اظہر عنایتی
غزل 44
اشعار 47
ہر ایک رات کو مہتاب دیکھنے کے لیے
میں جاگتا ہوں ترا خواب دیکھنے کے لیے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
اپنی تصویر بناؤ گے تو ہوگا احساس
کتنا دشوار ہے خود کو کوئی چہرہ دینا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
غزل کا شعر تو ہوتا ہے بس کسی کے لیے
مگر ستم ہے کہ سب کو سنانا پڑتا ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
شکستگی میں بھی کیا شان ہے عمارت کی
کہ دیکھنے کو اسے سر اٹھانا پڑتا ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے