودجب اکیلے اٹھ کھڑے ہوتے تھے ہم بہر نبرداور کر دیتے تھے اپنے دشمنوں کو گرد گرددل میں ہمت ہاتھ میں اپنے فقط شور الاماںباندھ کر وہ پل سمندر کو کیا ہم نے عبورجس کو حیراں دیکھ کر ہیں آج بھی اہل شعورفوج راون لا تعد تھی ریگ صحرا کی طرحاور امنڈ آئی تھی وقت جنگ دریا کی طرحراون خونخوار اور وہ کوہ پیکر اس کے دیوجن کی خوں خواری کا تھا سارے زمانے میں غریوقلعہ وہ لنکا کا جو نا قابل التسخیر تھاجس پہ نازاں اپنے دل میں راون بے پیر تھاتھے طلائی برج جس کے اور مرصع بام و درجن کی چوٹی پر نہ پہنچے کوئی مرغ تیز پرسودۂ لعل و زمرد تھی وہاں کی خاک بھیاک طلسم ایسا کہ قاصر تھا جہاں اور اک بھیہم نے ایسے دشمنوں پر فتح پائی تھی کبھیاپنے حصے میں بھی یہ معجز نمائی تھی کبھیآج وہ دن ہے کہ ہم اس یاد کو تازہ کریںروئے زیبائے عروس فتح پر غازہ کریںمل کے گائیں رام کے گن دل میں ہو جوش سرورقلب صافی مخزن وحدت ہو سینہ رشک طوریہ دسہرا عشرۂ عشرت ہے اپنے واسطےخالق کونین کی نعمت ہے اپنے واسطے
زندگی کے ان گھٹا ٹوپ اندھیروں میںجب ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا تھانہ جانے کون تھا وہجو اس اجنبی سڑک پر مجھے تنہا چھوڑ گیااور میں اپنی سرد ہتھیلی پرتقدیر کی لکیر تلاش کرتی رہیغور سے دیکھا تو اندازہ ہوااب ہتھیلی کی سلیٹ سے ہر لکیر مٹ چکی تھیاور اب میں اپنی زندگی کے خرابے میںتنہا کھڑی تھیاور پھر یوں ہوامیں نے کچھ سوچ کراپنی ہتھیلی پر تیرا نام لکھا اور اسے چوم لیادیکھتے ہی دیکھتےمیرے من کے آنگن میں ایک چراغ روشن ہو گیااے میری تقدیر کے چانداب میں تیرا چہرہ دیکھ سکتی ہوں
کب تکاپنی آنکھیں جھکا کر چلتی رہو گیکب تکاپنے دل کے دروازے پر دستک نہ دو گیکب تکاپنی پلکوں پر جھوٹے خواب سجائے رکھو گیبولو کب تکآخر کب تکحادثوں کو تقدیر سمجھ کرچپکے چپکے احساسات کی آگ میں آٹھوں پہر جلتی رہو گیاپنے تازہ زخموں پر ہنس ہنس کر مسکراتی رہو گیکیا صدیوں تک یوں ہی ہوتا رہے گابولو کب تکاب تو بولوکب تکاپنے آپ کو دھوکا دیتی رہو گی
ان کی اس نصرت بے جا پہ مجھے رشک نہیںآج بھی مجھ میں ہے وہ جوش جنوں عزم و یقیںآج بھی ناز ہے گو جہد و عمل پہ اپنےمصلحت کوش نہیں آج بھی معصوم جنوںخضر کی بے جا خوشامد پہ نہیں راضی ہنوزہاں مگر ذہن کے پردے پہ ابھرتے ہیں سوالخضر کی بے جا خوشامد ہی مقدم ہے یہاںوصل منزل کے لیے پائے جنوں شرط نہیں
روز افزوں یہ دیکھتی ہوں میںمیرے خوابوں میں کوئی آتا ہےدور ہی دور سے وہ میری طرفدیکھ کر مسکرائے جاتا ہے
غم کو اک سوغات سمجھ کرگلے لگائیںزیست کی اندھی راہ گزر پرچلتے جائیںجب کے چاروں اور بھکاریسب ہی بھکاریسکھ کی بھکشا مانگ رہے ہیںسکھ کی چھایا کس نے دیکھیکس نےخوشبو کے نغموں کو چوماسکھ جیون میں جھوٹا سپناپانی کے سینہ کا چھالاغم مخلص ہے غم سچائیغم کی تھاہ نہ دل نے پائیغم اشکوں کے دیپ جلائےراہ دکھائےغم سے نصرتؔ ڈرنا کیاغم کو اک سوغات سمجھ کرآؤ گلے لگائیںزیست کی اندھی راہ گزر پرچلتے جائیں
ذرا پستئ قوم و ملت کو دیکھواور اس کی ذرا زار حالت کو دیکھوذرا دائیں اور بائیں گردن پھراؤاور ہمسایہ قوموں کی حالت کو دیکھوہر اک قوم ہے علم و حکمت میں آگےاور اپنی تباہی و غربت کو دیکھوہر اک قوم بیدار ہے کس طرح سےاور اپنے بھی تم خواب غفلت کو دیکھوکھلی ہر طرف ہیں ترقی کی راہیںجو تم وقت اور اپنی حالت کو دیکھوجہاں میں پنپنے کی کیا کیا ہیں راہیںکتاب ترقی و نصرت کو دیکھوکرو غور پستی پہ اپنی ذرا تماور اگلے بزرگوں کی عظمت کو دیکھوسبب کیا ہوا مل گئے خاک میں ہمجو تھے گرد راہ ان کی عزت کو دیکھوخدا کے غضب کی نشانی ہے ظاہریہ بگڑی ہوئی اپنی حالت کو دیکھواگر بھول بیٹھے ہو پیغام خالقحدیث اور قرآن کی آیت کو دیکھوکہ ہم نے بگاڑا نہیں کوئی اب تکوہ بگڑا نہیں آپ دنیا میں جب تک
سارے جگ سے ہے مہانیہ میرا ہندوستانپیاری مجھ کو عظمت اس کیصدقے اس پہ میری جانسارے جگ سے ہے مہانیہ میرا ہندوستانبستی بستی جنگل جنگل جیون کی رت چاروں اورآنکھوں میں ٹھنڈک پڑ جائے جب جب پر پھیلائیں مورندیاں نہریں باغ اور بغیچے ہرے بھرے کھیت اور کھلیانسارے جگ سے ہے مہانیہ میرا ہندوستانمیرے ہندوستان کی دھرتی سارے جگ سے نیاریرنگ رنگ کے پھول ہیں جس میں یہ ایسی پھلواریہندو مسلم سکھ عیسائی سب جیسے اک خاندانسارے جگ سے ہے مہانیہ میرا ہندوستانسب کو آزادی کی خوشیاں راحت کا سامان ملےہردے کی پیڑا مٹ جائے ہونٹوں کی مسکان ملےپورا ہو برسوں کا سپنا رہ جائے پرکھوں کی آنسارے جگ سے ہے مہانیہ میرا ہندوستان
اے دلبر فرزانہ اے ساقئ مے خانہتیری مئے صہبا کا میں سائل تشنہ تھایہ آس تھی مجھ کو بھی کر دو گے عطا پیہمپیمانۂ رندانہاے ساقئ مے خانہلیکن یہ تمنا بھی تشنہ ہی رہی آخرکیا فرق پڑے تجھ کو اس گریۂ پیہم کاہر ایک پری رو کی ہے سنگ دلی فطرتاس واسطے تو نے بھی دکھلائی ہے اپنی خوپتھر بھی پگھل جائے روداد تمنا سےافسوس مرے دل بر پر پگھلا نہ دل تیرابخشا ہے غموں کا تو اک کوہ گراں مایہاے ساقئ مے خانہ اے ساقئ مے خانہسرگم ہے تو نصرت کا تو راگ ہے درباریبندش ہے خیالوں کی تو لحن ہے داؤدیخالق نے تجھے گویا تخلیق کیا ایسےتیرا یہ سراپا ہےحافظؔ کی غزل گوئی آزادؔ کی گویائیسچ ہے کہ ملے تجھ سےاشعار کو رعنائی سنگیت کو سچائیتو عشق کا ہے نغمہایک نعرۂ مستانہاے ساقئ مے خانہ اے ساقئ مے خانہ
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books