aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "tuk"
ٹک حرص و ہوا کو چھوڑ میاں مت دیس بدیس پھرے ماراقزاق اجل کا لوٹے ہے دن رات بجا کر نقاراکیا بدھیا بھینسا بیل شتر کیا گونیں پلا سر بھاراکیا گیہوں چانول موٹھ مٹر کیا آگ دھواں اور انگاراسب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا
بولیں بئے بٹیریں قمری پکارے کو کوپی پی کرے پپیہا بگلے پکاریں تو توکیا حدحدوں کی حق حق کیا فاختوں کی ہو ہوسب رٹ رہے ہیں تجھ کو کیا پنکھ کیا پکھیروکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی ماریں
عیاں ہے اب تو راکھی بھی چمن بھی گل بھی شبنم بھیجھمک جاتا ہے موتی اور جھلک جاتا ہے ریشم بھیتماشا ہے اہا ہا ہا غنیمت ہے یہ عالم بھیاٹھانا ہاتھ پیارے واہ وا ٹک دیکھ لیں ہم بھیتمہاری موتیوں کی اور زری کے تار کی راکھی
ملنے کا ترے رکھتے ہیں ہم دھیان ادھر دیکھبھاتی ہے بہت ہم کو تری آن ادھر دیکھہم چاہنے والے ہیں ترے جان ادھر دیکھہولی ہے صنم ہنس کے تو اک آن ادھر دیکھاے رنگ بھرے نو گل خنداں ادھر دیکھ
یہ روپ دکھا کر ہولی کے جب مین رسیلے ٹک مٹکےمنگوائے تھال گلالوں کے بھر ڈالے رنگوں سے مٹکےپھر سانگ بہت تیار ہوئے اور ٹھاٹھ خوشی کے جھر مٹکےغل شور ہوئے خوشحالی کے اور ناچنے گانے کے کھٹکےمردنگیں باجیں تال بجے کچھ کھنک کھنک کچھ دھنک دھنک
اس قوم کی فلاح ہے جام و سبو کے بیچتم انتخاب جا کے لڑو ہاؤ ہو کے بیچدشنام اور بلووں کے اور دو بہ دو کے بیچجیسے کہ کوئی بیٹھا ہو بزم عدو کے بیچ''مستی سے درہمی ہے مری گفتگو کے بیچ''''جو چاہو تم بھی مجھ کو کہو میں نشے میں ہوں''
نہ پوچھ اے ہم نشیں کالج میں آ کر ہم نے کیا دیکھازمیں بدلی ہوئی دیکھی فلک بدلا ہوا دیکھانہ وہ پہلی سی محفل ہے نہ مینا ہے نہ ساقی ہےکتب خانے میں لیکن اب تلک تلوار باقی ہےوہی تلوار جو بابر کے وقتوں کی نشانی ہےوہی مرحوم بابر یاد جس کی غیر فانی ہےزمیں پر لیکچرر کچھ تیرتے پھرتے نظر آئےاور ان کی ''گاؤن'' سے کندھوں پہ دو شہ پر نظر آئےمگر ان میں مرے استاد دیرینہ بہت کم تھےجو دو اک تھے بھی وہ مصروف صد افکار پیہم تھےوہ زینے ہی میں ٹکرانے کی حسرت رہ گئی دل میںسنا ون وے ٹریفک ہو گئی اوپر کی منزل میںاگرچہ آج کل کالج میں واقف ہیں ہمارے کمہمیں دیوار و در پہچانتے ہیں اور ان کو ہمبلندی پر الگ سب سے کھڑا ''ٹاور' یہ کہتا ہےبدلتا ہے زمانہ میرا انداز ایک رہتا ہےفنا تعلیم درس بے خودی ہوں اس زمانے سےکہ مجنوں لام الف لکھتا تھا دیوار دبستاں پرمگر ''ٹاور'' کی ساعت کے بھی بازو خوب چلتے ہیںکبوتر بیٹھ کر سوئیوں پہ وقت اس کا بدلتے ہیںاسی مالک کو پھر حلوے کی دعوت پر بلاتے ہیںوہ حلوہ خوب کھاتے ہیں اسے بھی کچھ کھلاتے ہیںاگر وہ یہ کہے اس میں تو زہریلی دوائی ہےمرا دل جانتا ہے اس میں انڈے کی مٹھائی ہےپھر اس کے بعد بہر خودکشی تیار ہوتے ہیںوہ حلوہ بیچ میں اور گرد اس کے یار ہوتے ہیںوہ پوچھے گر کہاں سے کس طرح آیا ہے یہ حلوہتو ڈبہ پیش کر کے کہہ دیا اس کا ہے سب جلوہکسی کنجوس کے کمرے میں جا کر بیٹھ جاتے ہیںاور اس کے نام پر ٹک شاپ سے چیزیں منگاتے ہیںبچارہ جعفریؔ مدت کے بعد آیا ہے کالج میںاضافہ چاہتا ہے اپنی انگریزی کی نالج میںترے سینے پہ جب یاران خوش آئیں کی محفل ہوتو اے 'اوول' اسے مت بھول جانا وہ بھی شامل ہو
بھوری آنکھوں والی لڑکیتجھ سے پہلے میرے پاس بھی آتی تھیاپنے گھر کی اک اک بات سناتی تھیمہندی اور وسمے سے عاری کالے بالوں والی امیجلتے چراغوں جیسے آنکھوں والی بہنوںان کے سنگتروں کی پھانکوں جیسے ہونٹوںدودھ کے پیالوں جیسے اجلے گالوںروشن جسموںسرو قدوں کے قصے سنایا کرتی تھیمیرے گھر میں وہ خورشید کی صورت روز ابھرتی تھیمجھ سے میری نظمیں گیت اور غزلیں سنتی رہتی تھیسوئیٹر بنتی رہتی تھیاکثر میری غزلیں گا کر مجھے سنایا کرتی تھیچھایا کی رسیا تھی وہ اور چھایا رچایا کرتی تھیٹک ٹک دیکھا کرتی تھیٹھنڈی آہیں بھرتی تھیایسا ظاہر کرتی تھیجیسے مجھ پر مرتی تھی
یوں تو ہر شاعر کی فطرت میں ہے کچھ دیوانگیغیر ذمہ داریاں ہیں اس کی جزو زندگیارض شعرستان میں یہ شاعرانہ خاصیتکینسر کی طرح سے جب پھیلنے بڑھنے لگیمختلف اسکول جب جنگی اکھاڑے بن گئےفکر و فن میں جب نراجی کیفیت پیدا ہوئیمملکت میں ضابطہ کوئی نہ جب باقی رہاہر جگہ قانون کی ہونے لگی بے حرمتیایک اک تک بند استادوں کے منہ آنے لگالکھ کے صبح و شام نظمیں بے تکی سے بے تکیکوڑے کرکٹ کی طرح ہر سو نظر آنے لگیںڈھیریاں ہی ڈھیریاں دیوان خاص و عام کیحد تو یہ ہے اہل مچھلی شہر بھی کرنے لگےماہی گیری چھوڑ کر دن رات فکر شاعریجن سے بحران غذا اسٹیٹ میں پیدا ہواقحط ماہی سے بڑھی ہر چار جانب بھک مریچند قومی درد رکھنے والے اہل الرائے سےقوم کی نا گفتہ بہ حالت نہ جب دیکھی گئیایک دستور العمل تیار کرنے کے لیےاک کمیٹی امنؔ صاحب کی صدارت میں بنیتاکہ اس پر چل کے نظم و ضبط آئے قوم میںتاکہ کچھ تو معتدل ہو شاعروں کی زندگیدوسرے کاموں میں بھی قومی انرجی صرف ہوتک فروشی کے علاوہ بھی تو مقصد ہو کوئیدور افلاطونؔ و تلسیؔ داس سے اقبالؔ تکہسٹری کل شاعروں کی اس کمیٹی نے پڑھیدوسرے ملکوں کے آئین و ضوابط میں جہاںجو مناسب بات تھی وہ چھانٹ کر رکھ لی گئیرات دن کی سخت محنت اور جاں سوزی کے بعداس کمیٹی نے رپورٹ اپنی بالآخر پیش کیخاکۂ دستور قومی یعنی وہ شعری رپورٹامنؔ صاحب نے رقم کی تھی بہ صنف مثنویاس پہ رائے عامہ معلوم کرنے کے لیےشاعروں کو نقل دستاویز کی بھیجی گئیمختلف اہل سخن نے اپنے اپنے طور پررائے دی دستور میں ترمیم یا تنسیخ کیمثنوی میں خامیاں ڈھونڈیں زباں کی جا بہ جاایک شاعر نے جو تھے شاگرد نوح نارویسیکڑوں مصرعے بدل کر رکھ دیے کچھ اس طرحنفس مضموں نذر ہو کر رہ گیا اصلاح کیان کا کہنا تھا کہ بندش چست ہونی چاہیےشعر کے اندر بلا سے ہو نہ فکری تازگینعت گو حضرات کا کہنا تھا شاعر کے لیےشرط اول ہے کہ ہو جائے وہ کٹر مذہبیعاقبت کی بات سوچے اور مناجاتیں لکھےاس کے جن میں کار آمد شاعری ہے بس وہیایسے شاعر جو کہ حامی تھے ترقی واد کےان کا کہنا تھا کہ شاعر کا سخن ہو مقصدییعنی پہلے سے مقرر کردہ موضوعات پرمملکت میں عام کی جائے شعوری شاعریخواہ شعرستان میں اس کا نہ ہو کوئی وجودلازماً دکھلائی جائے کشمکش طبقات کیاک قبیلہ جو مخالف تھا شعوری فکر کاتھا ترقی وادیوں سے جس کو بغض للہیاس قبیلے کا یہ کہنا تھا کہ شاعر کا کلاملازماً ہو اک معمہ قید معنی سے بریجس کو شاعر خود نہ سمجھے نظم کر لینے کے بعدجس کو پڑھ کر گم ہو عقل مولویٔ معنویدیکھ کر دستور میں نظم و نسق کا تذکرہسخت برہم ہو گئے کل شاعران نکسلیان کا نکتہ تھا کہ شاعر فطرتاً آزاد ہےاس پہ لگ سکتی نہیں پابندیاں تنظیم کیزندگی میں ضابطہ لانے کے بالکل تھے خلافساتھ نکسل وادیوں کے دوسرے حضرات بھیمختصر یہ ہے کہ سب نے رد کیا دستور کوساری محنت امنؔ صاحب کی اکارت ہو گئیدیکھ کر نا عاقبت اندیشئ اہل سخناس طرح گویا ہوئی ان کی مہذب خامشیمینڈکوں کو تولنا آساں نہیں ہے جس طرحشاعروں کو بھی منظم کرنا مشکل ہے یوں ہی
کبھی اپنے آپ سے باہر آٹک بیٹھ ہمارے ساتھچل دکھ دریا کے پار چلیںلا ہاتھ میں دے دے ہاتھہم اپنا ہونا تیاگ کےترے ہونے پر تیارکبھی فرصت سے مل یار
اس خاموش قلعے کیسخت لوہے سی دیواریںہر طرف سفید غمگین پردہوہ اپنی عالی شان کرسی پر بیٹھیکوئی حساب جوڑ رہی ہےاس کا پھیکا سپاٹ بوجھل چہرہجیسے بھیتر کا ایک روپاس کے اوپری روپ رنگ کو کھا چکا ہواچانک دروازے کی دستکدبی ہوئی سسکیوں کا شوراونچے دروازے کو کھولتے ہیاس کی بھاؤ ویہین آنکھوں میںسنویدناؤں کی ہلچل ہو اٹھتی ہےصبح کی اوس نرم دھوپ میںنازک کوپل سا ایک بچہاپنی چیخ کو گلے میں ٹھوس کراس کی طرف قلعے کی طرفدوڑا آ رہا تھاابھی گلے لگا کر رو پڑے گا جیسےوہ ایک ٹک اسے دیکھتی رہتی ہےمگر گلے نہیں لگا پاتی وہاس کا ہردے کہتا ہے کہ بھیج دے اسےواپس اس کے گھر جہاںاس کا انتظار ہو رہا ہوگااس تیور اچھا کے ساتھبرسوں سے نرلپ رہی اس کی آنکھوں میںدبی ہوئی بھاونائیں گتی مان ہو کر بہنے لگتی ہےہے ایشور وہ آنکھیں موند لیتی ہےمیز پر رکھی حسابوں والی کتاب دکھائی دیتی ہےاور نو پلوت پودے کینازک ڈالی جیسی انگلیاں تھام کروہ اسے قلعے کے بھیتر لے آتی ہےتوتینگ دروازہ کرکش آواز کے ساتھبند ہو جاتا ہےوہ بلکھتے ہوئے بچہ کو آغوش میں لے لیتی ہےخاموش کمرے میں اوس معصوم کیدھڑکنے سانسیں سسکیوں کا شورتیز ہو اٹھتا ہےوہ کس کے اس بچہ کواپنے بھیتر سمیٹ کر گہری نیند سلا دیتی ہےجب کوئی شور باقی نہیں رہتا تباس کے بھیتر کا رودن باہر آنے کو تڑپتا ہےمگر اس کے ادھ مرے من مستشکاسے یاد دلاتے ہے کہموت ماتم نہیں منا سکتیکاش مجھے بھی حق ہوتادروازے پہ آئے کو واپس بھیجنے کاکاشبھاری قدموں پہ اٹھ کر وہاس کتاب میں کچھ جوڑ دیتی ہےدن کا اجالا سوریہ کا تیجلججت ہو کر سر جھکا لیتے ہےہوا بھی چھوبھت ہو کر نیلی پڑ جاتی ہےساری سرشٹی اندھ کار کی گرت میں ڈوبنے لگتی ہے
میں نے اپنے لکھنے پڑھنے کے کمرے میںقلم بنا اک نظم لکھی ہےنظم کو میں نےکچھ ایسے ترتیب دیا ہےسب سے پہلے ٹک ٹک کرتیایک گھڑی ہےپھر ہے کلنڈراس کے بعد ہےپیتل کی اک شمع دانی عیش ٹرےپھر بیجنگ شام اور سنگاپور کیچینی اور تانبے کی پلیٹیںپھر تھوڑی سی جگہ بنا کےشیشے کا گلدان رکھا ہےاس سے آگےمصوری اور تھیٹر پردو تین کتابیںوہیں پہ ترچھی کر کے رکھیقلقل کرتی ایک صراحیسب کے بیچ میں ننھا سااک جوکر بھی ہےیہ میری وہ پہلی نظم ہےجس میں کوئی لفظ نہیں ہےبس پیکر ہیںمیری پہلی نظم ہےجو قاری اور سامعدونوں سے آزاد ہوئی ہےآنکھوں کی ہم راز ہوئی ہے
بولیں غصہ ہو کر باجیگھر میں کیا تک ہے کرکٹ کیعدنان ایمن ثمرہ فیضیباہر جا کر کھیلو نا
دیدے لک لککرتے ٹک ٹکلعل جواہر تتلی ہے
دور کہیں دریا کے کنارےرہتے تھے دو دوست پیارےایک تھا کوا ایک کبوترکھاتے پیتے تھے وہ مل کراک دن ان کی شامت آئیدونوں میں ہوئی خوب لڑائیپہلے اپنے منہ کو کھولاپھر غصے سے کبوتر بولاکوے ہوتے ہیں کنجوسکالے بھدے اور منحوسکاں کاں شور مچاتے ہیںسارا دن سر کھاتے ہیںشور سے میں تو ڈرتا ہوںاور بس گوں گوں کرتا ہوںمجھ کو اپنے حسن پہ نازاونچی ہے میری پروازکالے ہو کلوٹے ہوتم تو بھینس کے کٹے ہوبات یہ سن کر کوا بولاتو نے میری ذات کو تولالے اب میری باری ہےجانتی دنیا ساری ہےتو بزدل ہے اور ڈرپوکبات کہوں گا میں دو ٹوکجب کوئی بلی آتی ہےجاں تیری تب جاتی ہےکانپتا ہے تھراتا ہےڈر کر ہی مر جاتا ہےلوگوں کا یہ کہنا ہےکوا بہت سیانا ہےاتنے میں اک لومڑ آیاپیڑ کے نیچے آ کر بولالڑتے ہو کچھ شرم کرولہجے اپنے نرم کرواللہ اللہ کیا کرواس کا نام ہی لیا کرومیں تم کو سمجھاتا ہوںپھر سے دوست بناتا ہوںجلدی سے تم نیچے آؤآ کر مجھ سے ہاتھ ملاؤدونوں پیڑ سے نیچے آئےلڑنے سے پر باز نہ آئےموت تھی ان کے سر پر آئیلومڑ نے اک جست لگائیگردن سے دونوں کو پکڑااور اپنے پنجوں میں جکڑادعوت اس نے خوب اڑائیاپنے پیٹ کی آگ بجھائیباری باری ان کو کھایادونوں کو اک سبق سکھایالڑنا بچو کام برا ہےلڑنے کا انجام برا ہے
جب تک ادب برائے ادب کا رہا خیالادبار و مفلسی سے رہے ہم شکستہ حالسائے کی طرح ساتھ نحوست لگی رہیاک روگ بن کے جان سے عسرت لگی رہیگو شاعری کا رنگ نکھرتا چلا گیاشیرازۂ معاش بکھرتا چلا گیالیکن خدا بھلا کرے اک مہربان کاجن کو ادب برائے شکم کا ہے تجربہموصوف نے بتائی ہمیں وہ پتے کی باتاب دن ہے روز عید تو شب ہے شب براتآل انڈیا مشاعرہ مجلس کے نام سےکھولا ہے اک ادارۂ نو دھوم دھام سےکرتے ہیں شاعری کے عوض اب مشاعرہاس روزگار سے ہے ہمیں خوب فائدہہر تین چار ماہ کے وقفے پہ بے خللاپنے پروگرام پہ کرتے ہیں ہم عملیعنی مشاعرے کا چلاتے ہیں کاروبارچھپوا کے روز ناموں میں جھوٹا یہ اشتہارجوشؔ و فراقؔ و ساحرؔ او پرویزؔ شاہدیفیضؔ و خلیلؔ و جذبیؔ او مخدومؔ و جعفریؔکرسی و عرش و لوح و قلم سب ہی آئیں گےتازہ کلام اپنی زباں سے سنائیں گےاس اشتہار میں وہ کشش ہے کہ اہل ذوقلیتے ہیں داخلے کا ٹکٹ دوڑ کر بہ شوقسرکس میں جس طرح سے ہو خلقت کا اژدہامیوں ہی مشاعرے میں پہنچتے ہیں خاص و عامسب لوگ بیٹھ جاتے ہیں فرش زمیں پہ جبمائک پہ جا کے کرتے ہیں اعلان ہم یہ تبافسوس ہے کہ آ نہ سکے جوشؔ اور فراقؔیہ ماسکو روانہ ہوئے وہ گئے عراقجذبیؔ کو اختلاج ہے پرویزؔ ہیں علیلگاڑی ذرا سی چوک سے مس کر گئے خلیلؔبھیجی ہے فیضؔ و ساحرؔ و مخدومؔ نے خبرسیٹ ان کو مل سکی نہ ہوائی جہاز پرگو یہ خبر دلوں کو گزرتی ہے ناگوارہونا ہے جلسہ گاہ میں تھوڑا سا انتشارلے کر مگر ذہانت فطری سے کام ہمدم بھر میں سامعین کو کرتے ہیں رام ہمڈائس پہ تک فروشوں کا رہتا ہے اک ہجومفلمی دھنوں میں گانے کی جن کے بڑی ہے دھومجو خود ٹکٹ خرید کے آتے ہیں بزم میںہم ان سے اپنا کام چلاتے ہیں بزم میںلے لے کے گٹکری جو سناتے ہیں وہ کلاماڑتے ہیں واہ واہ کے نعروں سے سقف و بامبزم نشاط بنتا ہے سارا مشاعرہہوتا ہے کامیاب ہمارا مشاعرہخوش خوش گھروں کو جاتے ہیں حضار اک طرفنوٹوں کا ہم لگاتے ہیں انبار اک طرفیہ خدمت ادب کا طریقہ ہے لا جوابپیشہ یہ وہ ہے جس میں منافع ہے بے حساب
رشتہ زمین سے بھی رہتا ہے آسماں پرکوئی اسے بلائے آئے نہ وہ اتر کربس دور ہی سے ٹک ٹک ہم کو وہ تک رہا ہےچاندی کی طشتری سا چم چم چمک رہا ہے
رات کے دو بجنے والے ہیںنیند کی دیوی روٹھ گئی ہےلاکھ بلاؤں لاکھ مناؤںاک ضدی بچی سی روٹھیدور کہیں کونے میں کھڑی ہےپاس مرے آتی ہی نہیں ہےدیر سے تکیے پر سر رکھےاک ٹک چھت کو گھور رہا ہوںچھت ہے جیسے میرے ماضی کا اک درپنجس پر بیت گئے سالوں کی دھول اٹی ہےدھول کے پردے سے رہ رہ کرکتنے چہرے جھانک رہے ہیںہر چہرے کے گرد ہیں رقصاںکتنی یادیںبھولی بسری آدھی پوری کڑوی میٹھیتکتے تکتے تھک سا گیا ہوںسوچ رہا ہوںکاشیہ درپن ٹوٹ ہی جائےمن کا سوتا سوکھ ہی جائے
مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگمیں نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیاتتیرا غم ہے تو غم دہر کا جھگڑا کیا ہےتیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثباتتیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہےتو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہو جائےیوں نہ تھا میں نے فقط چاہا تھا یوں ہو جائےاور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سواراحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
تم جب آؤگی تو کھویا ہوا پاؤگی مجھےمیری تنہائی میں خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیںمیرے کمرے کو سجانے کی تمنا ہے تمہیںمیرے کمرے میں کتابوں کے سوا کچھ بھی نہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books