Jameeluddin Aali's Photo'

جمیل الدین عالی

1925 - 2015 | کراچی, پاکستان

اپنے دوہوں کے لیے مشہور

اپنے دوہوں کے لیے مشہور

تیرے خیال کے دیوار و در بناتے ہیں

ہم اپنے گھر میں بھی تیرا ہی گھر بناتے ہیں

اجنبیوں سے دھوکے کھانا پھر بھی سمجھ میں آتا ہے

اس کے لیے کیا کہتے ہو وہ شخص تو دیکھا بھالا تھا

بکھیرتے رہو صحرا میں بیج الفت کے

کہ بیج ہی تو ابھر کر شجر بناتے ہیں

کیا کیا روگ لگے ہیں دل کو کیا کیا ان کے بھید

ہم سب کو سمجھانے والے کون ہمیں سمجھائے

ایک عجیب راگ ہے ایک عجیب گفتگو

سات سروں کی آگ ہے آٹھویں سر کی جستجو

کوئی وعدہ وہ کر جو پورا ہو

کوئی سکہ وہ دے کہ جاری ہو

نہ ترے سوا کوئی لکھ سکے نہ مرے سوا کوئی پڑھ سکے

یہ حروف بے ورق و سبق ہمیں کیا زبان سکھا گئے

کچھ چھوٹے چھوٹے دکھ اپنے کچھ دکھ اپنے عزیزوں کے

ان سے ہی جیون بنتا ہے سو جیون بن جائے گا

جانے کیوں لوگوں کی نظریں تجھ تک پہنچیں ہم نے تو

برسوں بعد غزل کی رو میں اک مضمون نکالا تھا