Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

خراج پر اشعار

اچھے لوگ کبھی نہیں مرتے

وہ اپنی مادی جسمانی صورت سے تو آزاد ہو جاتے ہیں لیکن ان کی یادیں دلوں میں ہمیشہ گھر کئے رہتی ہیں اور ہم انہیں وقتا فوقتا یاد کرتے رہتے ہیں ۔ یہاں ہم کچھ ایسے ہی شعر پیش کر رہے ہیں جو گزرے ہوؤں کو یاد کرنے اور انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کی مختلف صورتوں ، جذبوں اور احساسات کی ترجمانی کرتے ہیں ۔

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

علامہ اقبال

یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا

ایک ہی شخص تھا جہان میں کیا

جون ایلیا

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی

اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

خالد شریف

رہنے کو سدا دہر میں آتا نہیں کوئی

تم جیسے گئے ایسے بھی جاتا نہیں کوئی

کیفی اعظمی

کہانی ختم ہوئی اور ایسی ختم ہوئی

کہ لوگ رونے لگے تالیاں بجاتے ہوئے

رحمان فارس

مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں

تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں

میر تقی میر

موت اس کی ہے کرے جس کا زمانہ افسوس

یوں تو دنیا میں سبھی آئے ہیں مرنے کے لیے

محمود رامپوری

جن سے مل کر زندگی سے عشق ہو جائے وہ لوگ

آپ نے شاید نہ دیکھے ہوں مگر ایسے بھی ہیں

سرور بارہ بنکوی

لوگ اچھے ہیں بہت دل میں اتر جاتے ہیں

اک برائی ہے تو بس یہ ہے کہ مر جاتے ہیں

رئیس فروغ

جانے والے کبھی نہیں آتے

جانے والوں کی یاد آتی ہے

سکندر علی وجد

تیری محفل سے جو نکلا تو یہ منظر دیکھا

مجھے لوگوں نے بلایا مجھے چھو کر دیکھا

راحت اندوری

ایک سورج تھا کہ تاروں کے گھرانے سے اٹھا

آنکھ حیران ہے کیا شخص زمانے سے اٹھا

پروین شاکر

ایک روشن دماغ تھا نہ رہا

شہر میں اک چراغ تھا نہ رہا

الطاف حسین حالی

سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں

خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں

مرزا غالب

اٹھ گئی ہیں سامنے سے کیسی کیسی صورتیں

روئیے کس کے لیے کس کس کا ماتم کیجئے

حیدر علی آتش

اب نہیں لوٹ کے آنے والا

گھر کھلا چھوڑ کے جانے والا

اختر نظمی

کل اس کی آنکھ نے کیا زندہ گفتگو کی تھی

گمان تک نہ ہوا وہ بچھڑنے والا ہے

امید فاضلی

وہ اب وہاں ہے جہاں راستے نہیں جاتے

میں جس کے ساتھ یہاں پچھلے سال آیا تھا

بشیر بدر

وے صورتیں الٰہی کس ملک بستیاں ہیں

اب دیکھنے کو جن کے آنکھیں ترستیاں ہیں

محمد رفیع سودا

جنہیں اب گردش افلاک پیدا کر نہیں سکتی

کچھ ایسی ہستیاں بھی دفن ہیں گور غریباں میں

مخمور دہلوی

یہ ہجرتیں ہیں زمین و زماں سے آگے کی

جو جا چکا ہے اسے لوٹ کر نہیں آنا

آفتاب اقبال شمیم

تمہاری موت نے مارا ہے جیتے جی ہم کو

ہماری جان بھی گویا تمہاری جان میں تھی

شکیل اعظمی

وہ کیا گیا کہ ہر اک شخص رہ گیا تنہا

اسی کے دم سے تھیں باہم رفاقتیں ساری

منظور عارف

جھونکے نسیم خلد کے ہونے لگے نثار

جنت کو اس گلاب کا تھا کب سے انتظار

خالد مینائی
بولیے