Jameeluddin Aali's Photo'

جمیل الدین عالی

1925 - 2015 | کراچی, پاکستان

اپنے دوہوں کے لیے مشہور

اپنے دوہوں کے لیے مشہور

289
Favorite

باعتبار

ہر اک بات میں ڈالے ہے ہندو مسلم کی بات

یہ نا جانے الھڑ گوری پریم ہے خود اک ذات

اردو والے ہندی والے دونوں ہنسی اڑائیں

ہم دل والے اپنی بھاشا کس کس کو سکھلائیں

عالؔی اب کے کٹھن پڑا دیوالی کا تیوہار

ہم تو گئے تھے چھیلا بن کر بھیا کہہ گئی نار

ساجن ہم سے ملے بھی لیکن ایسے ملے کہ ہائے

جیسے سوکھے کھیت سے بادل بن برسے اڑ جائے

دریا دریا گھومے مانجھی پیٹ کی آگ بجھانے

پیٹ کی آگ میں جلنے والا کس کس کو پہچانے

نیند کو روکنا مشکل تھا پر جاگ کے کاٹی رات

سوتے میں آ جاتے وہ تو نیچی ہوتی بات

نا کوئی اس سے بھاگ سکے اور نا کوئی اس کو پائے

آپ ہی گھاؤ لگائے سمے اور آپ ہی بھرنے آئے

پہلے کبھی نہیں گزری تھی جو گزری اس شام

سب کچھ بھول چکے تھے لیکن یاد رہا اک نام

کچے محل کی رانی آئی رات ہمارے پاس

ہونٹ پہ لاکھا گال پہ لالی آنکھیں بہت اداس

بابو گیری کرتے ہو گئے عالؔی کو دو سال

مرجھایا وہ پھول سا چہرہ بھورے پڑ گئے بال

برقع پوش پٹھانی جس کی لاج میں سو سو روپ

کھل کے نہ دیکھی پھر بھی دیکھی ہم نے چھاؤں میں دھوپ

شہر میں چرچا عام ہوا ہے ساتھ تھے ہم اک شام

مجھے بھی جانیں تجھے بھی جانیں لوگ کریں بد نام

دھیرے دھیرے کمر کی سختی کرسی نے لی چاٹ

چپکے چپکے من کی شکتی افسر نے دی کاٹ

اک گہرا سنسان سمندر جس کے لاکھ بہاؤ

تڑپ رہی ہے اس کی اک اک موج پہ جیون ناؤ

پیار کرے اور سسکی بھرے پھر سسکی بھر کر پیار

کیا جانے کب اک اک کر کے بھاگ گئے سب یار

روز اک محفل اور ہر محفل ناریوں سے بھرپور

پاس بھی ہوں تو جان کے بیٹھیں عالؔی سب سے دور

ایک بدیسی نار کی موہنی صورت ہم کو بھائی

اور وہ پہلی نار تھی بھیا جو نکلی ہرجائی

روٹی جس کی بھینی خوشبو ہے ہزاروں راگ

نہیں ملے تو تن جل جائے ملے تو جیون آگ

اس دیوانی دوڑ میں بچ بچ جاتا تھا ہر بار

اک دوہا سو اسے بھی لے جا تو ہی خوش رہ یار

دوہے کبت کہہ کہہ کر عالؔی من کی آگ بجھائے

من کی آگ بجھی نہ کسی سے اسے یہ کون بتائے

سورؔ کبیرؔ بہاریؔ میراؔ ؔرحمنؔ تلسیؔ داس

سب کی سیوا کی پر عالؔی گئی نہ من کی پیاس