تمام
تعارف
غزل233
شعر396
ای-کتاب907
ٹاپ ٢٠ شاعری 20
تصویری شاعری 45
آڈیو 82
ویڈیو 323
مرثیہ1
قطعہ28
رباعی34
قصہ18
بلاگ12
دیگر
سہرا3
غیر متداول غزلیں238
قادر نامہ1
قصیدہ10
سلام1
مخمس1
مثنوی3
غیرمتداول اشعار59
خط48
مرزا غالب
غزل 233
اشعار 396
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے
Interpretation:
Rekhta AI
مرزا غالب اس شعر میں مذہبی عقائد پر ہلکا سا طنز کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جنت کی حقیقت جو بھی ہو، انسان کو جینے کے لیے کسی امید کی ضرورت ہوتی ہے۔ شاعر کے نزدیک جنت کا وعدہ ایک ایسا خوش کن ’خیال‘ ہے جس سے انسان کو دنیا کے دکھ سہنے کا حوصلہ ملتا ہے اور دل مطمئن رہتا ہے۔
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
عشق نے غالبؔ نکما کر دیا
ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں شاعر عشق کی تباہ کاریوں کا ذکر ہلکے پھلکے انداز میں کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ محبت کی دیوانگی نے اسے دنیا کے کام دھندوں سے بیگانہ کر دیا ہے، ورنہ وہ بھی ایک زمانے میں بڑی خوبیوں اور صلاحیتوں کے مالک تھے۔
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق
وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے
Interpretation:
Rekhta AI
محبوب کی ایک جھلک عاشق کے چہرے پر وقتی چمک اور تازگی لے آتی ہے، مگر اندر کا درد جوں کا توں رہتا ہے۔ لوگ اس ظاہر ہونے والی رونق کو صحت کی علامت سمجھ کر دھوکا کھا جاتے ہیں۔ شعر میں محبت کی بیماری، باطنی کرب اور ظاہر و باطن کے فرق کی لطیف تصویر ہے۔
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا
اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں عاشق کہتا ہے کہ عشق کی شدت میں حیات و موت کی سرحد مٹ جاتی ہے۔ محبوب کا دیدار ہی زندگی کا سہارا ہے، مگر وہی محبوب اپنی بےرحمی یا بےنیازی سے قاتل بھی ہے۔ یوں عاشق ایک ہی نظر سے جیتا بھی ہے اور مر بھی جاتا ہے—یہی عشق کی بےبسی اور وارفتگی ہے۔
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
پوچھتے ہیں وہ کہ غالبؔ کون ہے
کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں محبوب کے تجاہلِ عارفانہ کا بیان ہے کہ وہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی عاشق کو پہچاننے سے انکار کر رہے ہیں۔ شاعر حیرت اور بے بسی کے عالم میں ہے کہ اپنی ہستی کا ثبوت اس شخص کو کیا دے جس کے عشق میں وہ دنیا بھر میں رسوا ہے۔
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے