کیف بھوپالی کے 10 منتخب شعر

ممتاز مقبول شاعر اور فلم نغمہ نگار۔ فلم’پاکیزہ‘ کے گیتوں کے لئے مشہور

زندگی شاید اسی کا نام ہے

دوریاں مجبوریاں تنہائیاں

کیف بھوپالی

داغ دنیا نے دیے زخم زمانے سے ملے

ہم کو تحفے یہ تمہیں دوست بنانے سے ملے

کیف بھوپالی

آگ کا کیا ہے پل دو پل میں لگتی ہے

بجھتے بجھتے ایک زمانا لگتا ہے

کیف بھوپالی

کون آئے گا یہاں کوئی نہ آیا ہوگا

میرا دروازہ ہواؤں نے ہلایا ہوگا

کیف بھوپالی

سایہ ہے کم کھجور کے اونچے درخت کا

امید باندھئے نہ بڑے آدمی کے ساتھ

کیف بھوپالی

کیفؔ پیدا کر سمندر کی طرح

وسعتیں خاموشیاں گہرائیاں

کیف بھوپالی

گل سے لپٹی ہوئی تتلی کو گرا کر دیکھو

آندھیو تم نے درختوں کو گرایا ہوگا

trees you may have rooted out, o storms but now this hour

lets see you drop the butterfly thats clinging to the flower

trees you may have rooted out, o storms but now this hour

lets see you drop the butterfly thats clinging to the flower

کیف بھوپالی

مے کشو آگے بڑھو تشنہ لبو آگے بڑھو

اپنا حق مانگا نہیں جاتا ہے چھینا جائے ہے

کیف بھوپالی

اس گلستاں کی یہی ریت ہے اے شاخ گل

تو نے جس پھول کو پالا وہ پرایا ہوگا

کیف بھوپالی

چلتے ہیں بچ کے شیخ و برہمن کے سائے سے

اپنا یہی عمل ہے برے آدمی کے ساتھ

کیف بھوپالی