Anjum Saleemi's Photo'

پاکستان کے اہم شاعر، اپنے سنجیدہ لہجے کے لیے معروف

پاکستان کے اہم شاعر، اپنے سنجیدہ لہجے کے لیے معروف

2.9K
Favorite

باعتبار

ساتھ بارش میں لیے پھرتے ہو اس کو انجمؔ

تم نے اس شہر میں کیا آگ لگانی ہے کوئی

ماں کی دعا نہ باپ کی شفقت کا سایا ہے

آج اپنے ساتھ اپنا جنم دن منایا ہے

روشنی بھی نہیں ہوا بھی نہیں

ماں کا نعم البدل خدا بھی نہیں

اتنا بے تاب نہ ہو مجھ سے بچھڑنے کے لیے

تجھ کو آنکھوں سے نہیں دل سے جدا کرنا ہے

کس شفقت میں گندھے ہوئے مولا ماں باپ دیے

کیسی پیاری روحوں کو میری اولاد کیا

کس نے آباد کیا ہے مری ویرانی کو

عشق نے؟ عشق تو بیمار پڑا ہے مجھ میں

ایک دن میری خامشی نے مجھے

لفظ کی اوٹ سے اشارہ کیا

اٹھائے پھرتا رہا میں بہت محبت کو

پھر ایک دن یوں ہی سوچا یہ کیا مصیبت ہے

میں چیختا رہا کچھ اور بھی ہے میرا علاج

مگر یہ لوگ تمہارا ہی نام لیتے رہے

تم اکیلے میں ملے ہی نہیں ورنہ تم کو

اور ہی طرح کے اک شخص سے ملواتا میں

وہ اک دن جانے کس کو یاد کر کے

مرے سینے سے لگ کے رو پڑا تھا

بس اندھیرے نے رنگ بدلا ہے

دن نہیں ہے سفید رات ہے یہ

تو مرے صبر کا اندازہ لگا سکتا ہے

تیری صحبت میں ترا ہجر گزارا ہے میاں

اس خدا کی تلاش ہے انجمؔ

جو خدا ہو کے آدمی سا لگے

اداسی کھینچ لائی ہے یہاں تک

میں آنسو تھا سمندر میں پڑا ہوں

ایک بے نام اداسی سے بھرا بیٹھا ہوں

آج دل کھول کے رونے کی ضرورت ہے مجھے

ہاں زمانے کی نہیں اپنی تو سن سکتا تھا

کاش خود کو ہی کبھی بیٹھ کے سمجھاتا میں

میں اندھیرے میں ہوں مگر مجھ میں

روشنی نے جگہ بنا لی ہے

کہو ہوا سے کہ اتنی چراغ پا نہ پھرے

میں خود ہی اپنے دیے کو بجھانے والا ہوں

ایک تعبیر کی صورت نظر آئی ہے ادھر

سو اٹھا لایا ہوں سب خواب پرانے والے

میں جس چراغ سے بیٹھا تھا لو لگائے ہوئے

پتہ چلا وہ اندھیرے میں رکھ رہا تھا مجھے

مجھے پتہ ہے کہ برباد ہو چکا ہوں میں

تو میرا سوگ منا مجھ کو سوگوار نہ کر

ایسی کیا بیت گئی مجھ پہ کہ جس کے باعث

آب دیدہ ہیں مرے ہنسنے ہنسانے والے

چل تو سکتا تھا میں بھی پانی پر

میں نے دریا کا احترام کیا

میری مٹی سے بہت خوش ہیں مرے کوزہ گر

ویسا بن جاتا ہوں میں جیسا بناتے ہیں مجھے

کر رہا ہوں تجھے خوشی سے بسر

زندگی تجھ سے داد چاہتا ہوں

میں ایک ایک تمنا سے پوچھ بیٹھا ہوں

مجھے یقیں نہیں آتا کہ میرا سب ہے تو

اپنی تصدیق مجھے تیری گواہی سے ہوئی

تو کہاں سے مرے ہونے کی خبر لایا ہے

تجھ سے یہ کیسا تعلق ہے جسے جب چاہوں

ختم کر دیتا ہوں آغاز بھی کر لیتا ہوں

پرانا زہر نئے نام سے ملا ہے مجھے

وہ آستین نہیں کینچلی بدل رہا تھا

کس زمانے میں مجھ کو بھیج دیا

مجھ سے تو رائے بھی نہ چاہی مری

پتھر میں کون جونک لگائے گا میرے دوست

دل ہے تو مبتلا بھی کہیں ہونا چاہئے

سبھی دروازے کھلے ہیں مری تنہائی کے

ساری دنیا کو میسر ہے رفاقت میری

میں خود سے مل کے کبھی صاف صاف کہہ دوں گا

مجھے پسند نہیں ہے مداخلت اپنی

اتنا ترسایا گیا مجھ کو محبت سے کہ اب

اک محبت پہ قناعت نہیں کر سکتا میں

کسی طرح سے نظر مطمئن نہیں ہوتی

ہر ایک شے کو دوبارہ بدل کے دیکھتا ہوں

جب خدا بھی نہیں تھا ساتھ مرے

مجھ پہ بیتی ہے ایسی تنہائی

یہ محبت کا جو انبار پڑا ہے مجھ میں

اس لیے ہے کہ مرا یار پڑا ہے مجھ میں

کہنے سننے کے لیے اور بچا ہی کیا ہے

سو مرے دوست اجازت مجھے رخصت کیا جائے

تیرے اندر کی اداسی کے مشابہ ہوں میں

خال و خد سے نہیں آواز سے پہچان مجھے

درد سے بھرتا رہا ذات کے خالی پن کو

تھوڑا تھوڑا یوں ہی بھرپور کیا میں نے مجھے

خواب شرمندۂ وصال ہوا

ہجر میں نیند آ گئی تھی مجھے

آگے بچھی پڑی رہیں اس کے بدن کی نعمتیں

اس نے بہت کہا مگر میں نے اسے چکھا نہیں

جانے توڑے تھے کس نے کس کے لیے

پھول میرے گلے پڑے ہوئے تھے

برہم ہیں مجھ پہ اس لیے دونوں طرف کے لوگ

دیوار اٹھ گئی تھی تو در کیوں بنایا ہے

دوستو میرے لیے کوئی بھی افسردہ نہ ہو

خوش دلی سے دم رخصت مجھے رخصت کیا جائے

بجھنے دے سب دیئے مجھے تنہائی چاہئے

کچھ دیر کے لیے مجھے تنہائی چاہئے

ٹھیک سے یاد بھی نہیں اب تو

عشق نے مجھ میں کب قیام کیا

ہجر میں بھی ہم ایک دوسرے کے

آمنے سامنے پڑے ہوئے تھے

عشق فرما لیا تو سوچتا ہوں

کیا مصیبت پڑی ہوئی تھی مجھے