جہاں پہنچ کے قدم ڈگمگائے ہیں سب کے

اسی مقام سے اب اپنا راستا ہوگا

سفر میں ایسے کئی مرحلے بھی آتے ہیں

ہر ایک موڑ پہ کچھ لوگ چھوٹ جاتے ہیں

زمانہ مجھ سے جدا ہو گیا زمانہ ہوا

رہا ہے اب تو بچھڑنے کو مجھ سے تو باقی

جنہیں یہ فکر نہیں سر رہے رہے نہ رہے

وہ سچ ہی کہتے ہیں جب بولنے پہ آتے ہیں

امیر کارواں ہے تنگ ہم سے

ہمارا راستا سب سے الگ ہے

ہم سے عابدؔ اپنے رہبر کو شکایت یہ رہی

آنکھ موندے ان کے پیچھے چلنے والے ہم نہیں

شاہراہیں دفعتاً شعلے اگلنے لگ گئیں

گھر کی جانب چل پڑا ہے شہر گھیرا کر تمام