aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "sochte"
لوگ عورت کو فقط جسم سمجھ لیتے ہیںروح بھی ہوتی ہے اس میں یہ کہاں سوچتے ہیں
آہ یہ زندگی کی تنہائیسوچنا اور سوچتے رہنا
کتنا عرصہ لگا ناامیدی کے پربت سے پتھر ہٹاتے ہوئےایک بپھری ہوئی لہر کو رام کرتے ہوئےناخداؤں میں اب پیچھے کتنے بچے ہیںروشنی اور اندھیرے کی تفریق میں کتنے لوگوں نے آنکھیں گنوا دیںکتنی صدیاں سفر میں گزاریںمگر آج پھر اس جگہ ہیں جہاں سے ہمیں اپنی ماؤں نےرخصت کیا تھااپنے سب سے بڑے خواب کو اپنی آنکھوں کے آگے اجڑتے ہوئےدیکھنے سے برا کچھ نہیں ہےتیری قربت میں یا تجھ سے دوری پہ جتنی گزاریتیری چوڑیوں کی قسم زندگی دائروں کے سوا کچھ نہیں ہےکہنیوں سے ہمیں اپنا منہ ڈھانپ کر کھانسنے کو بڑوں نے کہا تھاتو ہم ان پہ ہنستے تھے اور سوچتے تھے کہ ان کو ٹشو پیپروں کی مہک سے الرجی ہےلیکن ہمیں یہ پتا ہی نہیں تھا کہ ان پہ وہ آفات ٹوٹی ہیںجن کا ہمیں اک صدی بعد پھر سامنا ہےوبا کے دنوں میں کسے ہوش رہتا ہےکس ہاتھ کو چھوڑنا ہے کسے تھامنا ہےاک ریاضی کے استاد نے اپنے ہاتھوں میں پرکار لے کریہ دنیا نہیں دائرہ کھینچنا تھاخیر جو بھی ہوا تم بھی پرکھوں کے نقش قدم پر چلواور اپنی حفاظت کروکچھ مہینے تمہیں اپنے تسمے نہیں باندھنےاس سے آگے تو تم پہ ہے تم اپنی منزل پہ پہنچو یا پھر راستوں میں رہواس سے پہلے کہ تم اپنے محبوب کو وینٹیلیٹر پہ دیکھوگھروں میں رہو
گرم بوسوں سے تراشا ہوا نازک پیکرجس کی اک آنچ سے ہر روح پگھل جاتی ہےمیں نے سوچا ہے کہ سب سوچتے ہوں گے شایدپیاس اس طرح بھی کیا سانچے میں ڈھل جاتی ہے
میں سوچتا ہوں اک نظم لکھوںلیکن اس میں کیا بات کہوںاک بات میں بھی سو باتیں ہیںکہیں جیتیں ہیں کہیں ماتیں ہیںدل کہتا ہے میں سنتا ہوںمن مانے پھول یوں چنتا ہوںجب مات ہو مجھ کو چپ نہ رہوںاور جیت جو ہو درانہ کہوںپل کے پل میں اک نظم لکھوںلیکن اس میں کیا بات کہوںجب یوں الجھن بڑھ جاتی ہےتب دھیان کی دیوی آتی ہےاکثر تو وہ چپ ہی رہتی ہےکہتی ہے تو اتنا کہتی ہےکیوں سوچتے ہو اک نظم لکھوکیوں اپنے دل کی بات کہوبہتر تو یہی ہے چپ ہی رہو
بے نگاہ آنکھوں سے دیکھتے ہیں پرچے کوبے خیال ہاتھوں سےان بنے سے لفظوں پر انگلیاں گھماتے ہیںیا سوال نامے کو دیکھتے ہی جاتے ہیںسوچتے نہیں اتنا جتنا سر کھجاتے ہیں
سوچتے سوچتے پھر مجھ کو خیال آتا ہےوہ مرے رنج و مصائب کا مداوا تو نہ تھیرنگ افشاں تھی مرے دل کی خلاؤں میں مگرایک عورت تھی علاج غم دنیا تو نہ تھی
حال پر بچوں کے ہیں بے حد پریشاں والدینساتھ میں اولاد کے ان کا اڑا جاتا ہے چینگرچہ ہے تعلیم اور رٹنے میں بعد المشرقینسوچتے ہیں وہ کہ اچھا ذہن ہے خالق کی دینکیا خبر تھی اس طرح جی کا زیاں ہو جائے گا''یعنی یہ پہلے ہی نذر امتحاں ہو جائے گا''
کیسے بنائی تو نے یہ کائنات پیاریحیران ہو رہی ہے عقل و خرد ہماریکلیاں مہک رہی ہیں اعجاز ہے یہ تیراخوشبو کہاں سے آئی اک راز ہے یہ تیرابلبل کے چہچہوں نے حیران کر دیا ہےانساں کے قہقہوں نے حیران کر دیا ہےششدر ہوں دیکھ کے میں اڑتے ہیں کیسے پنچھیدریا میں دیکھتا ہوں جاتے ہیں کیسے مانجھیکس طرح بے ستوں یہ تو نے فلک بنایاآنچل کو تو نے اس کے باروں سے جگمگایاکس طرح کی ہیں پیدا برسات کی گھٹائیںکس طرح چل رہی ہیں پر کیف یہ ہوائیںدریا پہاڑ جنگل کس طرح بن گئے ہیںیہ بات عقل والے ہر وقت سوچتے ہیںکس طرح تو نے مولا انسان کو بنایااکثر میں سوچتا ہوں کیسا ہے تو خدایا
کیا زندگی ہماریسب کچھ ہے اپنے بس میںآزاد ہیں فضائیںدنیا ہے دسترس میںکیا کیا ہمیں ملا ہےکچھ وقت کچھ برس میںلیکن جو مڑ کے دیکھیںتھی اک عجب کہانیدشوار کیسا جینامشکل تھی زندگانیاک آفت مسلسلآلام ناگہانیروزانہ صبح اٹھناآسان تھا نہ اتناہر روز ڈانٹ کھاناہر روز کا سسکناہر بات کے تماشےہر بات پر جھگڑناابا وہیں کھڑے ہیںاخبار پڑھ رہے ہیںکیا کام ہم کو دے دیںہر وقت سوچتے ہیںاولاد کو تو اپنینوکر سمجھ رہے ہیںامی کے سامنے توبالکل نہ منہ کو کھولیںہم بد تمیز ٹھہرےگو اچھی بات بولیںچپ چاپ ہی رہیں بسکتنا بھی خوار ہو لیںپانی برس رہا ہےپر دل ترس رہا ہےوہ سائیکل کھڑی ہےمانجھا وہیں رکھا ہےکنچے یہاں پڑے ہیںبلا وہاں کھڑا ہےلیکن نہیں ہمیں کیالادے کمر پہ بستہاسکول جا رہے ہیںتاریخ کا ہے پرچہاچھا نہیں ہوا توبس بند جیب خرچہاردو کا کام پوراکل رات کر لیا تھالیکن ہمیں ریاضیبالکل سمجھ نہ آیااللہ کے ہیں بندےہم سے ہے واسطہ کیاامی نے صرف ڈانٹابالوں میں تیل ڈالابھیا نے صرف جھڑکاباجی نے خوب ٹالاسب کے لئے ہے جی میںنفرت کا ایک جالابھیا کی سائیکل کیکس نے ہوا نکالیہم کو بھلا خبر کیاہر شخص ہے سوالیاس نے ہماری چڑیااس دن جو توڑ ڈالیسچ ہے بہت ستم تھاگویا تھے اک کھلوناجیسے ہو سب برابرگھر میں نہ ہونا ہونادیکھا نہیں کسی نےچھپ چھپ ہمارا رونااب ہو گیا ہے اپنا ہر چیز پر اجارہسب اپنی ذمہ داریسب فیصلے ہمارےہر چیز اختیاریلیکن وہ بچپنے کی ہے یاد پیاری پیاریکیا زندگی ہماریکیا زندگی ہماری
سامنے تو ہے مگر تیرا منور چہرہاسی جاہل کو نظر آتا ہےجو یہ کہتا ہے کہ تیمور کی فوجیں جس وقتاپنے دشمن پہ بڑھا کرتی تھیںعورتیں پیچھے رہا کرتی تھیںاور جو عالم تھے جو فاضل تھے وہ یہ سوچتے تھےہار کس شخص کی ہے جیت ہے کس کی چھوڑوہم بھی کن چھوٹی سی باتوں میں الجھ بیٹھے ہیںچلتے چلتے مجھے تیزی سے خیال آیا ہےتیرا یہ جوڑا جو کھل جائے بکھر جائے تو پھر کیا ہوگامیری تاریخ کہ تیری تاریخپھیل کر آج پہ (اور کل پہ بھی) چھا جائے گیسوچنے والے کو اک پل میں بتا جائے گیعورتیں پیچھے اگر ہوں بھی تو آگے ہی رہا کرتی ہیںاور فلاطوں کا چچا ہاتھ میں تلوار لیے آگے بڑھا کرتا ہےلو وہ جوڑا بھی فلاطوں ہی سے کچھ کہنے لگااور رستے میں اسے کون ملے گا تیموراور وہ اس سے کہے گا کہ یہاں کیوں آئیجا مرے پیچھے چلی جا کہ ترے پیچھے ہمیشہ ہر دمعلم یوں رینگتے ہی رینگتے بڑھتا جائےجیسے ہر بات کے پیچھے ہر باترینگتے رینگتے بڑھتی ہی چلی جاتی ہےاور ہر ایک فلاطوں جو شرر بن کے چمکتا ہے وہ مٹ جاتا ہے
ایک مدت ہوئی سوچتے سوچتےتم سے کہنا ہے کچھ پر میں کیسے کہوںآرزو ہے مجھے ایسے الفاظ کیجو کسی نے کسی سے کہے ہی نہ ہوںسوچتا ہوں کہ موج صبا کے سبک پاؤں میں کوئی پازیب ہی ڈال دوںچاہتا ہوں کہ ان تتلیوں کے پروں میں دھنک باندھ دوںسرمئی شام کے گیسوؤں میں بندھی بارشیں کھول دوں خوشبوئیں گھول دوںپھول کے سرخ ہونٹوں پہ افشاں رکھوںخواب کی مانگ میں نور سندور کی کہکشاں کھینچ دوںاک تخیل کی بے ربطیوں کو تسلسل کی زنجیر دوںخواب کو جسم دوں جسم کو اسم دوںکوئی تعبیر دوں ایک تصویر دوں اور تصویر کو روبرو رکھ کے اک حرف توقیر دوںکیا کہوں یہ کہوں یوں کہوں پر میں کیسے کہوںجتنے الفاظ ہیں سب کہے جا چکے سب سنے جا چکےتشنہ اظہار کو معتبر سا کوئی اب سہارا ملےاک کنایہ ملے اک اشارہ ملےخوبصورت انوکھی علامت ملے ان کہا ان سنا استعارہ ملےآرزو ہے مجھے ایسے الفاظ کی جستجو ہے مجھے ایسے الفاظ کیجن سے پتھر کو پانی کیا جا سکےخواب کو اک حقیقت کیا جا سکےایک زندہ کہانی کیا جا سکےسرحد جاودانی کیا جا سکے
پتہ نہیں وہ کون تھاجو میرے ہاتھموگرے کی ڈال پنکھ مور کا تھما کے چل دیاپتہ نہیں وہ کون تھاہوا کے جھونکے کی طرح جو آیا اور گزر گیانظر کو رنگ دل کو نکہتوں کے دکھ سے بھر گیامیں کون ہوںگزرنے والا کون تھایہ پھول پنکھ کیا ہیں کیوں ملےیہ سوچتے ہی سوچتے تمام رنگ ایک رنگ میں اترتے گئے۔۔۔۔۔۔سیاہ رنگتمام نکہتیں ادھر ادھر بکھر گئیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔خلاؤں میںیقین ہے۔۔۔۔۔۔ نہیں نہیں گمان ہےوہ کوئی میرا دشمن قدیم تھادکھا کے جو سراب میری پیاس اور بڑھا گیامیں بے حساب آرزوؤں کا شکارانتہائے شوق میں فریب اس کا کھا گیاگمان۔۔۔ نہیں نہیں یقین ہےوہ کوئی میرا دوست تھاجو دو گھڑی کے واسطے ہی کیوں نہ ہونظر کو رنگ دل کو نکہتوں سے بھر گیاپتہ نہیں کدھر گیامیں اس کو ڈھونڈھتا ہواتمام کائنات میںادھر ادھر بکھر گیا
جاگ اے نرم نگاہی کے پر اسرار سکوتآج بیمار پہ یہ رات بہت بھاری ہےجو خود اپنے ہی سلاسل میں گرفتار رہےان خداؤں سے مرے غم کی دوا کیا ہوگیسوچتے سوچتے تھک جائیں گے نیلے ساگرجاگتے جاگتے سو جائے گا مدھم آکاشاس چھلکتی ہوئی شبنم کا ذرا سا قطرہکسی معصوم سے رخسار پہ جم جائے گاایک تارا نظر آئے گا کسی چلمن میںایک آنسو کسی بستر پہ بکھر جائے گاہاں مگر تیرا یہ بیمار کدھر جائے گامیں نے اک نظم میں لکھا تھا کہ اے روح وفاچارہ سازی ترے ناخن کی رہین منتغم گساری تری پلکوں کی روایات میں ہےایک چھوٹی ہی سی امید طرب زار سہیایک جگنو کا اجالا مری برسات میں ہےلذت عارض و لب ساعت تکمیل وصالمیری تقدیر میں ہے اور تری بات میں ہے
شیر جنگل میں ہے اداس بہتجانور کم ہیں اور گھاس بہتسوچتا ہے کہ کیا کریں اب ہمکر لیا غور اور قیاس بہتما بدولت کا ہو گیا پڑاتھی کبھی اپنی دھونس دھانس بہتسب رعایا چلی گئی زو میںنوکری آئی سب کو راس بہتسب کے جنگل کو چھوڑ جانے سےہو گیا ہے ہمارا لاس بہتکھانے پینے کے پڑ گئے لالےچاہیے فیملی کو ماس بہتبچے ادھم مچائے رکھتے ہیںان کو لگتی ہے بھوک پیاس بہتشيرنی نے بھی روز لڑ لڑ کرکر دیا ہے ہمارا ناس بہتوہ سمجھتی ہے آج بھی ہے گامال و دولت ہمارے پاس بہتروز میک اپ کا چاہیے ساماںاور درکار ہیں لباس بہتاس سے شکوے شکایتیں سن کرطعنے دیتی ہے ہم کو ساس بہتجی میں آتا ہے خود کشی کر لیںزندگانی سے ہیں نراس بہتپر کبھی سوچتے ہیں شہر چلیںسونگھ لی جنگلوں کی باس بہتجا کے سرکس میں نوکری کر لیںگر ملیں تو ہیں سو پچاس بہت
اپنے شہسواروں کوقتل کرنے والوں سےخوں بہا طلب کرناوارثوں پہ واجب تھاقاتلوں پہ واجب تھاخوں بہا ادا کرناواجبات کی تکمیلمنصفوں پہ واجب تھیمنصفوں کی نگرانیقدسیوں پہ واجب تھیوقت کی عدالت میںایک سمت مسند تھیایک سمت خنجر تھاتاج زرنگار اک سمتایک سمت لشکر تھااک طرف مقدر تھاطائفے پکار اٹھےتاج و تخت زندہ بادساز و رخت زندہ بادساز و رخت زندہ بادخلق ہم سے کہتی ہےسارا ماجرا لکھیںکس نے کس طرح پایااپنا خوں بہا لکھیںچشم نم سے شرمندہہم قلم سے شرمندہسوچتے ہیںکیا لکھیں
فصل آتی ہے جب حفظ پندار کیسچ کے اظہار کیہم حقائق سے نظریں چرائے ہوئےمصلحت کے جنازے اٹھائے ہوئےسر جھکائے ہوئےلوٹ جاتے ہیں ماضی کے صحراؤں میںبیٹھ کر پھر غم ذات کی چھاؤں میںسوچتے بھی نہیں بولتے بھی نہیںسہمے سہمے ہوئے لوگ ملتے ہوں جبہر طرف زخم کے پھول کھلتے ہوں جبجان جاں کم سے کم ایسے موسم میں ہمحرف حق تو کجا لب نہیں کھولتےہم تو شاعر ہیں ہم سچ نہیں بولتے
ایک عمر ہوتی ہےجس میں کوئی لڑکا ہویا وہ کوئی لڑکی ہوسوچتے ہیں دونوں ہیہم ہی حرف اول ہیںاس جہان کہنہ کواپنی فکر نو سے ہماک لگن کی لو سے ہمجس طرح کا چاہیں گےویسا ہی بنا لیں گےپتھروں کو مر مر کےپیکروں میں ڈھالیں گے
ایک قمیص چلی آتی ہے جانے کہاں سے بہتی ہوئیجس میں ناخن گاڑ دیے ہیں اب اک آبی جھاڑی نےاس کا مالک بچھڑ گیا ہے یہ بھی اس کے پاس چلیاک بہتے دروازے پر اک بھیگی بلی بیٹھی ہےجو آنے والے لمحوں کی بابت سوچتی جاتی ہےسوچتے سوچتے اس کی آنکھیں ہو جائیں گی سحر زدہاور اس کے بالوں کا ریشم پانی میں مل جائے گالہر کی اک دیوار گری اور بلبلے دب کر ٹوٹ گئےجن کی پھوٹتی آنکھوں سے کچھ خواب نکل کر بھاگ چلےیہ خوابوں کے دیکھنے والے آخر کیوں نہیں سوچتے ہیںسب افسانے جھوٹے ہیں، سب خواب بکھرنے والے ہیںاس لافانی جھوٹ کے پیچھے سچ ہے اگر تو اتنا ہےیہ سب کچھ ہوتا رہتا ہے پانی بہتا رہتا ہے
قدم قدم پر جنازے رکھے ہوئے ہیں ان کو اٹھاؤ جاؤیہ دیکھتے کیا ہو کام میرا نہیں تمہارا یہ کام ہے آج اور کل کاتم آج میں محو ہو کے شاید یہ سوچتے ہونہ بیتا کل اور نہ آنے والا تمہارا کل ہےمگر یوں ہی سوچ میں جو ڈوبے تو کچھ نہ ہوگاجنازے رکھے ہوئے ہیں ان کو اٹھاؤ جاؤچلو جنازوں کو اب اٹھاؤیہ بہتے آنسو بہیں گے کب تک اٹھو اور اب ان کو پونچھ ڈالو
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books