Ali Sardar Jafri's Photo'

علی سردار جعفری

1913 - 2000 | ممبئی, ہندوستان

ممتاز ترین ترقی پسند شاعروں میں نمایاں، نقاد، دانشور اور رسالہ ’گفتگو‘ کے مدیر، گیان پیٹھ انعام سے سرفراز، اردو شاعروں پر دستاویزی فلمیں بنائیں

ممتاز ترین ترقی پسند شاعروں میں نمایاں، نقاد، دانشور اور رسالہ ’گفتگو‘ کے مدیر، گیان پیٹھ انعام سے سرفراز، اردو شاعروں پر دستاویزی فلمیں بنائیں

2.85K
Favorite

باعتبار

کام اب کوئی نہ آئے گا بس اک دل کے سوا

راستے بند ہیں سب کوچۂ قاتل کے سوا

انقلاب آئے گا رفتار سے مایوس نہ ہو

بہت آہستہ نہیں ہے جو بہت تیز نہیں

سو ملیں زندگی سے سوغاتیں

ہم کو آوارگی ہی راس آئی

دامن جھٹک کے وادئ غم سے گزر گیا

اٹھ اٹھ کے دیکھتی رہی گرد سفر مجھے

شکایتیں بھی بہت ہیں حکایتیں بھی بہت

مزا تو جب ہے کہ یاروں کے رو بہ رو کہیے

یہ کس نے فون پے دی سال نو کی تہنیت مجھ کو

تمنا رقص کرتی ہے تخیل گنگناتا ہے

بہت برباد ہیں لیکن صدائے انقلاب آئے

وہیں سے وہ پکار اٹھے گا جو ذرہ جہاں ہوگا

پرانے سال کی ٹھٹھری ہوئی پرچھائیاں سمٹیں

نئے دن کا نیا سورج افق پر اٹھتا آتا ہے

مقتل شوق کے آداب نرالے ہیں بہت

دل بھی قاتل کو دیا کرتے ہیں سر سے پہلے

love's killing grounds has etiquette that is truly apart

before the killer takes your head you have to give your heart

love's killing grounds has etiquette that is truly apart

before the killer takes your head you have to give your heart

اسی لیے تو ہے زنداں کو جستجو میری

کہ مفلسی کو سکھائی ہے سرکشی میں نے

تو وہ بہار جو اپنے چمن میں آوارہ

میں وہ چمن جو بہاراں کے انتظار میں ہے

اسی دنیا میں دکھا دیں تمہیں جنت کی بہار

شیخ جی تم بھی ذرا کوئے بتاں تک آؤ

شب کے سناٹے میں یہ کس کا لہو گاتا ہے

سرحد درد سے یہ کس کی صدا آتی ہے

پھوٹنے والی ہے مزدور کے ماتھے سے کرن

سرخ پرچم افق صبح پہ لہراتے ہیں

کمی کمی سی تھی کچھ رنگ و بوئے گلشن میں

لب بہار سے نکلی ہوئی دعا تم ہو

یہ مے کدہ ہے یہاں ہیں گناہ جام بدست

وہ مدرسہ ہے وہ مسجد وہاں ملے گا ثواب

دل و نظر کو ابھی تک وہ دے رہے ہیں فریب

تصورات کہن کے قدیم بت خانے

پیاس جہاں کی ایک بیاباں تیری سخاوت شبنم ہے

پی کے اٹھا جو بزم سے تیری اور بھی تشنہ کام اٹھا

یہ تیرا گلستاں تیرا چمن کب میری نوا کے قابل ہے

نغمہ مرا اپنے دامن میں آپ اپنا گلستاں لاتا ہے

پرتو سے جس کے عالم امکاں بہار ہے

وہ نو بہار ناز ابھی رہ گزر میں ہے