بقا بلوچ

غزل 9

اشعار 13

زندگی سے زندگی روٹھی رہی

آدمی سے آدمی برہم رہا

جسم اپنے فانی ہیں جان اپنی فانی ہے فانی ہے یہ دنیا بھی

پھر بھی فانی دنیا میں جاوداں تو میں بھی ہوں جاوداں تو تم بھی ہو

میں کنارے پہ کھڑا ہوں تو کوئی بات نہیں

بہتا رہتا ہے تری یاد کا دریا مجھ میں

تو خوش ہے اپنی دنیا میں

میں تری یاد میں جلتا ہوں

ایک الجھن رات دن پلتی رہی دل میں کہ ہم

کس نگر کی خاک تھے کس دشت میں ٹھہرے رہے

مزید دیکھیے