رنگیں سعادت یار خاں کے اشعار
ظلم کی ٹہنی کبھی پھلتی نہیں
ناؤ کاغذ کی کہیں چلتی نہیں
بادل آئے ہیں گھر گلال کے لال
کچھ کسی کا نہیں کسی کو خیال
جھوٹا کبھی نہ جھوٹا ہووے
جھوٹے کے آگے سچا رووے
ہے یہ دنیا جائے عبرت خاک سے انسان کی
بن گئے کتنے سبو کتنے ہی پیمانے ہوئے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
بس میں ہیں وہ غیر کے ہم کو بلا سکتے نہیں
اور ہم اس جا کسی صورت سے جا سکتے نہیں
-
موضوع : شوخی
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
وہ نہ آئے تو تو ہی چل رنگیںؔ
اس میں کیا تیری شان جاتی ہے
پا بوس یار کی ہمیں حسرت ہے اے نسیم
آہستہ آئیو تو ہمارے مزار پر
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
تا حشر رہے یہ داغ دل کا
یارب نہ بجھے چراغ دل کا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
تھا جہاں مے خانہ برپا اس جگہ مسجد بنی
ٹوٹ کر مسجد کو پھر دیکھا تو بت خانے ہوئے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
جو ترے پاس سے آتا ہے میں پوچھوں ہوں یہی
کیوں جی کچھ ذکر ہمارا بھی وہاں رہتا ہے
منع کرتے ہو عبث یارو آج
اس کے گھر جائیں گے پر جائیں گے ہم
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ