عدنان نصیر کے اشعار
اتنی مصروفیت میں تیرا خیال
مجھ کو فرصت ملی تو کیا ہوگا
میں نہیں دیتا زندگی کا حساب
کیا مجھے پوچھ کر بنایا تھا
میرا بیٹا بھی مجھ پہ ہے یعنی
عشق نسلوں کا پیچھا کرتا ہے
میں نے تعریف کی ہے ہونٹوں کی
آپ تو منہ بنانے لگ گئے ہیں
تمام پچھلی محبتیں بے نقاب ہوں گی
نئے تعلق میں تجربہ بولنے لگا ہے
کافری بھیک میں نہیں ملتی
خود پہ ایمان لانا پڑتا ہے
یہ وہ صدی ہے کہ بندہ خدا تلک پہنچے
اور اس صدی میں بھی جس کو ترا پتہ نہ ملے