aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "qufl"
کیا ہند کا زنداں کانپ رہا ہے گونج رہی ہیں تکبیریںاکتائے ہیں شاید کچھ قیدی اور توڑ رہے ہیں زنجیریںدیواروں کے نیچے آ آ کر یوں جمع ہوئے ہیں زندانیسینوں میں تلاطم بجلی کا آنکھوں میں جھلکتی شمشیریںبھوکوں کی نظر میں بجلی ہے توپوں کے دہانے ٹھنڈے ہیںتقدیر کے لب کو جنبش ہے دم توڑ رہی ہیں تدبیریںآنکھوں میں گدا کی سرخی ہے بے نور ہے چہرہ سلطاں کاتخریب نے پرچم کھولا ہے سجدے میں پڑی ہیں تعمیریںکیا ان کو خبر تھی زیر و زبر رکھتے تھے جو روح ملت کوابلیں گے زمیں سے مار سیہ برسیں گی فلک سے شمشیریںکیا ان کو خبر تھی سینوں سے جو خون چرایا کرتے تھےاک روز اسی بے رنگی سے جھلکیں گی ہزاروں تصویریںکیا ان کو خبر تھی ہونٹوں پر جو قفل لگایا کرتے تھےاک روز اسی خاموشی سے ٹپکیں گی دہکتی تقریریںسنبھلو کہ وہ زنداں گونج اٹھا جھپٹو کہ وہ قیدی چھوٹ گئےاٹھو کہ وہ بیٹھیں دیواریں دوڑو کہ وہ ٹوٹی زنجیریں
رخصت ہوا وہ باپ سے لے کر خدا کا نامراہ وفا کی منزل اول ہوئی تماممنظور تھا جو ماں کی زیارت کا انتظامدامن سے اشک پونچھ کے دل سے کیا کلاماظہار بے کسی سے ستم ہوگا اور بھیدیکھا ہمیں اداس تو غم ہوگا اور بھیدل کو سنبھالتا ہوا آخر وہ نونہالخاموش ماں کے پاس گیا صورت خیالدیکھا تو ایک در میں ہے بیٹھی وہ خستہ حالسکتا سا ہو گیا ہے یہ ہے شدت ملالتن میں لہو کا نام نہیں زرد رنگ ہےگویا بشر نہیں کوئی تصویر سنگ ہےکیا جانے کس خیال میں گم تھی وہ بے گناہنور نظر یہ دیدۂ حسرت سے کی نگاہجنبش ہوئی لبوں کو بھری ایک سرد آہلی گوشہ ہائے چشم سے اشکوں نے رخ کی راہچہرہ کا رنگ حالت دل کھولنے لگاہر موئے تن زباں کی طرح بولنے لگاآخر اسیر یاس کا قفل دہن کھلاافسانۂ شدائد رنج و محن کھلااک دفتر مظالم چرخ کہن کھلاوا تھا دہان زخم کہ باب سخن کھلادرد دل غریب جو صرف بیاں ہواخون جگر کا رنگ سخن سے عیاں ہوارو کر کہا خموش کھڑے کیوں ہو میری جاںمیں جانتی ہوں جس لیے آئے ہو تم یہاںسب کی خوشی یہی ہے تو صحرا کو ہو رواںلیکن میں اپنے منہ سے نہ ہرگز کہوں گی ہاںکس طرح بن میں آنکھوں کے تارے کو بھیج دوںجوگی بنا کے راج دلارے کو بھیج دوںدنیا کا ہو گیا ہے یہ کیسا لہو سپیداندھا کیے ہوئے ہے زر و مال کی امیدانجام کیا ہو کوئی نہیں جانتا یہ بھیدسوچے بشر تو جسم ہو لرزاں مثال بیدلکھی ہے کیا حیات ابد ان کے واسطےپھیلا رہے ہیں جال یہ کس دن کے واسطےلیتی کسی فقیر کے گھر میں اگر جنمہوتے نہ میری جان کو سامان یہ بہمڈستا نہ سانپ بن کے مجھے شوکت و حشمتم میرے لال تھے مجھے کس سلطنت سے کممیں خوش ہوں پھونک دے کوئی اس تخت و تاج کوتم ہی نہیں تو آگ لگا دوں گی راج کوکن کن ریاضتوں سے گزارے ہیں ماہ و سالدیکھی تمہاری شکل جب اے میرے نونہالپورا ہوا جو بیاہ کا ارمان تھا کمالآفت یہ آئی مجھ پہ ہوئے جب سفید بالچھٹتی ہوں ان سے جوگ لیا جن کے واسطےکیا سب کیا تھا میں نے اسی دن کے واسطےایسے بھی نامراد بہت آئیں گے نظرگھر جن کے بے چراغ رہے آہ عمر بھررہتا مرا بھی نخل تمنا جو بے ثمریہ جائے صبر تھی کہ دعا میں نہیں اثرلیکن یہاں تو بن کے مقدر بگڑ گیاپھل پھول لا کے باغ تمنا اجڑ گیاسرزد ہوئے تھے مجھ سے خدا جانے کیا گناہمنجدھار میں جو یوں مری کشتی ہوئی تباہآتی نظر نہیں کوئی امن و اماں کی راہاب یاں سے کوچ ہو تو عدم میں ملے پناہتقصیر میری خالق عالم بہل کرےآسان مجھ غریب کی مشکل اجل کرےسن کر زباں سے ماں کی یہ فریاد درد خیزاس خستہ جاں کے دل پہ چلی غم کی تیغ تیزعالم یہ تھا قریب کہ آنکھیں ہوں اشک ریزلیکن ہزار ضبط سے رونے سے کی گریزسوچا یہی کہ جان سے بیکس گزر نہ جائےناشاد ہم کو دیکھ کے ماں اور مر نہ جائےپھر عرض کی یہ مادر ناشاد کے حضورمایوس کیوں ہیں آپ الم کا ہے کیوں وفورصدمہ یہ شاق عالم پیری میں ہے ضرورلیکن نہ دل سے کیجیے صبر و قرار دورشاید خزاں سے شکل عیاں ہو بہار کیکچھ مصلحت اسی میں ہو پروردگار کییہ جعل یہ فریب یہ سازش یہ شور و شرہونا جو ہے سب اس کے بہانے ہیں سر بسراسباب ظاہری میں نہ ان پر کرو نظرکیا جانے کیا ہے پردۂ قدرت میں جلوہ گرخاص اس کی مصلحت کوئی پہچانتا نہیںمنظور کیا اسے ہے کوئی جانتا نہیںراحت ہو یا کہ رنج خوشی ہو کہ انتشارواجب ہر ایک رنگ میں ہے شکر کرد گارتم ہی نہیں ہو کشتہ نیرنگ روزگارماتم کدے میں دہر کے لاکھوں ہیں سوگوارسختی سہی نہیں کہ اٹھائی کڑی نہیںدنیا میں کیا کسی پہ مصیبت پڑی نہیں
اہل دولت کا سن چکے تم حالاب سنو روئیداد اہل کمالفاضلوں کو ہے فاضلوں سے عنادپنڈتوں میں پڑے ہوئے ہیں فسادہے طبیبوں میں نوک جھوک سداایک سے ایک کا ہے تھوک جدارہنے دو اہل علم ہیں اس طرحپہلوانوں میں لاگ ہو جس طرحعیدو والوں کا ہے اگر پٹھاشیخو والوں میں جا نہیں سکتاشاعروں میں بھی ہے یہی تکرارخوشنویسوں کو ہے یہی آزارلاکھ نیکوں کا کیوں نہ ہو اک نیکدیکھ سکتا نہیں ہے ایک کو ایکاس پہ طرہ یہ ہے کہ اہل ہنردور سمجھے ہوئے ہیں اپنا گھرملی اک گانٹھ جس کو ہلدی کیاس نے سمجھا کہ میں ہوں پنسارینسخہ اک طب کا جس کو آتا ہےسگے بھائی سے وہ چھپاتا ہےجس کو آتا ہے پھونکنا کشتہہے ہماری طرف سے وہ گونگاجس کو ہے کچھ رمل میں معلوماتوہ نہیں کرتا سیدھے منہ سے باتباپ بھائی ہو یا کہ ہو بیٹابھید پاتا نہیں منجم کاکام کندلے کا جس کو ہے معلومہے زمانہ میں اس کی بخل کی دھومالغرض جس کے پاس ہے کچھ چیزجان سے بھی سوا ہے اس کو عزیزقوم پر ان کا کچھ نہیں احساںان کا ہونا نہ ہونا ہے یکساںسب کمالات اور ہنر ان کےقبر میں ان کے ساتھ جائیں گےقوم کیا کہہ کے ان کو روئے گینام پر کیوں کہ جان کھوئے گیتربیت یافتہ ہیں جو یاں کےخواہ بی اے ہوں اس میں یا ایم اےبھرتے حب وطن کا گو دم ہیںپر محب وطن بہت کم ہیںقوم کو ان سے جو امیدیں تھیںاب جو دیکھا تو سب غلط نکلیںہسٹری ان کی اور جیوگرفیسات پردے میں منہ دیے ہے پڑیبند اس قفل میں ہے علم ان کاجس کی کنجی کا کچھ نہیں ہے پتالیتے ہیں اپنے دل ہی دل میں مزےگویا گونگے کا گڑ ہیں کھائے ہوئےکرتے پھرتے ہیں سیر گل تنہاکوئی پاس ان کے جا نہیں سکتااہل انصاف شرم کی جا ہےگر نہیں بخل یہ تو پھر کیا ہےتم نے دیکھا ہے جو وہ سب کو دکھاؤتم نے چکھا ہے جو وہ سب کو چکھاؤیہ جو دولت تمہارے پاس ہے آجہم وطن اس کے ہیں بہت محتاجمنہ کو ایک اک تمہارے ہے تکتاکہ نکلتا ہے منہ سے آپ کے کیاآپ شائستہ ہیں تو اپنے لیےکچھ سلوک اپنی قوم سے بھی کیےمیز کرسی اگر لگاتے ہیں آپقوم سے پوچھئے تو پن ہے نہ پاپمنڈا جوتا گر آپ کو ہے پسندقوم کو اس سے فائدہ نہ گزندقوم پر کرتے ہو اگر احساںتو دکھاؤ کچھ اپنا جوش نہاںکچھ دنوں عیش میں خلل ڈالوپیٹ میں جو ہے سب اگل ڈالوعلم کو کر دو کو بہ کو ارزاںہند کو کر دکھاؤ انگلستاں
دلوں پہ خوف کے پہرے لبوں پہ قفل سکوتسروں پہ گرم سلاخوں کے شامیانے ہیں
چھا گئی برسات کی پہلی گھٹا اب کیا کروںخوف تھا جس کا وہ آ پہنچی بلا اب کیا کروںہجر کو بہلا چلی تھی گرم موسم کی سمومناگہاں چلنے لگی ٹھنڈی ہوا اب کیا کروںآنکھ اٹھی ہی تھی کہ ابر لالہ گوں کی چھاؤں میںدرد سے کہنے لگا کچھ جھٹپٹا اب کیا کروںاشک ابھی تھمنے نہ پائے تھے کہ بیدردی کے ساتھبوندیوں سے بوستاں بجنے لگا اب کیا کروںزخم اب بھرنے نہ پائے تھے کہ بادل چرخ پرآ گیا انگڑائیاں لیتا ہوا اب کیا کروںآ چکی تھی نیند سی غم کو کہ موسم ناگہاںبحر و بر میں کروٹیں لینے لگا اب کیا کروںچرخ کی بے رنگیوں سے سست تھی رفتار غمیک بیک ہر ذرہ گلشن بن گیا اب کیا کروںقفل باب شوق تھیں ماحول کی خاموشیاںدفعتاً کافر پپیہا بول اٹھا اب کیا کروںہجر کا سینے میں کچھ کم ہو چلا تھا پیچ و تاببال بکھرانے لگی کالی گھٹا اب کیا کروںآنکھ جھپکانے لگی تھی دل میں یاد لحن یادمور کی آنے لگی بن سے صدا اب کیا کروںگھٹ چلا تھا غم کی رنگیں بدلیوں کی آڑ سےان کا چہرہ سامنے آنے لگا اب کیا کروںآ رہی ہیں ابر سے ان کی صدائیں جوشؔ جوشؔاے خدا اب کیا کروں بار خدا اب کیا کروں
مرے دادا جو برٹش فوج کے نامی بھگوڑے تھےنہ جانے کتنی جیلوں کے انہوں نے قفل توڑے تھےچرس کا اور گانجے کا وہ کاروبار کرتے تھےخدا سے بھی نہیں ڈرتے تھے بس بیگم سے ڈرتے تھےمرے تائے بھی اپنے وقت کے مشہور چیٹر تھےکئی جیلوں کے تو وہ ہاف ایرلی بھی وزیٹر تھےہر اک غنڈہ انہیں گھر بیٹھے غنڈہ ٹیکس دیتا تھاتجوری توڑنے کا فن انہیں سے میں نے سیکھا تھاچچا مرحوم ناسک جیل سے جب واپس آئے تھےتو مشہور زمانہ اک طوائف ساتھ لائے تھےوہ ٹھمری دادرا اور بھیرویں میں بات کرتی تھیترنم میں ثریا اور لتا کو مات کرتی تھیمرے والد خدا بخشے کہیں آتے نہ جاتے تھےسحر سے شام تک اماں کے آگے دم ہلاتے تھےتھی اک بکرے نما براق داڑھی ان کے چہرے پرمگر پھر بھی کبڈی کھیلتے تھے رات کو اکثرمیں اپنے باپ دادا کے ہی نقش پا پہ چلتا ہوںمگر بس فرق اتنا ہے وہ غنڈے تھے میں نیتا ہوںپولس پیچھے تھی ان کے تھرڈ ڈگری کی ضیافت کومرے پیچھے بھی رہتی ہے مگر میری حفاظت کونہیں پروا کہ لیڈر کون اچھا کون گندہ ہےسیاست میری روزی ہے الیکشن میرا دھندہ ہےسیاست میں قدم رکھ کر حقیقت میں نے یہ جانیچرا کارے کند عاقل کہ باز آید پشیمانی
چپ کا قفل لگا کر گونگی ہو جاتی ہےدھیما دھیما بولتے یک دم غراتی ہے
تدفینچار طرف سناٹے کی دیواریں ہیںاور مرکز میں اک تازہ تازہ قبر کھدی ہےکوئی جنازہ آنے والا ہےکچھ اور نہیں تو آج شہادت کا کلمہ سننے کو ملے گاکانوں کے اک صدی پرانے قفل کھلیں گےآج مری قلاش سماعت کو آواز کی دولت ارزانی ہوگیدیواروں کے سائے میں اک بہت بڑا انبوہ نمایاں ہوتا ہےجو آہستہ آہستہ قبر کی جانب آتا ہےان لوگوں کے قدموں کی کوئی چاپ نہیں ہےلب ہلتے ہیں لیکن حرف صدا بننے سے پہلے مر جاتے ہیںآنکھوں سے آنسو جاری ہیںلیکن آنسو تو ویسے بھیدل و دماغ کے سناٹوں کی تمثالیں ہوتے ہیںمیت قبر میں اتری ہےاور حد نظر تک لوگ بلکتے ہوئے دکھائی دیتے ہیںاور صرف دکھائی دیتے ہیںاور کان دھرو تو سناٹے ہی سنائی دیتے ہیںجب قبر مکمل ہو جاتی ہےاک بوڑھا جو ''وقت'' نظر آتا ہے اپنے حلیے سےہاتھوں میں اٹھائے کتبہ قبر پہ جھکتا ہےجب اٹھتا ہے تو کتبے کا ہر حرف گرجنے لگتا ہےیہ لوح مزار ''آواز'' کی ہے!
مگر جب وجود اس کامجسم اجنبی بن کرگریزاں ہو گیا مجھ سےعذاب جانکنی بن کرخیال آیا کہ شاید بسوہی اک اسم اعظم ماں مجھے سکھلا نہیں پائیجسے پڑھنے سے اس کی سرد مہری سرد پڑ جائےجو اس کے دل کا زنگی قفل کھولے اور وہ مجھ کوفقط اک بار اذن باریابی دےعذاب نارسائی ختم کر دے اورنوید شادمانی دے
زندگی اپنے دریچوں میں ہے مشتاق ابھیکیا خبر توڑ ہی دے بڑھ کے کوئی قفل جمود
ہوا کے پاؤں اس زینے تلک آئے تھے لگتا ہےدیئے کی لو پہ یہ بوسہ اسی کا ہےمری گردن سے سینے تکخراشوں کی لکیروں کا یہ گلدستہطلسمی قفل کھلنے کی اسی ساعت کی خاطرہجر کے موسم گزارے ہیںہوا نے مدتوں میں پاؤں پانی میں اتارے ہیںمری پسلی سے پیدا ہووہی گندم کی بو لے کرزمیں اور آسماں کی وسعتیںمجھ میں سمٹ آئیںالوہی لذت نایاب سے سرشار کر مجھ کومیں اک پیاسا سمندر ہوںتو اپنی جسم کی کشتی میں آاور پار کر مجھ کو
یہ قفل زنگ آلودہ یہ گھر کے بند دروازےترے ترک وطن کا دکھ بھرا افسانہ کہتے ہیںمنڈیروں پر یہ لہراتے ہوئے پر ہول سناٹےشکست خواب کی روداد غم دہراتے رہتے ہیںیہاں ہر شام محرابوں میں اڑتی ہیں ابابیلیںیہاں پچھلے پہر شبنم کے آنسو روز بہتے ہیں
تم سے کترا کے نکلنے کا سبب ہے کوئیمل کے تم سےبڑی تنہائی سی ہو جاتی ہےگھر تلک ساتھاک آہٹ سی چلی آتی ہےسب کواڑوں کو ارادوں کومقفل کر لوپر یہ آہٹ ہے کہدیواروں سے چھن آتی ہےخاک اڑا کرتی ہےجس صحن میں سناٹے کیواں عجب شوق کا دربار لگا ہوتا ہےرقص کرتی ہے مرے پاؤں تلےمیری زمیںہوش کی بزم میںمے خانہ سجا ہوتا ہےقفل سارے مرے احساس کےسب زنجیریںنام لیتے ہیں کبھی جام کو ٹکراتے ہیںخواب میرےمجھے سمجھانے چلے آتے ہیںدو گھڑی میں مرا ہر کام الٹ جاتا ہےاس قدر شور مچاتے ہیںیہ لمحات طربدھیان پلو سے بندھیسوچ سے ہٹ جاتا ہےخود کو ترتیب سے رکھنے میں اٹھانے میں مجھےمل کے ہر باربڑا وقت بھی لگ جاتا ہےتم سے رشتہ تو کوئی تھانہ ہی اب ہے کوئیتم سے کترا کے نکلنے کا سبب ہے کوئی
شمع اک جلانے پر کیسی کیسی پابندینور پر بھی پابندی طور پر بھی پابندیسو طرح کی پابندی شمع کیسے جل پائےکس میں اتنی جرأت ہے موت سے الجھ جائےیاس دل سے کہتی ہے مصلحت بڑی شے ہےمصلحت اسی میں ہے قفل ڈالیے لب پرجوش لاکھ بہلائے کچھ نہ لائیے لب پریاس ایک بڑھیا ہے تجربے سے کہتی ہےلوگ قدر کرتے ہیں مصلحت اسی میں ہےمصلحت پہ چلتے ہیں خیریت اسی میں ہے
اسے نہ سہیلیاں بنانے کی اجازت ہے نہ ہنسنے کیاس کے لبوں پر قفل ضروری ہےوہ نہ کسی کا غم بانٹ سکتی ہے نہ خوشیاںاسے نہ وقار دیا گیا ہے نہ اختیاراس کے ہاتھ بھی بندھے ہوئے ہیں پاؤں بھیکوئی کسی ٹرنک میں نہ دیکھ لےکسی دراز میں نہ جھانک لےکوئی آنکھوں میں نہ دیکھ لےکوئی دل میں نہ جھانک لےتالے لگانا اس کی ضرورت بھی ہے مجبوری بھی
کہتے ہیں عید ہے آج اپنی بھی عید ہوتیبہبود ملک کی گر ہم کو امید ہوتیہالے میں چاند گر کل ہم کو دکھائی دیتاقفل خزانہ اپنا اپنی کلید ہوتیاف بے زری کا عالم اللہ رے قحط سالیکیا خاک عید ہوتی کیا خاک عید ہوتیکٹتے اگر نہ ہندی تلوار مفلسی سےیہ عید ہمدموں پھر بے شک سعید ہوتیکرتے اگر توجہ ملکی معاملوں پرجو کوئی بات ہوتی اپنے مفید ہوتیحکام چاہیں جو کچھ دل میں خیال کر لیںتھی بات تب کہ باہم گفت و شنید ہوتیلوگوں نے کر دیا ہے کیوں چاند کو مقدمگر ہم فلکؔ نہ ہوتے کس طرح عید ہوتی
اداسی بات کرتی ہے کسی انجان بولی میںسکوں کا پھول دل کے شاخچوں سے توڑ لیتی ہےیہ نیندوں کو اٹھا لیتی ہے آنکھوں کے کٹوروں سےکبھی کھوئی ہوئی یادیں کہیں سے کھوج لاتی ہےبہت سی ان کہی باتیں کہیں سے گھیر لاتی ہےہتھیلی پر سجا لاتی ہے وہ سوکھے ہوئے پتےرچی ہے جن کے ریشوں میں کوئی بھولی ہوئی خوشبولکھے ہیں جن پہ گزرے موسموں کے دل نشیں لمحےپرانے سے پرانا قفل پل میں کھول دیتی ہےاداسی جا اترتی ہےبدن کے ان جزیروں پرجنہیں ویران رکھنا ہواداسی ٹمٹماتی ہےلہو کے ان علاقوں میںجنہیں تاریک رکھنا ہو
وقت کی گود میں سوکھے بچےچار سو گھومتے لاغر رانجھےنئے چنگیز نئے نادر شاہآہن ہو شربا کے شب دیزکاہن مکتب نخشب کےفسوں کار بگولے ہیں کہسرسام کے سر چشمے ہیںگونجتے شہ پر آسیب کے خونی پنجےآدم شائق فطرت کے لیےقفل ابجد بھی ہیںزنجیریں بھیروپ کی نگری میں بہروپ کے تاجر آئےدور دیسوں کے فسوں کارزر کاغذ راحت کے لیےچار سو کشتوں کے پشتے بھی لگے ہیں دیکھوکس قدر خون بہا باقی ہےآنکھیں پتھرائی ہیں ماؤں کیغلامان رسوم امواجاپنی اقلیم کی معراجکہاں بیٹھے ہیںذرے ذرے سے نکلتے ہیں اندھیرے بچھو
یار پرندے! یہیں کہیں تھا نیم کے پیڑ کا دیارمٹی کی کچی دیواریں چاندی جیسے یاریسو پنجو ہار کبوتر، کنچے ونچے، تاشجیتنے والے نالاں، ہارنے والے تھے خوش باشالٹے توے کی روٹی ساتھ میں کھٹا میٹھا ساگمکھن کی ڈلیوں میں جیسے ماں کے پیار کا راگدو کمروں کے گھر میں اتنے گھنے گھنیرے لوگنیم کی چھاؤں بانٹنے آتے گاؤں بھر کے لوگگھر کا دروازہ تھا سانجھا جیسے گھر کی ماںصحن میں اتنی وسعت ہوتی جیسے ایک جہاںیار پرندے! گاؤں وہی ہے ویسا نیم کا پیڑدیواروں پر کانچ جڑے ہیں دروازوں پر قفلشام ڈھلے ہی چوپالیں ہو جاتی ہیں سنسانچنگیروں کی باسی روٹی اور ڈبے کا دودھہوا ہوئیں مکھن کی ڈلیاں ہوا ہوا وہ پیاریار پرندے! نیم کے پیڑ کی باتوں میں مت آپاس کے جنگل میں زاغوں کے ڈیرے پر سو جا
میں جانتا ہوںشعور کی تہہ کے پھاٹکوں پرجو قفل ہے، وہ کلید بھی ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books