Abdul Ahad Saaz's Photo'

عبد الاحد ساز

1950 | ممبئی, ہندوستان

ممبئی کے اہم جدید شاعر، سنجیدہ شاعری کے حلقوں میں مقبول

ممبئی کے اہم جدید شاعر، سنجیدہ شاعری کے حلقوں میں مقبول

508
Favorite

باعتبار

بچپن میں ہم ہی تھے یا تھا اور کوئی

وحشت سی ہونے لگتی ہے یادوں سے

دوست احباب سے لینے نہ سہارے جانا

دل جو گھبرائے سمندر کے کنارے جانا

نیند مٹی کی مہک سبزے کی ٹھنڈک

مجھ کو اپنا گھر بہت یاد آ رہا ہے

شعر اچھے بھی کہو سچ بھی کہو کم بھی کہو

درد کی دولت نایاب کو رسوا نہ کرو

وہ تو ایسا بھی ہے ویسا بھی ہے کیسا ہے مگر؟

کیا غضب ہے کوئی اس شوخ کے جیسا بھی نہیں

خبر کے موڑ پہ سنگ نشاں تھی بے خبری

ٹھکانے آئے مرے ہوش یا ٹھکانے لگے

مفلسی بھوک کو شہوت سے ملا دیتی ہے

گندمی لمس میں ہے ذائقۂ نان جویں

جن کو خود جا کے چھوڑ آئے قبروں میں ہم

ان سے رستے میں مڈبھیڑ ہوتی رہی

یادوں کے نقش گھل گئے تیزاب وقت میں

چہروں کے نام دل کی خلاؤں میں کھو گئے

نظر تو آتے ہیں کمروں میں چلتے پھرتے مگر

یہ گھر کے لوگ نہ جانے کہاں گئے ہوئے ہیں

برا ہو آئینے ترا میں کون ہوں نہ کھل سکا

مجھی کو پیش کر دیا گیا مری مثال میں

شاعری طلب اپنی شاعری عطا اس کی

حوصلے سے کم مانگا ظرف سے سوا پایا

گھر والے مجھے گھر پر دیکھ کے خوش ہیں اور وہ کیا جانیں

میں نے اپنا گھر اپنے مسکن سے الگ کر رکھا ہے

خیال کیا ہے جو الفاظ تک نہ پہنچے سازؔ

جب آنکھ سے ہی نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے

میں ایک ساعت بے خود میں چھو گیا تھا جسے

پھر اس کو لفظ تک آتے ہوئے زمانے لگے

جیتنے معرکۂ دل وہ لگاتار گیا

جس گھڑی فتح کا اعلان ہوا ہار گیا

تم اپنے ٹھور ٹھکانوں کو یاد رکھو سازؔ

ہمارا کیا ہے کہ ہم تو کہیں بھی رہتے ہیں

میں بڑھتے بڑھتے کسی روز تجھ کو چھو لیتا

کہ گن کے رکھ دیئے تو نے مری مجال کے دن

اب آ کے قلم کے پہلو میں سو جاتی ہیں بے کیفی سے

مصرعوں کی شوخ حسینائیں سو بار جو روٹھتی منتی تھیں

زمانے سبز و سرخ و زرد گزرے

زمیں لیکن وہی خاکستری ہے

سازؔ جب کھلا ہم پر شعر کوئی غالبؔ کا

ہم نے گویا باطن کا اک سراغ سا پایا

جیسے کوئی دائرہ تکمیل پر ہے

ان دنوں مجھ پر گزشتہ کا اثر ہے

آئی ہوا نہ راس جو سایوں کے شہر کی

ہم ذات کی قدیم گپھاؤں میں کھو گئے

لا سے لا کا سفر تھا تو پھر کس لیے

ہر خم راہ سے جاں الجھتی رہی

شعلوں سے بے کار ڈراتے ہو ہم کو

گزرے ہیں ہم سرد جہنم زاروں سے

میں ترے حسن کو رعنائی معنی دے دوں

تو کسی شب مرے انداز بیاں میں آنا

پس منظر میں 'فیڈ' ہوئے جاتے ہیں انسانی کردار

فوکس میں رفتہ رفتہ شیطان ابھرتا آتا ہے

رات ہے لوگ گھر میں بیٹھے ہیں

دفتر آلودہ و دکان زدہ

داد و تحسین کی بولی نہیں تفہیم کا نقد

شرط کچھ تو مرے بکنے کی مناسب ٹھہرے

پیاس بجھ جائے زمیں سبز ہو منظر دھل جائے

کام کیا کیا نہ ان آنکھوں کی تری آئے ہمیں

ہر قدم اس متبادل سے بھری دنیا میں

راس آئے تو بس اک تیری کمی آئے ہمیں

شکست وعدہ کی محفل عجیب تھی تیری

مرا نہ ہونا تھا برپا ترے نہ آنے میں

مشابہت کے یہ دھوکے مماثلت کے فریب

مرا تضاد لیے مجھ سا ہو بہو کیا ہے

مرے مہ و سال کی کہانی کی دوسری قسط اس طرح ہے

جنوں نے رسوائیاں لکھی تھیں خرد نے تنہائیاں لکھی ہیں

بول تھے دوانوں کے جن سے ہوش والوں نے

سوچ کے دھندلکوں میں اپنا راستہ پایا

نیک گزرے مری شب صدق بدن سے تیرے

غم نہیں رابطۂ صبح جو کاذب ٹھہرے

نظر کی موت اک تازہ المیہ

اور اتنے میں نظارہ مر رہا ہے

بام و در کی روشنی پھر کیوں بلاتی ہے مجھے

میں نکل آیا تھا گھر سے اک شب تاریک میں

زمانوں کو ملا ہے سوز اظہار

وہ ساعت جب خموشی بول اٹھی ہے

بیاض پر سنبھل سکے نہ تجربے

پھسل پڑے بیان بن کے رہ گئے

مری رفیق نفس موت تیری عمر دراز

کہ زندگی کی تمنا ہے دل میں افزوں پھر

عبث ہے راز کو پانے کی جستجو کیا ہے

یہ چاک دل ہے اسے حاجت رفو کیا ہے

خرد کی رہ جو چلا میں تو دل نے مجھ سے کہا

عزیز من ''بہ سلامت روی و باز آئی''