- کتاب فہرست 180745
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں90
ادب اطفال1994
ڈرامہ923 تعلیم347 مضامين و خاكه1374 قصہ / داستان1660 صحت108 تاریخ3352طنز و مزاح603 صحافت202 زبان و ادب1142
خطوط724 طرز زندگی30 طب980 تحریکات268 ناول4283 سیاسی349 مذہبیات4791 تحقیق و تنقید6713افسانہ2672 خاکے/ قلمی چہرے237 سماجی مسائل111 تصوف2018نصابی کتاب441 ترجمہ4199-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار70
- دیوان1254
- دوہا50
- رزمیہ99
- شرح186
- گیت63
- غزل1271
- ہائیکو11
- حمد61
- مزاحیہ31
- انتخاب1583
- کہہ مکرنی6
- کلیات574
- ماہیہ20
- مجموعہ4890
- مرثیہ387
- مثنوی736
- مسدس44
- نعت592
- نظم1214
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ179
- قوالی16
- قطعہ68
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ75
- واسوخت24
غضنفر
افسانہ 21
خاکہ 1
اشعار 13
ہمارے ہاتھ سے وہ بھی نکل گیا آخر
کہ جس خیال میں ہم مدتوں سے کھوئے تھے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
رفتہ رفتہ آنکھوں کو حیرانی دے کر جائے گا
خوابوں کا یہ شوق ہمیں ویرانی دے کر جائے گا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
دفتر میں ذہن گھر پہ نگہ راستے میں پاؤں
جینے کی کاوشوں میں بدن ہاتھ سے گیا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
ہر ایک رات کہیں دور بھاگ جاتا ہوں
ہر ایک صبح کوئی مجھ کو کھینچ لاتا ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
نہ جانے کس طرح بستر میں گھس کر بیٹھ جاتی ہیں
وہ آوازیں جنہیں ہم روز باہر چھوڑ آتے ہیں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
غزل 14
نظم 16
کتاب 35
تصویری شاعری 1
اپنی نظر میں بھی تو وہ اپنا نہیں رہا چہرے پہ آدمی کے ہے چہرہ چڑھا ہوا منظر تھا آنکھ بھی تھی تمنائے_دید بھی لیکن کسی نے دید پہ پہرہ بٹھا دیا ایسا کریں کہ سارا سمندر اچھل پڑے کب تک یوں سطح_آب پہ دیکھیں_گے بلبلہ برسوں سے اک مکان میں رہتے ہیں ساتھ ساتھ لیکن ہمارے بیچ زمانوں کا فاصلہ مجمع تھا ڈگڈگی تھی مداری بھی تھا مگر حیرت ہے پھر بھی کوئی تماشا نہیں ہوا آنکھیں بجھی بجھی سی ہیں بازو تھکے تھکے ایسے میں کوئی تیر چلانے کا فائدہ وہ بے_کسی کہ آنکھ کھلی تھی مری مگر ذوق_نظر پہ جبر نے پہرہ بٹھا دیا
join rekhta family!
-
کارگزاریاں90
ادب اطفال1994
-
