Aabid Adeeb's Photo'

عابد ادیب

1937

جہاں پہنچ کے قدم ڈگمگائے ہیں سب کے

اسی مقام سے اب اپنا راستا ہوگا

سفر میں ایسے کئی مرحلے بھی آتے ہیں

ہر ایک موڑ پہ کچھ لوگ چھوٹ جاتے ہیں

زمانہ مجھ سے جدا ہو گیا زمانہ ہوا

رہا ہے اب تو بچھڑنے کو مجھ سے تو باقی

جنہیں یہ فکر نہیں سر رہے رہے نہ رہے

وہ سچ ہی کہتے ہیں جب بولنے پہ آتے ہیں

امیر کارواں ہے تنگ ہم سے

ہمارا راستا سب سے الگ ہے

ہم سے عابدؔ اپنے رہبر کو شکایت یہ رہی

آنکھ موندے ان کے پیچھے چلنے والے ہم نہیں

شاہراہیں دفعتاً شعلے اگلنے لگ گئیں

گھر کی جانب چل پڑا ہے شہر گھیرا کر تمام