کاینات شاعری

کائنات کے ساتھ انسان کا رشتہ عجیب ہے؛ اتنی بڑی کائنات کو دیکھ کر انسان اپنے وجود کی اہمیت پر سوالیہ نشان بھی لگاتا ہے اور اس پوری کائنات میں اس حیات کے گوش وارہ کے لئے شکر گزار بھی رہتا ہے جسے ہم دھرتی کہتے ہیں۔ یہاں کچھ منتخب اشعار پیش کئے جا رہے ہیں جن میں شاعروں نے کائنات کو اپنا موضوع بنایا ہے

تم اپنے چاند تارے کہکشاں چاہے جسے دینا

مری آنکھوں پہ اپنی دید کی اک شام لکھ دینا

زبیر رضوی

یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید

کہ آ رہی ہے دمادم صدائے کن فیکوں

علامہ اقبال

جہاں میں منزل مقصود ڈھونڈنے والے

یہ کائنات کی تصویر ہی خیالی ہے

شہزاد احمد

ہے کائنات کو حرکت تیرے ذوق سے

پرتو سے آفتاب کے ذرے میں جان ہے

مرزا غالب

پرانے ہیں یہ ستارے فلک بھی فرسودہ

جہاں وہ چاہیئے مجھ کو کہ ہو ابھی نوخیز

علامہ اقبال

یہ کائنات مرے سامنے ہے مثل بساط

کہیں جنوں میں الٹ دوں نہ اس جہان کو میں

اختر عثمان

رات دن گردش میں ہیں لیکن پڑا رہتا ہوں میں

کام کیا میرا یہاں ہے سوچتا رہتا ہوں میں

مہندر کمار ثانی

سلسلہ روشن تجسس کا ادھر میرا بھی ہے

اے ستارو اس خلا میں اک سفر میرا بھی ہے

راجیندر منچندا بانی

مری فضا میں ہے ترتیب کائنات کچھ اور

عجب نہیں جو ترا چاند ہے ستارہ مجھے

ظفر اقبال

اپنا آپ پڑا رہ جاتا ہے بس اک اندازے پر

آدھے ہم اس دھرتی پر ہیں آدھے اس سیارے پر

رانا عامر لیاقت

کل کائنات فکر سے آزاد ہو گئی

انساں مثال دست تہ سنگ رہ گیا

ظہیر کاشمیری

خلا میں تیرتے پھرتے ہیں ہاتھ پکڑے ہوئے

زمیں کی ایک صدی ایک سال سورج کا

ثناء اللہ ظہیر

دور تک ایک خلا ہے سو خلا کے اندر

صرف تنہائی کی صورت ہی نظر آئے گی

صابر ظفر

بھلا چکے ہیں زمین و زماں کے سب قصے

سخن طراز ہیں لیکن خلا میں رہتے ہیں

اختر ضیائی

مری نظر میں ہے قائمؔ یہ کائنات تمام

نظر میں گو کوئی لاتا نہیں ہے یاں مجھ کو

قائم چاندپوری

رجعت بھی کرے گا تو ٹھہرا ہوا سیارہ

سورج کی محبت میں گھر اپنا جلا دے گا

غیور جعفری

جن اجنبی خلاؤں سے واقف نہیں کوئی

مضطرؔ انہیں خلاؤں کا سیارہ ہم ہوئے

مضطر حیدری

شمس و قمر سے اور کبھی کہکشاں سے ہم

گزرے ہیں لاکھ بار حد لا مکاں سے ہم

سیلانی سیوتے
بولیے