aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "thamne"
کس زباں سے کہہ رہے ہو آج تم سوداگرودہر میں انسانیت کے نام کو اونچا کروجس کو سب کہتے ہیں ہٹلر بھیڑیا ہے بھیڑیابھیڑیے کو مار دو گولی پئے امن و بقاباغ انسانی میں چلنے ہی پہ ہے باد خزاںآدمیت لے رہی ہے ہچکیوں پر ہچکیاںہاتھ ہے ہٹلر کا رخش خود سری کی باگ پرتیغ کا پانی چھڑک دو جرمنی کی آگ پرسخت حیراں ہوں کہ محفل میں تمہاری اور یہ ذکرنوع انسانی کے مستقبل کی اب کرتے ہو فکرجب یہاں آئے تھے تم سوداگری کے واسطےنوع انسانی کے مستقبل سے کیا واقف نہ تھےہندیوں کے جسم میں کیا روح آزادی نہ تھیسچ بتاؤ کیا وہ انسانوں کی آبادی نہ تھیاپنے ظلم بے نہایت کا فسانہ یاد ہےکمپنی کا پھر وہ دور مجرمانہ یاد ہےلوٹتے پھرتے تھے جب تم کارواں در کارواںسر برہنہ پھر رہی تھی دولت ہندوستاںدست کاروں کے انگوٹھے کاٹتے پھرتے تھے تمسرد لاشوں سے گڈھوں کو پاٹتے پھرتے تھے تمصنعت ہندوستاں پر موت تھی چھائی ہوئیموت بھی کیسی تمہارے ہات کی لائی ہوئیاللہ اللہ کس قدر انصاف کے طالب ہو آجمیر جعفرؔ کی قسم کیا دشمن حق تھا سراجؔکیا اودھ کی بیگموں کا بھی ستانا یاد ہےیاد ہے جھانسی کی رانی کا زمانہ یاد ہےہجرت سلطان دہلی کا سماں بھی یاد ہےشیر دل ٹیپوؔ کی خونیں داستاں بھی یاد ہےتیسرے فاقے میں اک گرتے ہوئے کو تھامنےکس کے تم لائے تھے سر شاہ ظفر کے سامنےیاد تو ہوگی وہ مٹیا برج کی بھی داستاںاب بھی جس کی خاک سے اٹھتا ہے رہ رہ کر دھواںتم نے قیصر باغ کو دیکھا تو ہوگا بارہاآج بھی آتی ہے جس سے ہائے اخترؔ کی صداسچ کہو کیا حافظے میں ہے وہ ظلم بے پناہآج تک رنگون میں اک قبر ہے جس کی گواہذہن میں ہوگا یہ تازہ ہندیوں کا داغ بھییاد تو ہوگا تمہیں جلیانوالا باغ بھیپوچھ لو اس سے تمہارا نام کیوں تابندہ ہےڈائرؔ گرگ دہن آلود اب بھی زندہ ہےوہ بھگتؔ سنگھ اب بھی جس کے غم میں دل ناشاد ہےاس کی گردن میں جو ڈالا تھا وہ پھندا یاد ہےاہل آزادی رہا کرتے تھے کس ہنجار سےپوچھ لو یہ قید خانوں کے در و دیوار سےاب بھی ہے محفوظ جس پر طنطنہ سرکار کاآج بھی گونجی ہوئی ہے جن میں کوڑوں کی صداآج کشتی امن کے امواج پر کھیتے ہو کیوںسخت حیراں ہوں کہ اب تم درس حق دیتے ہو کیوںاہل قوت دام حق میں تو کبھی آتے نہیں''بینکی'' اخلاق کو خطرے میں بھی لاتے نہیںلیکن آج اخلاق کی تلقین فرماتے ہو تمہو نہ ہو اپنے میں اب قوت نہیں پاتے ہو تماہل حق روشن نظر ہیں اہل باطن کور ہیںیہ تو ہیں اقوال ان قوموں کے جو کمزور ہیںآج شاید منزل قوت میں تم رہتے نہیںجس کی لاٹھی اس کی بھینس اب کس لئے کہتے نہیںکیا کہا انصاف ہے انساں کا فرض اولیںکیا فساد و ظلم کا اب تم میں کس باقی نہیںدیر سے بیٹھے ہو نخل راستی کی چھاؤں میںکیا خدا ناکردہ کچھ موچ آ گئی ہے پاؤں میںگونج ٹاپوں کی نہ آبادی نہ ویرانے میں ہےخیر تو ہے اسپ تازی کیا شفا خانے میں ہےآج کل تو ہر نظر میں رحم کا انداز ہےکچھ طبیعت کیا نصیب دشمناں ناساز ہےسانس کیا اکھڑی کہ حق کے نام پر مرنے لگےنوع انساں کی ہوا خواہی کا دم بھرنے لگےظلم بھولے راگنی انصاف کی گانے لگےلگ گئی ہے آگ کیا گھر میں کہ چلانے لگےمجرموں کے واسطے زیبا نہیں یہ شور و شینکل یزیدؔ و شمرؔ تھے اور آج بنتے ہو حسینؔخیر اے سوداگرو اب ہے تو بس اس بات میںوقت کے فرمان کے آگے جھکا دو گردنیںاک کہانی وقت لکھے گا نئے مضمون کیجس کی سرخی کو ضرورت ہے تمہارے خون کیوقت کا فرمان اپنا رخ بدل سکتا نہیںموت ٹل سکتی ہے اب فرمان ٹل سکتا نہیں
اے مری امید میری جاں نوازاے مری دل سوز میری کارسازمیری سپر اور مرے دل کی پناہدرد و مصیبت میں مری تکیہ گاہعیش میں اور رنج میں میری شفیقکوہ میں اور دشت میں میری رفیقکاٹنے والی غم ایام کیتھامنے والی دل ناکام کیدل پہ پڑا آن کے جب کوئی دکھتیرے دلاسے سے ملا ہم کو سکھتو نے نہ چھوڑا کبھی غربت میں ساتھتو نے اٹھایا نہ کبھی سر سے ہاتھجی کو ہو کبھی اگر عسرت کا رنجکھول دیے تو نے قناعت کے گنجتجھ سے ہے محتاج کا دل بے ہراستجھ سے ہے بیمار کو جینے کی آسخاطر رنجور کا درماں ہے توعاشق مہجور کا ایماں ہے تونوح کی کشتی کا سہارا تھی توچاہ میں یوسف کی دل آرا تھی تورام کے ہمراہ چڑھی رن میں توپانڈو کے بھی ساتھ پھری بن میں توتو نے سدا قیس کا بہلایا دلتھام لیا جب کبھی گھبرایا دلہو گیا فرہاد کا قصہ تمامپر ترے فقروں پہ رہا خوش مدامتو نے ہی رانجھے کی یہ بندھوائی آسہیر تھی فرقت میں بھی گویا کہ پاسہوتی ہے تو پشت پہ ہمت کی جبمشکلیں آساں نظر آتی ہیں سبہاتھ میں جب آ کے لیا تو نے ہاتسات سمندر سے گزرنا ہے باتساتھ ملا جس کو ترا دو قدمکہتا ہے وہ یہ ہے عرب اور عجمگھوڑے کی لی اپنے جہاں تو نے باگسامنے ہے تیرے گیا اور پراگعزم کو جب دیتی ہے تو میل جستگنبد گردوں نظر آتا ہے پستتو نے دیا آ کے ابھارا جہاںسمجھے کہ مٹھی میں ہے سارا جہاںذرے کو خورشید میں دے کھپابندے کو اللہ سے دے تو ملادونوں جہاں کی ہے بندھی تجھ سے لڑدین کی تو اصل ہے دنیا کی جڑنیکیوں کی تجھ سے ہے قائم اساستو نہ ہو تو جائیں نہ نیکی کے پاسدین کی تجھ بن کہیں پرسش نہ ہوتو نہ ہو تو حق کی پرستش نہ ہوخشک تھا بن تیرے درخت عملتو نے لگائے ہیں یہ سب پھول پھلدل کو لبھاتی ہے کبھی بن کے حورگاہ دکھاتی ہے شراب طہورنام ہے سدرہ کبھی طوبیٰ تراروز نرالا ہے تماشا تراکوثر و تسنیم ہے یا سلسبیلجلوے ہیں سب تیرے یہ بے قال و قیلروپ ہیں ہر پنتھ میں تیرے الگہے کہیں فردوس کہیں ہے سورگچھوٹ گئے سارے قریب اور بعیدایک نہ چھوٹی تو نہ چھوٹی امیدتیرے ہی دم سے کٹے جو دن تھے سختتیرے ہی صدقے سے ملا تاج و تختخاکیوں کی تجھ سے ہے ہمت بلندتو نہ ہو تو کام ہوں دنیا کے بندتجھ سے ہی آباد ہے کون و مکاںتو نہ ہو تو ہے بھی برہم جہاںکوئی پڑتا پھرتا ہے بہر معاشہے کوئی اکسیر کو کرتا تلاشاک تمنا میں ہے اولاد کیایک کو دل دار کی ہے لو لگیایک کو ہے دھن جو کچھ ہاتھ آئےدھوم سے اولاد کی شادی رچائےایک کو کچھ آج اگر مل گیاکل کی ہے یہ فکر کہ کھائیں گے کیاقوم کی بہبود کا بھوکا ہے ایکجن میں ہو ان کے لیے انجام نیکایک کو ہے تشنگیٔ قرب حقجس نے کیا دل سے جگر تک ہے شقجو ہے غرض اس کی نئی جستجولاکھ اگر دل ہیں تو لاکھ آرزوتجھ سے ہیں دل سب کے مگر باغ باغگل کوئی ہونے نہیں پاتا چراغسب یہ سمجھتے ہیں کہ پائی مرادکہتی ہے جب تو کہ اب آئی مرادوعدہ ترا راست ہو یا ہو دروغتو نے دیے ہیں اسے کیا کیا فروغوعدے وفا کرتی ہے گو چند تورکھتی ہے ہر ایک کو خورسند توبھاتی ہے سب کو تری لیت و لعلتو نے کہاں سیکھی ہے یہ آج کلتلخ کو تو چاہے تو شیریں کرےبزم عزا کو طرب آگیں کرےآنے نہ دے رنج کو مفلس کے پاسرکھے غنی اس کو رہے جس کے پاسیاس کا پاتی ہے جو تو کچھ لگاؤسیکڑوں کرتی ہے اتار اور چڑھاؤآنے نہیں دیتی دلوں پر ہراسٹوٹنے دیتی نہیں طالب کی آسجن کو میسر نہ ہو کملی پھٹیخوش ہیں توقع پہ وہ زر بفت کیچٹنی سے روٹی کا ہے جن کی بناؤبیٹھے پکاتے ہیں خیالی پلاؤپاؤں میں جوتی نہیں پر ہے یہ ذوقگھوڑا جو سبزہ ہو تو نیلا ہو طوقفیض کے کھولے ہیں جہاں تو نے بابدیکھتے ہیں جھونپڑے محلوں کے خوابتیرے کرشمے ہیں غضب دل فریبدل میں نہیں چھوڑتے صبر و شکیبتجھ سے مہوس نے جو شوریٰ لیاپھونک دیا کان میں کیا جانے کیادل سے بھلایا زن و فرزند کولگ گیا گھن نخل برومند کوکھانے سے پینے سے ہوا سرد جیایسی کچھ اکسیر کی ہے لو لگیدین کی ہے فکر نہ دنیا سے کامدھن ہے یہی رات دن اور صبح شامدھونکنی ہے بیٹھ کے جب دھونکناشہہ کو سمجھتا ہے اک ادنیٰ گداپیسے کو جب تاؤ پہ دیتا ہے تاؤپوچھتا یاروں سے ہے سونے کا بھاؤکہتا ہے جب ہنستے ہیں سب دیکھ کررہ گئی اک آنچ کی باقی کسرہے اسی دھند میں وہ آسودہ حالتو نے دیا عقل پہ پردہ سا ڈالتول کر گر دیکھیے اس کی خوشیکوئی خوشی اس کو نہ پہنچے کبھیپھرتے ہیں محتاج کئی تیرہ بختجن کے پیروں میں تھا کبھی تاج و تختآج جو برتن ہیں تو کل گھر کروملتی ہے مشکل سے انہیں نان جوتیرے سوا خاک نہیں ان کے پاسساری خدائی میں ہے لے دے کے آسپھولے سماتے نہیں اس آس پرصاحب عالم انہیں کہیے اگرکھاتے ہیں اس آس پہ قسمیں عجیبجھوٹے کو ہو تخت نہ یارب نصیبہوتا ہے نومیدیوں کا جب ہجومآتی ہے حسرت کی گھٹا جھوم جھوملگتی ہے ہمت کی کمر ٹوٹنےحوصلہ کا لگتا ہے جی چھوٹنےہوتی ہے بے صبری و طاقت میں جنگعرصۂ عالم نظر آتا ہے تنگجی میں یہ آتا ہے کہ سم کھائیےپھاڑ کے یا کپڑے نکل جائیےبیٹھنے لگتا ہے دل آوے کی طرحیاس ڈراتی ہے چھلاوے کی طرحہوتا ہے شکوہ کبھی تقدیر کااڑتا ہے خاکہ کبھی تدبیر کاٹھنتی ہے گردوں سے لڑائی کبھیہوتی ہے قسمت کی ہنسائی کبھیجاتا ہے قابو سے آخر دل نکلکرتی ہے ان مشکلوں کو تو ہی حلکان میں پہنچی تری آہٹ جو ہیںرخت سفر یاس نے باندھا وہیںساتھ گئی یاس کے پژمردگیہو گئی کافور سب افسردگیتجھ میں چھپا راحت جاں کا ہے بھیدچھوڑیو حالیؔ کا نہ ساتھ اے امید
اک اشارے سے دیوار دل کی دراڑوں میں تو نے جو روشن کیے تھے چراغان کے بجھنے کا دکھ ایک جیسا ہے دونوں طرفآج بھی یاد ہے دور سے تیری آواز کانوں میں پڑتی تو کچھ بھی سنائی نہ دیتاکاش تو اپنے زنداں سے مجھ کو رہائی نہ دیتاکون بیتے ہوئے خواب پر خاک ڈالےکون اتنی غلط فہمیوں کا ازالہ کرےکس سے پوچھیں وبا اور وفا میں بنائے ہوئے بے تکلف تعلقکی عمریں اگر مختصر ہیں تو کیوں ہیںکون بھولے اماوس کی راتوں سی زلفوں کی رعنائیاںکون دل سے حیا دار آنکھوں کی یادیں مٹا دےدوست کس کو مفر ہے یہاں بے یقینی کے سیل بلا سےدوست کشتی سنبھالی نہیں جا رہی اب ترے نا خدا سےمیں نے تیری رفاقت میں جتنی گزاری مرے ساتھ تیرے دلاسے کی برسات اور تیرے بولے ہوئے لفظ کی ہر تسلی ہمیشہ رہی ہےمیں نے تاریک رہداریوں میں کبھی تیری آنکھوں کی کرنوں کی بے فیضگی کا گلہ کر لیامونس جان ایسا بھی کیا کر لیاغم تو تب تھا کہ میں تیرے جانے کا غم بھی نہ کرتامیرے دن میری راتیں ترے سامنے ہیںبتا ہاتھ کب تھامنے ہیں
تمہیں جب دیکھتا ہوںتو مری آنکھوں پہ رنگوں کی پھواریں پڑنے لگتی ہیںتمہیں سنتا ہوںتو مجھ کو قدیمی مندروں سے گھنٹیوں اور مسجدوں سے ورد کی آواز آتی ہےتمہارا نام لیتا ہوںتو صدیوں قبل کے لاکھوں صحیفوں کے مقدس لفظ میرا ساتھ دیتے ہیںتمہیں چھو لوںتو دنیا بھر کے ریشم کا ملائم پن مری پوروں کو آ کر گدگداتا ہےتمہیں گر چوم لوںتو میرے ہونٹوں پر الوہی آسمانی نا چشیدہ ذائقے یوں پھیل جاتے ہیںکہ اس کے بعد مجھ کو شہد بھی پھیکا سا لگتا ہےتمہیں جب یاد کرتا ہوںتو ہر ہر یاد کے صدقے میں اشکوں کے پرندے چوم کر آزاد کرتا ہوںتمہیں ہنستی ہوئی سن لوںتو ساتوں سر سماعت میں سما کر رقص کرتے ہیںکبھی تم روٹھتی ہوتو مری سانسیں اٹکنے اور دھڑکن تھمنے لگتی ہے
چھا گئی برسات کی پہلی گھٹا اب کیا کروںخوف تھا جس کا وہ آ پہنچی بلا اب کیا کروںہجر کو بہلا چلی تھی گرم موسم کی سمومناگہاں چلنے لگی ٹھنڈی ہوا اب کیا کروںآنکھ اٹھی ہی تھی کہ ابر لالہ گوں کی چھاؤں میںدرد سے کہنے لگا کچھ جھٹپٹا اب کیا کروںاشک ابھی تھمنے نہ پائے تھے کہ بیدردی کے ساتھبوندیوں سے بوستاں بجنے لگا اب کیا کروںزخم اب بھرنے نہ پائے تھے کہ بادل چرخ پرآ گیا انگڑائیاں لیتا ہوا اب کیا کروںآ چکی تھی نیند سی غم کو کہ موسم ناگہاںبحر و بر میں کروٹیں لینے لگا اب کیا کروںچرخ کی بے رنگیوں سے سست تھی رفتار غمیک بیک ہر ذرہ گلشن بن گیا اب کیا کروںقفل باب شوق تھیں ماحول کی خاموشیاںدفعتاً کافر پپیہا بول اٹھا اب کیا کروںہجر کا سینے میں کچھ کم ہو چلا تھا پیچ و تاببال بکھرانے لگی کالی گھٹا اب کیا کروںآنکھ جھپکانے لگی تھی دل میں یاد لحن یادمور کی آنے لگی بن سے صدا اب کیا کروںگھٹ چلا تھا غم کی رنگیں بدلیوں کی آڑ سےان کا چہرہ سامنے آنے لگا اب کیا کروںآ رہی ہیں ابر سے ان کی صدائیں جوشؔ جوشؔاے خدا اب کیا کروں بار خدا اب کیا کروں
چیل کوؤں سے بد تر وہ گدھ ٹھہرے تممیری سانسوں کے تھمنے کے مشتاق ہومیرے قدموں کی آہٹ پہ حیران ہومیری آہٹ سنو آج زندہ ہوں میں
یہ لوگ وہ ہیں کہ جن کے یادوں کے کینوس پروصال موسم کی ایک مبہم لکیر بھی تو نہیں بنی ہےپہ میری یادوں کے ہاتھ میں توتمہاری پوروں کا لمس اب تک گلاب بن کر مہک رہا ہےمجھے یقیں ہےکہ جب بھی چاہوںتمہارے بے حد حسین ہاتھوں کو تھامنے کا ہر ایک لمحہمرے خیالوں کے دائرے سے نکل کے مجھ کووصال موسم کی خوشبوؤں میں محیط کر دےمجھے یقیں ہےمیں زندگی کی یہ سب مسافتکڑی مسافتتمہاری یادوں کی خوشبوؤں میں بھی کاٹ سکتا ہوں کاٹ لوں گا
اس ساعت خوں آشام سے تھیوہ ساری رونق منظر کیاس ساعت دل آزار سے ہےاک زرد اداس سی خاموشیاس منظر سے اس منظر تکاک منظر تھا اب وہ بھی نہیںاک کٹنے والی گردن تھیاک خنجر تھا اب وہ بھی نہیںاب وہ بھی نہیں جو دیکھتے ہوںیہ جیت ہوئی یا ہار ہوئیاب وہ بھی نہیں جو کہتے ہوںیہ زیست ہمیں آزار ہوئیاب وہ بھی نہیں جو لکھتے ہوںاحوال جسے تاریخ کہیںاب یہ بھی نہیں کہ یہ لاشےمٹی میں ملیں گلزار بنیںاب انساں کھیت نہ حیواں ہیںگھر مدرسے دفتر اور نہ ملیںانگشت کی اک جنبش سے کہیںمیزائل داغا جا بھی چکااک جوہری رقص کے تھمنے تکجو دور حیات تھا جا بھی چکااس زیست کے بندی خانے سےہم مثل اجل آزاد ہوئےیہ کیسے ملک بسائے تھےاک لمحے میں برباد ہوئےہے آخری منظر تاراجیہوں جس کا ایک حوالہ میںیہ منظر کیسا منظر ہےجسے تنہا دیکھنے والا میںاب اس صف میں بھی کوئی نہیںاب اس صف میں بھی کوئی نہیںمیں تنہا بیٹھا سوچتا ہوںکچھ جینے کا امکان تو ہوآ بیٹھے پاس جو دشمن کےدشمن ہی سہی انسان تو ہو
سورج کے نیچے جھرناہمہمہ نہ تھمنے والاروشن پانی کابوچھار کا شور ہوا میںاڑتی ہوئی جگ مگ ٹھنڈیسیمابی چھلکی چھلکیسورج کے نیچے جھرناکرنوں کے لیے آئینہ
اب شور تھما تو میں نے جاناآدھی کے قریب رو چکی ہے
وقت کی انگلی پکڑے پکڑےصدیوں کا پل پار کیا ہےجانے کیوں اب یہ لگتا ہےجیسے مری انگلی خالی ہےجیسے اب کاندھے ویراں ہیںان پر اب کوئی ہاتھ نہیں ہےپل بھر بھی کوئی ساتھ نہیں ہےپل تنہا ہےپل ہے یا سناٹے کی ویران سدا ہےانگلی تھامنے والا ہاتھ بھی گم سا گیا ہےوقت گزرنے سے پہلے ہی تھم سا گیا ہے
تمہیں احساس بھی شاید نہ ہو اب تککہ تم کو تھامنے کی فکر میںمیرے قدم بھی لڑکھڑائے تھے
باجا کبھی نہ تھمنے والاشیون سوکھی پھلیوں کاگرد آلود ہوا کے جھکڑاتنی اتھل پتھل جاریسناٹا پھر بھی سناٹااک کھنچی کمانوہ کب ٹوٹا کب پھوٹا
کس کے لب پہ اچانک نظر ٹک گئیٹھہرے ٹھہرے قدم کیوں لگے بھاگنے
کچھ انتظار اور کرو صبر ناگوار اور کروکچھ اپنے سروں کو قلم گریباں کو چاک اور کرواپنے اندر کی گرمیٔ خوں سنبھال کر رکھواندھیروں میں سخت پہروں میں ذرا یہ جور اور سہوفضا پلٹنے میں جور تھمنے میں وقت ہے شاید
بارشوں کے تھمنے سےخواہشیں مچلتی ہیںسرد سرد موسم میںگھر سے کم نکلتے ہیںبے امان لوگوں کیمنزلیں نہیں ہوتیںراستے دکھانے کوراہبر نہیں ہوتےمفلسی کے جنگل میںکون ساتھ دیتا ہے
وقت کی انگلی پکڑے پکڑےصدیوں کا پل پار کیا ہےجانے کیوں اب یہ لگتا ہےجیسے مری انگلی خالی ہےجیسے اب کاندھے ویراں ہیںان پر اب کوئی ہاتھ نہیں ہےپل بھر بھی کوئی ساتھ نہیں ہےپل تنہا ہےپل ہے یا سناٹے کی ویران سرا ہےانگلی تھامنے والا ہاتھ بھی گم سا گیا ہےوقت گزرنے سے پہلے ہی تھم سا گیا ہے
ہے شاید دل مرا بے زخم اور لب پر نہیں چھالےمرے سینے میں کب سوزندہ تر داغوں کے ہیں تھالےمگر دوزخ پگھل جائے جو میرے سانس اپنا لےتم اپنی مام کے بے حد مرادی منتوں والےمرے کچھ بھی نہیں کچھ بھی نہیں کچھ بھی نہیں بالےمگر پہلے کبھی تم سے مرا کچھ سلسلہ تو تھاگماں میں میرے شاید اک کوئی غنچہ کھلا تو تھاوہ میری جاودانہ بے دوئی کا اک صلہ تو تھاسو اس کو ایک ابو نام کا گھوڑا ملا تو تھا
گر مجھے اس کا یقیں ہو مرے ہمدم مرے دوستگر مجھے اس کا یقیں ہو کہ ترے دل کی تھکنتری آنکھوں کی اداسی تیرے سینے کی جلنمیری دل جوئی مرے پیار سے مٹ جائے گیگر مرا حرف تسلی وہ دوا ہو جس سےجی اٹھے پھر ترا اجڑا ہوا بے نور دماغتیری پیشانی سے ڈھل جائیں یہ تذلیل کے داغتیری بیمار جوانی کو شفا ہو جائےگر مجھے اس کا یقیں ہو مرے ہمدم مرے دوستروز و شب شام و سحر میں تجھے بہلاتا رہوںمیں تجھے گیت سناتا رہوں ہلکے شیریںآبشاروں کے بہاروں کے چمن زاروں کے گیتآمد صبح کے، مہتاب کے، سیاروں کے گیتتجھ سے میں حسن و محبت کی حکایات کہوںکیسے مغرور حسیناؤں کے برفاب سے جسمگرم ہاتھوں کی حرارت میں پگھل جاتے ہیںکیسے اک چہرے کے ٹھہرے ہوئے مانوس نقوشدیکھتے دیکھتے یک لخت بدل جاتے ہیںکس طرح عارض محبوب کا شفاف بلوریک بیک بادۂ احمر سے دہک جاتا ہےکیسے گلچیں کے لیے جھکتی ہے خود شاخ گلابکس طرح رات کا ایوان مہک جاتا ہےیونہی گاتا رہوں گاتا رہوں تیری خاطرگیت بنتا رہوں بیٹھا رہوں تیری خاطرپر مرے گیت ترے دکھ کا مداوا ہی نہیںنغمہ جراح نہیں مونس و غم خوار سہیگیت نشتر تو نہیں مرہم آزار سہیتیرے آزار کا چارہ نہیں نشتر کے سوااور یہ سفاک مسیحا مرے قبضے میں نہیںاس جہاں کے کسی ذی روح کے قبضے میں نہیںہاں مگر تیرے سوا تیرے سوا تیرے سوا
کبھی کبھی میں یہ سوچتا ہوںکہ چلتی گاڑی سے پیڑ دیکھوتو ایسا لگتا ہےدوسری سمت جا رہے ہیںمگر حقیقت میںپیڑ اپنی جگہ کھڑے ہیںتو کیا یہ ممکن ہےساری صدیاںقطار اندر قطار اپنی جگہ کھڑی ہوںیہ وقت ساکت ہواور ہم ہی گزر رہے ہوںاس ایک لمحے میںسارے لمحےتمام صدیاں چھپی ہوئی ہوںنہ کوئی آئندہنہ گزشتہجو ہو چکا ہےجو ہو رہا ہےجو ہونے والا ہےہو رہا ہےمیں سوچتا ہوںکہ کیا یہ ممکن ہےسچ یہ ہوکہ سفر میں ہم ہیںگزرتے ہم ہیںجسے سمجھتے ہیں ہمگزرتا ہےوہ تھما ہےگزرتا ہے یا تھما ہوا ہےاکائی ہے یا بٹا ہوا ہےہے منجمدیا پگھل رہا ہےکسے خبر ہےکسے پتا ہےیہ وقت کیا ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books