ADVERTISEMENT

عناصر شاعری پر شعر

زندگی کیا ہے عناصر میں ظہور ترتیب

موت کیا ہے انہیں اجزا کا پریشاں ہونا

چکبست کا یہ شعر بہت مشہور ہے۔ غالب نے کیا خوب کہا تھا:

چکبست برج نرائن

مضمحل ہو گئے قویٰ غالب

وہ عناصر میں اعتدال کہاں

مرزا غالب

موت کی ایک علامت ہے اگر دیکھا جائے

روح کا چار عناصر پہ سواری کرنا

خورشید رضوی

کون تحلیل ہوا ہے مجھ میں

منتشر کیوں ہیں عناصر میرے

وکاس شرما راز
ADVERTISEMENT

ہیں عناصر کی یہ صورت بازیاں

شعبدے کیا کیا ہیں ان چاروں کے بیچ

میر تقی میر

ایک ہستی مری عناصر چار

ہر طرف سے گھری سی رہتی ہے

غلام مرتضی راہی

عناصر کی کوئی ترتیب قائم رہ نہیں سکتی

تغیر غیر فانی ہے تغیر جاودانی ہے

متین نیازی

اب عناصر میں توازن ڈھونڈنے جائیں کہاں

ہم جسے ہم راز سمجھے پاسباں نکلا ترا

امین راحت چغتائی
ADVERTISEMENT

ہر روح پس پردۂ ترتیب عناصر

ناکردہ گناہوں کی سزا کاٹ رہی ہے

جمنا پرشاد راہیؔ

اختلاط اپنے عناصر میں نہیں

جو ہے میرے جسم میں بیگانہ ہے

منیرؔ  شکوہ آبادی

میں رات سست عناصر سے تنگ آ گیا تھا

مری حیات فسردہ میں رنگ آ گیا تھا

اسامہ ذاکر

عناصر کی گھنی زنجیر ہے

سو یہ ہستی کی اک تعبیر ہے

خالد مبشر
ADVERTISEMENT

زمیں نئی تھی عناصر کی خو بدلتی تھی

ہوا سے پہلے جزیرے پہ دھوپ چلتی تھی

بلال احمد