عاجزی شاعری

عاجزی زندگی گزارنے کی ایک صفت ہے جس میں آدمی اپنی ذات میں خود پسندی کا شکار نہیں ہوتا۔ شاعری میں عاجزی اپنی بیشتر شکلوں میں عاشق کی عاجزی ہے جس کا اظہار معشوق کے سامنے ہوتا ہے ۔ معشوق کے سامنے عاشق اپنی ذات کو مکمل طور پر فنا کردیتا اور یہی عاشق کے کردار کی بڑائی ہے ۔

کشادہ دست کرم جب وہ بے نیاز کرے

نیاز مند نہ کیوں عاجزی پہ ناز کرے

علامہ اقبال

اشک اگر سب نے لکھے میں نے ستارے لکھے

عاجزی سب نے لکھی میں نے عبادت لکھا

عزم بہزاد

زندہ رکھیں بزرگوں کی ہم نے روایتیں

دشمن سے بھی ملے تو ملے عاجزی سے ہم

ماجد علی کاوش

کوئی خود سے مجھے کمتر سمجھ لے

یہ مطلب بھی نہیں ہے عاجزی کا

رحمان خاور

اس طرح منسلک ہوا اردو زبان سے

ملتا ہوں اب سبھی سے بڑی عاجزی کے ساتھ

بشیر مہتاب

غرور بھی جو کروں میں تو عاجزی ہو جائے

خودی میں لطف وہ آئے کہ بے خودی ہو جائے

ریاضؔ خیرآبادی

مرتبہ آج بھی زمانے میں

پیار سے عاجزی سے ملتا ہے

کامران عادل

عجز کے ساتھ چلے آئے ہیں ہم یزدانیؔ

کوئی اور ان کو منا لینے کا ڈھب یاد نہیں

یزدانی جالندھری

عاجزی آج ہے ممکن ہے نہ ہو کل مجھ میں

اس طرح عیب نکالو نہ مسلسل مجھ میں

نصرت مہدی

بندشوں کو توڑنے کی کوششیں کرتی ہوئی

سر پٹکتی لہر تیری عاجزی اچھی لگی

علینا عترت

منت و عاجزی و زاری و آہ

تیرے آگے ہزار کر دیکھا

میر محمدی بیدار

عاجزی بخشی گئی تمکنت فقر کے ساتھ

دینے والے نے ہمیں کون سی دولت نہیں دی

افتخار عارف

کسی کے راستے کی خاک میں پڑے ہیں ظفرؔ

متاع عمر یہی عاجزی نکلتی ہے

ظفر عجمی

مجھ کو سادات کی نسبت کے سبب میرے خدا

عاجزی دینا تکبر کی ادا مت دینا

س۔ ش۔ عالم

عاجزی کہنے لگی گر ہو بلندی کی طلب

دل جھکا دائرۂ نعرۂ تکبیر میں آ

ندیم سرسوی

اس شان عاجزی کے فدا جس نے آرزوؔ

ہر ناز ہر غرور کے قابل بنا دیا

آرزو لکھنوی

رگڑی ہیں ایڑیاں تو ہوئی ہے یہ مستجاب

کس عاجزی سے کی ہے دعا کچھ نہ پوچھئے

آغا حجو شرف

پیڑ ہو یا کہ آدمی غائرؔ

سر بلند اپنی عاجزی سے ہوا

کاشف حسین غائر

اب دیکھنا ہے مجھ کو ترے آستاں کا ظرف

سر کو جھکا رہا ہوں بڑی عاجزی کے ساتھ

اولاد علی رضوی

چلاؤں گا تیشہ میں اب عاجزی کا

انا اس کی مسمار ہو کر رہے گی

سوربھ شیکھر

خدایا عاجزی سے میں نے مانگا کیا ملا کیا

اثر میری دعاؤں کا یہ الٹا کیوں ہوا ہے

ہمدم کاشمیری

او آنکھ بدل کے جانے والے

کچھ دھیان کسی کی عاجزی کا

حفیظ جونپوری

کبھی تھی وہ غصہ کی چتون قیامت

کبھی عاجزی سے منانا کسی کا

مرلی دھر شاد

وہ منائے گا جس سے روٹھے ہو

ہم کو منت سے عاجزی سے غرض

حفیظ جونپوری

اس عاجزی سے کیا اس نے میرے سر کا سوال

خود اپنے ہاتھ سے تلوار توڑ دی میں نے

شاہد کمال

برائے اہل جہاں لاکھ کج کلاہ تھے ہم

گئے حریم سخن میں تو عاجزی سے گئے

عرفان ستار

یہ نقش خوش نما دراصل نقش عاجزی ہے

کہ اصل حسن تو اندیشۂ بہزاد میں ہے

ذوالفقار احمد تابش

متعلقہ موضوعات