Bayan Meeruthi's Photo'

بیان میرٹھی

1840 - 1900 | میرٹھ, ہندوستان

داغ کے ہم عصر، اردو اور فارسی میں شاعری کی، جدید شاعری کی تحریک سے متاثر ہوکر نیے انداز کی نظمیں بھی لکھیں

داغ کے ہم عصر، اردو اور فارسی میں شاعری کی، جدید شاعری کی تحریک سے متاثر ہوکر نیے انداز کی نظمیں بھی لکھیں

137
Favorite

باعتبار

یاد میں خواب میں تصور میں

آ کہ آنے کے ہیں ہزار طریق

ادائیں تا ابد بکھری پڑی ہیں

ازل میں پھٹ پڑا جوبن کسی کا

نہیں یہ آدمی کا کام واعظ

ہمارے بت تراشے ہیں خدا نے

ہزاروں دل مسل کر پیر سے جھنجھلا کے یوں بولے

لو پہچانو تمہارا ان دلوں میں کون سا دل ہے

یہ تاثیر محبت ہے کہ ٹپکا

ہمارا خوں تمہاری گفتگو سے

کبھی ہنسایا کبھی رلایا کبھی رلایا کبھی ہنسایا

جھجک جھجک کر سمٹ سمٹ کر لپٹ لپٹ کر دبا دبا کر

وہ پوشیدہ رکھتے ہیں اپنا تعلق

ادھر دیکھ کر پھر ادھر دیکھ لینا

شیخ کے ماتھے پہ مٹی برہمن کے بر میں بت

آدمی دیر و حرم سے خاک پتھر لے چلا

وہی اٹھائے مجھے جو بنے مرا مزدور

تمہارے کوچہ میں بیٹھا ہوں میں مکاں کی طرح

ہوائے وحشت دل لے اڑی کہاں سے کہاں

پڑی ہے دور زمیں گرد کارواں کی طرح

پار دریائے شہادت سے اتر جاتے ہیں سر

کشتیٔ عشاق کی ملاح بن جاتی ہے تیغ

نیرنگیاں فلک کی جبھی ہیں کہ ہوں بہم

کالی گھٹا سفید پیالے شراب سرخ

گوہر مقصد ملے گر چرخ مینائی نہ ہو

غوطہ زن بحر حقیقت میں ہوں گر کائی نہ ہو

اے تن پرست جامۂ صورت کثیف ہے

بزم حضور دوست میں کپڑے بدل کے چل

دل آیا ہے قیامت ہے مرا دل

اٹھے تعظیم دے جوبن کسی کا

وہ ہٹے آنکھ کے آگے سے تو بس صورت عکس

میں بھی اس آئینہ خانہ سے نکل جاؤں گا