Ali Zaheer Rizvi Lakhnavi's Photo'

علی ظہیر رضوی لکھنوی

1931 - 1982 | لکھنؤ, ہندوستان

غزل 5

 

اشعار 7

ہماری زندگی کیا ہے محبت ہی محبت ہے

تمہارا بھی یہی دستور بن جائے تو اچھا ہو

  • شیئر کیجیے

نفرت سے محبت کو سہارے بھی ملے ہیں

طوفان کے دامن میں کنارے بھی ملے ہیں

  • شیئر کیجیے

ذرا پردہ ہٹا دو سامنے سے بجلیاں چمکیں

مرا دل جلوہ گاہ طور بن جائے تو اچھا ہو

  • شیئر کیجیے

راز غم الفت کو یہ دنیا نہ سمجھ لے

آنسو مرے دامن میں تمہارے بھی ملے ہیں

  • شیئر کیجیے

مرا خون جگر پر نور بن جائے تو اچھا ہو

تمہاری مانگ کا سیندور بن جانے تو اچھا ہو

  • شیئر کیجیے

مزید دیکھیے

"لکھنؤ" کے مزید شعرا

  • مصحفی غلام ہمدانی مصحفی غلام ہمدانی
  • میر حسن میر حسن
  • حیدر علی آتش حیدر علی آتش
  • امداد علی بحر امداد علی بحر
  • عرفان صدیقی عرفان صدیقی
  • ارشد علی خان قلق ارشد علی خان قلق
  • یگانہ چنگیزی یگانہ چنگیزی
  • خواجہ محمد وزیر خواجہ محمد وزیر
  • امام بخش ناسخ امام بخش ناسخ
  • ولی اللہ محب ولی اللہ محب