محمد رفیع سودا کے 10 منتخب شعر

اٹھارہویں صدی کے عظیم شاعروں میں شامل، میر تقی میر کے ہم عصر

کیفیت چشم اس کی مجھے یاد ہے سوداؔ

ساغر کو مرے ہاتھ سے لیجو کہ چلا میں

محمد رفیع سودا

نہ کر سوداؔ تو شکوہ ہم سے دل کی بے قراری کا

محبت کس کو دیتی ہے میاں آرام دنیا میں

محمد رفیع سودا

فکر معاش عشق بتاں یاد رفتگاں

اس زندگی میں اب کوئی کیا کیا کیا کرے

محمد رفیع سودا

جس روز کسی اور پہ بیداد کرو گے

یہ یاد رہے ہم کو بہت یاد کرو گے

محمد رفیع سودا

میں نے تم کو دل دیا اور تم نے مجھے رسوا کیا

میں نے تم سے کیا کیا اور تم نے مجھ سے کیا کیا

محمد رفیع سودا

سوداؔ خدا کے واسطے کر قصہ مختصر

اپنی تو نیند اڑ گئی تیرے فسانے میں

محمد رفیع سودا

وے صورتیں الٰہی کس ملک بستیاں ہیں

اب دیکھنے کو جن کے آنکھیں ترستیاں ہیں

محمد رفیع سودا

گل پھینکے ہے اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی

اے خانہ بر انداز چمن کچھ تو ادھر بھی

محمد رفیع سودا

سوداؔ جو ترا حال ہے اتنا تو نہیں وہ

کیا جانیے تو نے اسے کس آن میں دیکھا

محمد رفیع سودا

سوداؔ کی جو بالیں پہ گیا شور قیامت

خدام ادب بولے ابھی آنکھ لگی ہے

محمد رفیع سودا