Muztar Khairabadi's Photo'

مضطر خیرآبادی

1865 - 1927 | گوالیار, ہندوستان

معروف فلم نغمہ نگار جاوید اختر کے دادا

معروف فلم نغمہ نگار جاوید اختر کے دادا

وقت دو مجھ پر کٹھن گزرے ہیں ساری عمر میں

اک ترے آنے سے پہلے اک ترے جانے کے بعد

مصیبت اور لمبی زندگانی

بزرگوں کی دعا نے مار ڈالا

all these worldly troubles and longevity

blessings of the elders is the death of me

all these worldly troubles and longevity

blessings of the elders is the death of me

نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں

جو کسی کے کام نہ آ سکے میں وہ ایک مشت غبار ہوں

علاج درد دل تم سے مسیحا ہو نہیں سکتا

تم اچھا کر نہیں سکتے میں اچھا ہو نہیں سکتا

لڑائی ہے تو اچھا رات بھر یوں ہی بسر کر لو

ہم اپنا منہ ادھر کر لیں تم اپنا منہ ادھر کر لو

برا ہوں میں جو کسی کی برائیوں میں نہیں

بھلے ہو تم جو کسی کا بھلا نہیں کرتے

اک ہم ہیں کہ ہم نے تمہیں معشوق بنایا

اک تم ہو کہ تم نے ہمیں رکھا نہ کہیں کا

اسیر پنجۂ عہد شباب کر کے مجھے

کہاں گیا مرا بچپن خراب کر کے مجھے

اگر تقدیر سیدھی ہے تو خود ہو جاؤ گے سیدھے

خفا بیٹھے رہو تم کو منانے کون آتا ہے

ہمارے ایک دل کو ان کی دو زلفوں نے گھیرا ہے

یہ کہتی ہے کہ میرا ہے وہ کہتی ہے کہ میرا ہے

ان کا اک پتلا سا خنجر ان کا اک نازک سا ہاتھ

وہ تو یہ کہیے مری گردن خوشی میں کٹ گئی

ان کو آتی تھی نیند اور مجھ کو

اپنا قصہ تمام کرنا تھا

آنکھیں نہ چراؤ دل میں رہ کر

چوری نہ کرو خدا کے گھر میں

جو پوچھا منہ دکھانے آپ کب چلمن سے نکلیں گے

تو بولے آپ جس دن حشر میں مدفن سے نکلیں گے

محبت میں کسی نے سر پٹکنے کا سبب پوچھا

تو کہہ دوں گا کہ اپنی مشکلیں آسان کرتا ہوں

اے عشق کہیں لے چل یہ دیر و حرم چھوٹیں

ان دونوں مکانوں میں جھگڑا نظر آتا ہے

وہ شاید ہم سے اب ترک تعلق کرنے والے ہیں

ہمارے دل پہ کچھ افسردگی سی چھائی جاتی ہے

تصور میں ترا در اپنے سر تک کھینچ لیتا ہوں

ستم گر میں نہیں چلتا تری دیوار چلتی ہے

اکٹھے کر کے تیری دوسری تصویر کھینچوں گا

وہ سب جلوے جو چھن چھن کر تری چلمن سے نکلیں گے