بقا بلوچ کی اشعار

536
Favorite

باعتبار

زندگی سے زندگی روٹھی رہی

آدمی سے آدمی برہم رہا

جسم اپنے فانی ہیں جان اپنی فانی ہے فانی ہے یہ دنیا بھی

پھر بھی فانی دنیا میں جاوداں تو میں بھی ہوں جاوداں تو تم بھی ہو

میں کنارے پہ کھڑا ہوں تو کوئی بات نہیں

بہتا رہتا ہے تری یاد کا دریا مجھ میں

تو خوش ہے اپنی دنیا میں

میں تری یاد میں جلتا ہوں

ایک الجھن رات دن پلتی رہی دل میں کہ ہم

کس نگر کی خاک تھے کس دشت میں ٹھہرے رہے

کیسا لمحہ آن پڑا ہے

ہنستا گھر ویران پڑا ہے

صرف موسم کے بدلنے ہی پہ موقوف نہیں

درد بھی صورت حالات بتا دیتا ہے

امن کے سارے سپنے جھوٹے

سپنوں کی تعبیریں جھوٹی

ہم نے جن کو سچا جانا

نکلیں وہ سب باتیں جھوٹی

گرمیٔ شدت جذبات بتا دیتا ہے

دل تو بھولی ہوئی ہر بات بتا دیتا ہے

درد اٹھا تھا مرے پہلو میں

آخر کار جگر تک پہنچا

ہر کوچے میں ارمانوں کا خون ہوا

شہر کے جتنے رستے ہیں سب خونیں ہیں

لوگ چلے ہیں صحراؤں کو

اور نگر سنسان پڑا ہے